وزیرِ اعظم نریندر مودی عالمی سطح پر طاقتور لیڈر کی حیثیت سے ابھر رہے ہیں؟: مسلم فورم

12:47PM Thu 14 Apr, 2016

علی گڑھ13؍اپریل: (پریس ریلیز) علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد شبیر نے دنیا کے دو ممالک امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ اور عرب ممالک میں امریکہ کی دخل اندازی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے ہمارے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اپنے باوقار شہری اعزاز سے سرفراز کیاجانا ایک تاریخی عمل ہے لیکن وزیرِ اعظم نریندر مودی کو ملک کی داخلی صورتِ حال اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پر باریک نظر رکھنی چاہئے تاکہ ان کی شخصیت میں مزیدنکھار پیدا ہوسکے۔ پروفیسر محمد شبیر آج مزمل منزل کامپلیکس میں واقع میڈیا سینٹر پر فورم فار مسلم اسٹڈیز اینڈ اینالائسس( ایف ایم ایس اے) کے زیرِ اہتمام’’ کیا وزیرِ اعظم نریندر مودی عالمی لیڈر کی حیثیت سے ابھر رہے ہیں؟‘‘ موضوع پر منعقدہ’’ چائے پر گفتگو‘‘ پروگرام کو خصوصی مقرر کی حیثیت سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کا سعودی عرب میں ہونے والا اعزاز ہر ہندوستانی کا اعزاز ہے اور یقینِ کامل ہے کہ اس اعزاز کے بعد ملک کی داخلی صورتِ حال میں بھی مثبت خوش آئندتبدیلی واقع ہوگی جو ملک کے بہتر مستقبل کی بھی ضامن ہوگی۔ ایف ایم ایس اے کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ملک کو ایک نیا اقتصادی منصوبہ دیا جو کہ محروم طبقات کے فروغ کی سمت میں ایک اہم اقدام تھا اور اس کا اثر عالمی سطح پر ان کی شبیہہ پر پڑا اور نتیجہ کے طور پر دنیا کے بڑے ترقی یافتہ ممالک جیسے امریکہ وغیرہ انہیں نظر انداز نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دہشت گردی کو ختم کرنے کے عزمِ مصمم نے انہیں عالمی سطح کا ایک طاقتور لیڈر بنادیا۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ اقتدار کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد مسٹر نریندر مودی نے ایک نئی خارجہ پالیسی پر کام شروع کیا جس کا اصل مقصد اپنے ہمسایہ ممالک کو اہمیت دینا اور مغربی ممالک سے برابری کی سطح پر رشتے استوار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان ایک امن پسند ملک ہے لیکن وہ اپنے مفادات اور تحفظ کے ساتھ سمجھوتا نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت وزیرِ اعظم نریندر مودی دنیا میں ایک طاقت ور امن پسندلیڈر کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ کے رکن پروفیسر ہمایوں مراد نے کہا کہ2014کے پارلیامانی انتخابات کے نتیجہ میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا میں متعدد سماجی و سیاسی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک دور اندیش اور امن پسند حکمراں ہیں۔پروفیسر مراد نے کہا کہ وزیرِ اعظم کو ملک کے داخلی معاملات پر خصوصی توجہ مبذول کرنی چاہئے کیونکہ ملک میں ہونے والے فرقہ وارانہ حادثات اور فرقہ پرستی پر مبنی ان ہی کی جماعت کے کچھ لیڈران کے بیانات سے ملک کی شبیہہ پر ہی منفی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں بلکہ وزیرِ اعظم کے امن اور ترقی کے منصوبہ کو بھی زک پہونچ رہی ہے۔ ڈاکٹر محمد شاہد نے کہا کہ اپنے قلیل دورِ اقتدار میں وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی نے ہندوستان کی تہذیب و ثقافت اور زبان کو بھی عالمی منظر نامہ پر قائم کیا ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ میں ہندی میں تقریر کرکے دنیا کو ہندوستان کے احترام کا درس دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کو اپنی جماعت کے ان عناصر پر روک لگانی چاہئے جو اپنے بیانات سے سماجی تناؤپیدا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد فاروق نے کہا کہ جس طرح وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی نے عالمی سطح پر یوگا کی ترویج و اشاعت کی جس کے نتیجہ میں دینا کے تمام ممالک جن میں اسلامی ممالک بھی شامل ہیں، نے یومِ یوگا کا انعقاد کیا وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کی دور اندیشی کا مظہر ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر دیبا ابرار نے کہا کہ حال ہی میں سعودی عرب نے ہمارے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو اپنے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے سرفراز کیا ہے جس کا تمام اسلامی دنیا میں مثبت پیغام نشر ہوا ہے۔ این جمال انصاری نے کہا کہ گجرات 2002کے فسادات کے بعد جس طرح وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اپنی شبیہہ کو مثبت سمت دی ہے اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کے اپنے عہد کو زمینی سطح پر نافذ کیا ہے اس سے بھی عالمی سطح پر ان کی شبیہہ روشن ہوئی ہے۔ پروگرام میں دیگر مفکرین اور دانشوروں کے علاوہ ڈاکٹرجی ایف صابری، اقبال اور ڈاکٹر غضنفر نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ’’ چائے پر گفتگو‘‘ کے بعد مسلم فورم نے اتفاقِ رائے سے ایک تجویز پاس کرکے وزیرِ اعظم مسٹر نریندر مودی کو سعودی عرب کی جانب سے دئے جانے والے سعودی عرب کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز کے حصول پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہندوستان کے لئے باعثِ مسرت امر ہے کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی عالمی سطح پر ایک طاقتور، پُر عہد اور منصف لیڈر کی حیثیت سے ابھر رہے ہیں جنہیں مسلم ممالک کا بھی اعتماد حاصل ہے۔ اس موقع پر دا علی گڑھ موومینٹ کے خصوصی شمارہ کا اجراء بھی عمل میں آیا جس میں وزیرِ اعظم نریندر مودی اور صوفی کانفرنس کی اہمیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔