بھٹکل اسارکیری میں نوجوانوں پر حملہ کے بعد حالات کچھ دیر کے لئے کشیدہ ؛ حملہ آوروں کے خلاف کیس درج
04:31AM Sun 20 Oct, 2013
بھٹکل اسارکیری میں نوجوانوں پر حملہ کے بعد حالات کچھ دیر کت لئے کشیدہ ؛ حملہ آوروں کے خلاف کیس درج
بھٹکلیس نیوز / 20 اکتوبر
بھٹکل / (رضوان گنگاولی) بھٹکل اسارکیری میں گزشتہ رات اس وقت حالات کشیدہ ہوگئے جب یہاں کے ایک غیر مسلم دکان میں بیٹھ کر ویڈیو دیکھ رہے اقلیتی فرقہ کے نوجوانوں کو زد و کوب کیا گیا اور انہیں گالیاں دی گئیں ۔ تاہم پولس انتظامیہ اور مجلس اصلاح تنظیم کے فوری اقدام کی وجہ سے معاملہ ٹھنڈا پڑگیا ۔ جس کے بعد بھٹکل تنظیم نے حملہ آوروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کیس درج کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق اسارکیری کے تین نوجوان جن کی شناخت عادل ، حسن اور نابغ کی حیثیت سے کی گئی ہے ایک غیر مسلم کی دکان میں کھڑے ویڈیو دیکھ رہے تھے جس پر ناراض مخالف گروہ نے ان پر حملہ کردیا اور ان کی دھلائی شروع کردی ۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی آس پاس کے نوجوان جمع ہونے شروع ہوگئے ۔ معاملہ کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سرکل انسپکٹر مسٹر بیلی ایپا اور اسسٹنٹ ایس پی مسٹر سدھیر ریڈی نے موقع واردات پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا اور حملہ آوروں کے خلاف کیس درج کیا ۔ حملہ آوروں کی شناخت نوین ، ہنومنت ، سری دھر، راما ، آننت اور ایشور کی حیثیت سے کی گئی ہے ۔
آسارکیری سے گزر رہی ایک اور بائک پر حملہ: اس واقعہ کو ہوئے چند ہی منٹ گزرے تھے کہ آسار کیری سے الگ الگ بائک پر جارہے تین نوجوانوں کی پٹائی کی گئی اور ڈنڈوں وغیرہ سے انہیں مارا گیا ۔ جن کی شناخت چوتنی کے مقیم عبدالرحیم شیخ ، محمد سعود شیخ اور فاروقی اسٹریٹ کے مسقتیم دامدا کی حیثیت سے کی گئی ہے ۔ اس سلسلہ میں بھی مذکورہ نوجوانوں نے بھٹکل پولس تھانہ پہنچ کر کیس درج کر دیا ہے ۔
ان واقعات کے بعد رات دیر گئے تک مقامی عوام نے تنظیم کے ذمہ داروں پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس معاملہ کو سنجیدگی سے لیں اور حملہ آوروں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کریں ۔ تا دم تحریری بھٹکل میں حالات پر امن ہیں اور جگہ جگہ پولس تعینات کی گئی ہے ۔ اسسٹنٹ ایس پی مسٹر سدھیر ریڈی نے تمام لوگوں سے صبر و ضطب کا مطالبہ کیا ہے ۔

