سعودی سفارت خانے پر حملہ تاریخی حماقت تھی: ایرانی وزیر خارجہ

03:15PM Fri 5 May, 2017

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کے اوائل میں تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ "ایک تاریخی حماقت اور حملہ آوروں کی جانب سے غداری" تھی۔ انہوں نے یہ بات تہران میں ایرانی یومِ معلّم کے موقع پر "بین الاقوامی تعلقات" کے کالج میں اساتذہ سے خطاب کے دوران کہی۔ ظریف کے مطابق " ہم 5+1 ممالک کے گروپ کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے کہ دو اہم واقعات پیش آ گئے۔ ان میں پہلا سعودی سفارت خانے پر حملہ اور دوسرا خلیج میں دس امریکی فوجیوں کو قیدی بنانا۔ پہلے واقعے سے ہمارا نمٹنے کا طریقہ کار برا تھا جب کہ دوسرے معاملے سے اچھی طرح نمٹا گیا"۔

متوقع حملہ

ایرانی وزیر خارجہ نے پہلی مرتبہ انکشاف کیا کہ ایرانی قومی سلامتی کونسل (جس میں صدر حسن روحانی ، وزراء اور سپریم رہ نما علی خامنہ ای کے مندوبین شامل ہیں) کو سعودی سفارت خانے کے خلاف حملے کی توقع تھی۔ ظریف نے باور کرایا کہ " اگر یہ تاریخی حماقت جو کہ میرے نزدیک غداری ہے مرتکب نہ ہوتی تو آج حالات یسکر مختلف ہوتے"۔

مذمت اور معذرت

یاد رہے کہ تہران اور مشہد میں سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے پر ایرانی مرشد علی خامنہ ای کے قریبی شدت پسندوں کی جانب سے حملے کے نتیجے میں علاقائی اور عالمی سطح پر تنقید کا وسیع سلسلہ سامنے آیا تھا۔ اس حوالے سے سلامتی کونسل نے بھی مذکورہ دھاوے کی بھرپور مذمت کی تھی جب کہ سعودی عرب نے سلامتی کونسل میں ایران کی معذرت کو مسترد کر دیا تھا۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں 20 ملزمان کو پکڑا گیا جب کہ ایرانی نیوز ایجنسیوں نے تصدیق کی ہے کہ ان میں سے کئی کو رہا کر دیا گیا ہے جب کہ دیگر کے خلاف قید کی ہلکی سزاؤں کا فیصلہ جاری کیا گیا۔ ان میں 5 ملزمان کے خلاف 3 سے 6 ماہ قید کی سزا سنائی گئی جس کے جواب میں اپیل کر دی گئی اور اب یہ لوگ مقدمے کی سماعت دوبارہ شروع ہونے کے منتظر ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے دوسرے واقعے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کی حکومت نے دانش مندی سے کام لیتے ہوئے اُن دس امریکی فوجیوں کو رہا کر دیا جن کو پاسداران انقلاب نے خلیج کے سمندر میں قیدی بنا لیا تھا۔

کیمیائی حملے نے شام میں پیمانے بدل ڈالے

ظریف نے کہا کہ " ٹرمپ کے وہائٹ ہاؤس میں پہنچنے کے بعد بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ اندرونی مسائل میں مصروف رہیں گے اور بین الاقوامی بحرانات میں نہیں گُھسنا چاہیں گے۔ تاہم کیمیائی حملے کے واقعے نے معاملات کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا"۔ ظریف کے مطابق جارج بش جونیئر بھی صدارتی انتخابات جیتنے سے قبل بین الاقوامی بحرانات میں داخل نہ ہونے کا دعوی کرتے تھے۔