مریخ پر زندگی کی تلاش کیلیے جانے والا روبوٹ آزمائش کے آخری مراحل میں داخل

01:56PM Sun 27 Mar, 2016

لندن: برطانیہ نے برونو نامی مریخی روبوٹ پر آزمائشی کام شروع کردیا ہے جو اگلے دو برس میں مریخ پر بھیجا جائے گا جو وہاں زندگی تلاش کرے گا۔ برونو نامی مارس روور کے 2 چھوٹے ساتھی بریان اور بریجٹ بھی تیار کیے گئے ہیں لیکن برونو کو آزمائشی مراحل کے اختتام پر 2 سال بعد مریخ کی جانب بھیجا جائے گا۔ روبوٹ کا اہم مقصد مریخی سطح کی تصویر کشی اور وہاں کی مٹی کا تفصیلی جائزہ لینا ہو گا جب کہ اسے برطانیہ کی سربراہی میں روس اور یورپی یونین کے ماہرین نے ایک ارب 34 کروڑ ڈالر کی خطیر رقم سے تیار کیا ہے۔ مریخ پر 14 مارچ کو ایک خلائی جہاز بھیجا جاچکا ہے جو مریخ پر تو نہیں اترے گا لیکن اس کے مدار میں رہتے ہوئے تحقیق کرے گا۔ لیکن 200 کلوگرام وزنی برونو مریخ کی سطح پر 2 میٹر گہری کھدائی کرکے اندر سے مٹی کے نمونے لے کر ان کا سائنسی تجزیہ کرے گا اس کے لیے ایک جدید لیبارٹری خود اس کے اندر نصب کی گئی ہے۔ اس سے قبل ناسا نے کامیابی سے مارس پر سوجرنر ، اوپرچونیٹی اور اسپرٹ جیسے خلائی روبوٹ مریخ پر بھیجے ہیں لیکن یہ نیا روبوٹ امریکا کی بجائے یورپ اور برطانیہ کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ اس کا جدید نظام مریخ پر اہم معدنیات، بہت پہلے مرنے والے جراثیم اور نامیاتی مرکبات تلاش کرے گا اور ایسی اشیا بھی جو زندگی کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ یہ روبوٹ ایک سیکنڈ میں 2 سینٹی میٹر آگے بڑھ سکتا ہے اور خود سے راستہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ واضح رہے کہ زمین اور مریخ کا اتنا فاصلہ ہے کہ زمین سے روبوٹ کو سگنل اور روبوٹ کے سگنل زمین تک پہنچنے میں 40 منٹ لگیں گے اس طرح روبوٹ کو زمین سے چلانے میں دقت پیش آسکتی ہے اسی لیے اسے ازخود چلنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ آزمائش میں اس نے 30 میٹر بلند اور 13 میٹر وسیع اونچے ٹیلے پر خود راستہ بناکر اپنی منزل تک پہنچا۔