دین اسلا م خلوص اور سلامتی کا ضامن!نواب تبریز رضا
04:27PM Mon 3 Apr, 2017
سہارنپو(بھٹکلیس نیوز) ملک میں بسنے والے چند افراد نہ جانے کیوں ہندومسلم اتحاد کے
دشمن بنے ہیں آزادی سے قبل کچھ کم اور آزادی مل جانیکے بعد یہ لوگ کچھ زیادہ ہی جوشیلے ہوگئے ہیں آج ملک میں یہی لوگ بھاجپا کی مرکزی اور ریاستی سرکار کے خلاف ہندو مسلم کے درمیان بلاوجہ کی کشیدگی پیدا کرنا چاہ رہے ہیں جو سازش کا حصہ بھر ہے ہم ایسے اقدام کی بھر پور مذمت کرتے ہیں ۔ مندرجہ بالا خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اودھ رائل گھرانہ کے چشم وچراغ نواب تبریز رضا نے آج کمشنری کے سینئر صحافیوں سے مختصر ملاقات کے دوران کہاکہ ہندوستان دنیاکا سب سے بہترین ملک ہے جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کو انکے مذہب کے اعتبار سے زندگی گزارنے کا پورا پورا آئینی حق حاصل ہے اور وہ کھلی فضاء میں اپنے مذہب کی تبلیغ کر سکتے ہیں مگر بدقسمتی سے کچھ طاقتیں یہاں رہنے والوں کے درمیان نفرت پھیلانے کا کام کر رہی ہیں ہمیں ان طاقتوں کو پہچاننا ہوگا اور آپس میں پیار و محبت سے رہتے ہوئے ان طاقتوں کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا،اودھ رائل گھرانہ کے چشم وچراغ نواب تبریز رضا نے کہا کہ ہم سب ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ہمیں مذہبی آزادی حاصل ہے بصورت دیگر اسلام کے نام پر بننے والا ملک پاکستان بدامنی کا شکار ہے اور وہاں مساجد بھی محفوظ نہیں ہیں جہاں نمازیوں کو گولی کا شکار بنا دیا جاتا ہے اور خواتین و بزرگوں کو سرے عام موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے ہمارا بھارت صوفیوں کا ملک ہے یہاں آپسی خلوص، بھائی چارہ اوررواداری ہمارے ملک کی مٹی میں شامل ہے نیز دین اسلام کی تعلیم بھی آپس میں اتفاق پید کرنے کی ہے اسلام تورنے والوں کو جوڑنے کا خھم دیتاہے اسلام بھی پیار و محبت کا پیغام عام کر رہاہے پھر یہ ہندو مسلم ، ذات برادری اور مسلکی اختلافات کیسے؟ بھارتیہ جنتاپارٹی کے یوتھ آئیڈیل نواب تبریز رضانے کہا کہ ہندوستان سے بہترین ملک دنیا میں کوئی نہیں ہے مسلمانوں نے ہمیشہ اس ملک کیلئے قربانیاں دی ہیں اور اب جبکہ یہ ملک تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے والوں کے ہاتھوں میں آگیا ہے ہمیں ایسے لوگوں کی سازشوں کو بے نقاب کرنا ہوگا نے کہا کہ ملک ایک کشتی ہے جس میں ہم سب سوار ہیں اگر کشتی میں سوراخ ہوگا تو سب ڈوب جائیں گے ہمیں اس سوراخ کا علاج کرنا ہوگا اور ہندو مسلم کے درمیان کے جھگڑے کو ختم کرنے کیلئے آج ہی سے ہم سبوں کو ایک ہونا ہوگا ہندو اور مسلمان بڑے و چھوٹے بھائی کی طرح ہیں دونوں بھائیوں کی ایک دوسرے کا خیال رکھنا ضروری ہوگیاہے اور وقت کے تقاضہ کے مطابق اب ترقی اور خوشحالی کی جانب بڑھنا ہوگا۔