شوکت جمال کے گھر ایک ادبی نشست

03:51PM Sun 16 Nov, 2014

بھٹکلیس نیوز / 16 نومبر، 14 سعودی عرب / (رپورٹ: میم شین کامل)عالمی اردو مرکز (فرع الریاض) کے زیرِ اہتمامگزشتہ روز معروف ادبی شخصیت جناب شوکت جمال کی رہائش گاہ پر ایک ادبی محفل کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ڈاکٹر اقبال عجاز بیگ نے کی، مہمانِ اعزازی جناب گوہر رفیق تھے جبکہ نظامت کے فرائض میرفراست خسرونے انجام دئے۔ مختلف ادبی موضوعات اور حالاتِ حاضرہ پر سیرِ حاصل گفتگو کے بعد ، محفل میں موجود شعراء کرام نے اپنا کلام پیش کیا۔ صدرِ محفل نے اپنے برجستہ جملوں سے محفل کو زعفران زار بنائے رکھا۔ سنجیدہ شعراء جیسے ہشام سید اور حبیب صدیقی جو اکثر تقاریب میں سنجیدہ ہی رہتے تھے وہ آج بھرپور طریقے سے ہنستے مسکراتے اور کھلکلاتے نظر آئے۔قارئین کی دلچسپی کے لئے شعراء کے کلام سے چند منتخب اشعار حاضرِ خدمت ہیں۔ ہشام سیّد: درد دل میں بحال رکھا ہے ہم نے آنسو سنبھال رکھا ہے شدتِ غم میں بھی ہنسی آئی اپنے اندر کمال رکھا ہے صدف فریدی: میں کہ تقسیم رہا لوگوں میں آج خود اپنی ضرورت ہے مجھے تجھ کو دیکھا ہے تری ہار کے بعد جیت پر اپنی ندامت ہے مجھے میم شین کامل: زندگی کو بدگماں رکھا گیا فاصلہ اک درمیاں رکھا گیا کھینچ لی پاؤں تلے سے تو زمیں سر پہ خالی آسماں رکھا گیا حبیب صدیقی: ہوگئے ہیں تجھ پہ قابض فرقہ بندوں کے گروہ بٹ گئیں آبادیاں تفریق کی بنیاد پر کچھ بتا آخر کہ کس بستی میں جاکر بس گئے ترے وہ شہری کہ رہتے تھے باہم شیر و شکر ڈاکٹر شفیق ندوی: دوا سے کب کسی دستِ مسیحائی سے ہوتا ہے علاجِ غم جو اُس کی اک انگڑائی سے ہوتا ہے سمٹ کر کب تلک بیٹھے رہو گے کنجِ عجلت میں میسر کیا تمھیں اس دشتِ تنہائی سے ہوتا ہے جناب شوکت جمال نے اپنی دو مشہور نظمیں، ’’امدادِ باہمی ‘‘ اور ’’عقیقے کا گوشت ‘‘ سنا کر محفل کو زعفران زار کیا۔ مہمانِ اعزازی جناب گوہر رفیق نے ایک مختصر مگر شاندار تقریب پر صاحبِ تقریب جناب شوکت جمال کا شکریہ ادا کیا۔ تمام شعراء کے کلام کو سراہا اور فراست کی میزبانی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کو ہمیشہ سنتے رہنے کو جی کرتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر شمع محفل صدرِ تقریب جناب ڈاکٹر اقبال اعجاز بیگ کو پیش کی گئی۔ آپ نے اظہارِ خیال کچھ یوں کیاکہ فکری و عملی طور پر ہم معاشرہ کو بہتر بنانے کے لئے ارادہ تو کرتے ہیں لیکن معاشرہ جو کسی کو ہموار راستہ نہیں دیتا وہاں ہم کو کبھی راستے بنانے پڑتے ہیں اور کبھی طے کرنے پڑتے ہیں۔ مہینے یا بیس دن میں ایسی محفل ہوجائے تو تحریر سے تحریک پیدا ہوتی ہے جس سے ہم فعال رہتے ہیں۔ آپ نے تمام شعرا کے کلام کی تعریف کی اور صاحبِ محفل جناب شوکت جمال اور اہلِ خانہ کا اتنا بہترین اور پرتکلف عشائیہ دینے پر شکریہ ادا کیا۔ آخر میںآپنے کچھ نظمیں اور غزلیں پیش کیں جس کا کچھ حصہ قارئین کی نظر ہے۔ بھیڑ ہی میں دکھائی دیتے ہو لگتا ہے آجکل اکیلے ہو رستہ دیتے ہو آگے بڑھنے کا تم زمانے سے کتنے پیچھے ہو