طالبان سے بات چیت ہوسکتی ہے تو کشمیر کی تنظیموں سے کیوں نہیں : عمر عبداللہ
12:31PM Fri 9 Nov, 2018
Share:
نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبد اللہ نے روس میں ہندوستان اور طالبان میں ہونے والی نان آفیشیل سطح کی بات چیت پر مودی حکومت پر زوردار حملہ کیا ہے۔ عمر عبداللہ نے ٹویٹ پر لکھا کہ اگر مودی حکومت کو طالبان کے ساتھ نان آفیشیل سطح پر بات چیت منظور ہے ، تو جموں و کشمیر میں مین اسٹریم سے الگ تنظیموں کے ساتھ نان آفیشیل بات چیت منظور کیوں نہیں ؟ جموں کو کشمیر کی چھینی ہوئی خودمختاری اور اس کی بحالی پر نان آفیشیل بات چیت کیوں نہیں ۔
عمر عبداللہ کے ٹویٹ پر بی جے لیڈر نلن کوہلی نے پلٹ وار کیا ہے۔ نیوز 18 سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمر سوشل میڈیا کی بنیاد پر چلتے ہیں ، وہ جو خبر دیکھتے ہیں اس پر ٹویٹ کردیتے ہیں ، جو پتھر باز ہیں ، اس کو ان کی پارٹی حب الوطنی کے نظریہ سے دیکھتی ہے، یہ ان کا اپنا نظریہ ہے ، لیکن یہاں سنگین مسائل ہیں اور اس پر کام کرنے کیلئے سبھی لوگ کام کررہے ہیں ، گورنر ہیں وہاں پر ، افسران ہیں ، سب لوگ ہیں ۔
دراصل افغانستان میں امن بحالی کیلئے آج ہندوستان پہلی مرتبہ طالبان کے ساتھ اسٹیج شیئر کرے گا ۔ یہ بات چیت روس کے ماسکو میں ہونے جارہی ہے۔ ہندوستان اس بات چیت میں نان آفیشیل سطح پر شامل ہوگا ۔ ہندوستان کے علاوہ پاکستا ن ، چین ، ایران اور امریکہ بھی بات چیت میں شامل ہوسکتے ہیں ۔