سیاسی رسہ کشی کا شاخسانہ ، سال رواں ایرانی عازمین کے سفر حج پر تذبذب

05:11AM Fri 13 May, 2016

تہران : مسلمانوں کے سالانہ فریضہ حج میں ایرانی عازمین کی شرکت کے نظم پر ایران اور سعودی عرب میں اتفاق رائے نہ ہونے سے دونوں طرف سے الزام اور جوابی الزام کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے ۔خیال رہے کہ اس سال حج ستمبر میں ہے۔ سعودی حکومت جہاں سیاسی مسائل کو حج سے منسلک نہ کرنے کا دعوی کررہی ہے، وہیں ایران کا الزام ہے کہ سعودی حکام عملی طور پر حج امور میں تعاون کرنے سے گریزاں ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری نے ایرانی عازمین حج کے سلسلے میں سعودی حکام کی جانب سے مبینہ عدم تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایرانی عازمین سفر حج نہیں کر پائے تو ان کے لئے حج کا راستہ بند کرنے کا ذمہ دار سعودی عرب ہو گا۔ واضح رہے کہ جنوری سے ایران میں سعودی سفارتخانے بند ہیں۔ ایسے میں ایرانی عازمیں کے سفر حج کے سلسلے میں گذشتہ ماہ ایک ایرانی وفد نے سعودی عرب جاکر چار دنوں تک بات چیت کی ،لیکن تعطل کی فضا اب بھی برقرار ہے۔ ایرانی ترجمان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب ویزا جاری کرنے کے علاوہ ٹرانسپورٹ ، ہوائی خطوط اور حجاج کی سیکورٹی اور سلامتی جیسے امور پر عملی تعاون کرنے سے گریز کررہا ہے۔پچھلے سال حج کے دوران بھگدڑ میں جو 2000 سے زیادہ غیر ملکی عازمیں حج ہلاک ہوئے تھے ان میں 464 ایرانی تھے۔ ایرانی وزیر ثقافت علی جنتی نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کو بتا یا کہ انتظامات نہ ہونے سے اب بہت دیر ہوگئی ہے۔بقول ان کے سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی عازمین حج ویزا کی درخواست داخل کرنے کے لئے کسی اور ملک کا سفر کریں ۔ ایران کا اصرار ہے کہ سعودی عرب تہران میں سوئیز سفات خانے کے ذریعہ ویزا جاری کرے ۔ یہ سفارت خانہ اس وقت سے سعودی مفادات کو دیکھ رہا جب سے سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلق توڑا ہے۔سعودی عرب میں ایک سرکردہ شیعہ عالم کو سزائے موت دینے کے بعد ایران میں احتجاجیوں نے سعودی سفارت خانوں کو تہس نہس کر دیا تھا۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی امور بشمول شام اور یمن کے تنازعات کے حوالے سے زبر دست اختلاف رائے ہے۔