دنیا دہشت گردی کی برائی سے نجات حاصل کرے: شاہ سلمان

04:00PM Mon 16 Nov, 2015

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جی-20 سمٹ میں اپنے خطاب میں دنیا کو دہشت گردی کی برائی سے جلد از جلد نجات دلانے کے ضرورت پر زور دیا ہے۔ سعودی خبر رساں ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق وہ ترکی میں ہونے والے جی-20 کے سربراہی اجلاس میں سعودی عرب کے وفد کی قیادت کر رہے تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں تیز کرے کیونکہ اس سے 'دنیا کا امن اور سیکیورٹی' شدید خطرے میں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 'دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری عالمی برادری کی ذمہ داری ہے۔' اپنے خطاب میں سعودی فرمانروا نے 'اقوام متحدہ کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بین الاقوامی سینٹر' قائم کرنے کی تجویز دی۔ یہ مجوزہ سینٹر دہشت گردی پر تحقیق کے ساتھ انٹیلیجنس پر مبنی معلومات کے تبادلے کا مرکز ہو گا۔ سعودی عرب نے اس سینٹر کے لئے پہلے ہی 110 ملین ڈالر کا عطیہ دیا ہے۔ انہوں نے دوسرے ملکوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ سینٹر کے فنڈ میں عطیات دیں۔ خادم الحرمین الشریفین نے پیرس میں ہونے والے حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام معصومیت کا دین ہے۔ ان کا ملک بھی دہشت گردی کے واقعات سے متاثر ہو رہا ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے شامی بحران کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادی اس کا فوری حل تلاش کرنے کے لئے کام کرے۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا کہ شامی تنازعہ پر گفتگو اس بات کی متفاضی ہے کہ اس بحران کا حل تلاش کیا جائے اور شامی عوام کو اپنے ملک میں عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کے حق کو تسلیم کیا جائے۔ بین الاقوامی برادری کی اس تنازع کا حل تلاش نہ سکنے کی سزا شامی عوام بھگت رہے ہیں۔ قبل ازیں امریکی صدر براک اوباما نے جی-20 سمٹ کی سائیڈ لائن پر شاہ سلمان سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے شام کی اعتدال پسند اپوزیشن اور عراقی حکومت کی داعش کے خلاف جنگ میں حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ تاہم ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ امریکا، شمالی شام میں قلیل تعداد میں اپنے فوجی بھیجنے اور داعش کے خلاف فضائی حملوں میں تیزی لانے کے ساتھ تنازع کے حل کے لئے مزید کتنی سنجیدہ کوشش کرنے کو تیار ہے۔