راہل گاندھی کا الزام ، رافیل ڈیل میں وزیر اعظم کی دخل اندازی پر وزارت دفاع بھی کرچکا ہے اعتراض

12:13PM Wed 2 Jan, 2019

پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں بدھ کو لوک سبھا میں رافیل ڈیل پر بحث کے دوران کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر جم کر نشانہ سادھا اور کئی الزامات عائد کئے ۔ بحث کی شروعات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ایک مرتبہ پھر سے کہا یہ ڈیل صحیح طریقہ سے نہیں کی گئی ۔انہوں نے مودی حکومت پر کئی سوالات بھی کھڑے کئے اور ڈیل کے پروسیس پر بھی انگلی اٹھائی ۔ ساتھ ہی ساتھ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا ہے کہ رافیل معاملہ میں جے پی سی نہیں بن سکتی ہے ۔ جانچ نہیں ہوسکتی ہے۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کو رافیل کی بات چیت میں دخل نہیں دینا چاہئے ۔
 پاریکر کے آڈیو ٹیپ پر راہل گاندھی نے کہا کہ گوا کے وزیر اعلی نے کہا ہے کہ میرے پاس رافیل کی کی پوری فائلیں پڑی ہیں ۔ میرے گھر میں ساری فائلیں ہیں اور پورا سچ رکھا ہے۔ اس پر اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ آپ گوا کے وزیر اعلی نہیں بلکہ سابق وزیر دفاع کہہ سکتے ہیں ۔ راہل گاندھی نے پھر حکومت ہند کے وزیر دفاع کا نام لیتے ہوئے اپنی بات پیش کی ۔راہل گاندھی نے مزید کہا کہ رافیل کی بات جب شروع ہوئی تو ہمیں لگا کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔ دو سال بعد پتہ چلا کہ دال میں کچھ کالا نہیں ، بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔
 راہل گاندھی کے بعد وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے جواب دیا اور راہل گاندھی پر جم کر نشانہ سادھا ۔ انہوں نے کہا کہ رافیل کو لے کر گزشتہ چھ مہینوں میں جو بھی کہا گیا ، ابھی اس ہاوس میں جو کہا گیا ، وہ سب جھوٹ ہے۔