خامنہ ای نے حملے کو بتایا امریکہ کے لئے ’ طمانچہ‘، ایرانی فوج بولی۔ اس سے بھی بڑا حملہ کریں گے
03:07PM Wed 8 Jan, 2020
تہران۔ عراق میں امریکی ائیربیس پر ایران کے میزائل حملے کے بعد وہاں کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے ملک سے خطاب کیا۔ خامنہ ای نے میزائل حملے کو بڑی کامیابی بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی داداگیری کے خلاف ایران نے حملہ کیا ہے۔ ہمارا حملہ کامیاب رہا۔ یہ حملہ امریکہ کے منھ پر طمانچہ ہے۔ ادھر خامنہ ای کے اس بیان کے بعد ایرانی فوج نے بھی ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ اگر امریکی فوج ہمارے میزائل حملے کا جواب دینے کی کوشش بھی کی تو ہم ایک اور بڑا حملہ کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ادھر اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا کہ اگر ایران نے اسرائیل کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھا تو وہ ’ مہلک‘ حملے کے لئے تیار رہے۔
بتا دیں کہ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق میں امریکی اڈے پر حملے میں ’ 80 امریکی دہشت گرد‘ مارے گئے ہیں جبکہ 200 سے بھی زیادہ بری طرح سے زخمی ہو گئے ہیں۔ حالانکہ ایران کے ان دعوؤں کی امریکہ نے ابھی تک کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔
آیت اللہ خامنہ ای نے اللہ کا نام لیتے ہوئے کہا ’ آج امریکی بیس پر ایران کے بہادر اور جرات مند فوجیوں نے کامیاب حملہ کیا۔ ہمارا حملہ مسلسل جاری ہے اور ہم طاقتور طاقتوں کے خلاف حملے کے لئے متحد ہو رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ایران کبھی کمزور نہیں پڑنے والا ہے۔ یہ کبھی ہار بھی نہیں ماننے والا ہے۔ ایران کے ساتھ جو ہوا ہم اس کو کبھی نہیں بھولیں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ جمعہ کو امریکہ کے ڈرون راکٹ حملے میں ایران کی پاسداران انقلاب اسلامی کی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے مارے جانے کے بعد سے ہی پورے خلیجی خطے میں کشیدگی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی فوجی اڈوں پر حملے سلیمانی کی موت کا انتقام بتایا جا رہا ہے۔ عراق میں امریکہ کے پانچ ہزار سے زائد فوجی تعینات ہیں جنہیں نشانہ بنا کر ایران نے یہ حملہ کیا ہے۔