پروفیسر منظور الامین کی رحلت پر اردو یونیورسٹی میں تعزیتی نشست
03:00PM Fri 3 Mar, 2017
حیدرآباد، (بھٹکلیس نیوز)اردوکے ممتاز ادیب، شاعر، صحافی اور دور درشن کے سابق ڈائریکٹر جنرل دہلی پروفیسر منظور الامین کا آج صبح انتقال ہوگیا۔اس سانحے پر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے اپنے گہرے تاسف کا اظہار کیااورکہاکہ اردو یونیورسٹی کی اکیڈیمک کونسل کے رکن کی حیثیت سے وہ اس منفرد درسگاہ کے استحکام اور ترقی کے لیے ہمیشہ فکرمندر رہے۔ اُن کی خدمات یونیورسٹی ہمیشہ یاد رکھے گی۔ پروفیسر منظور الامین کے سانحہ ارتحال پر شعبہ ترسیل عامہ وصحافت، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ پروفیسر احتشام احمد خان، ڈین اور صدر شعبہ نے اس اجلاس کی صدارت کی۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پروفیسر منظور الامین شعبہ ترسیل و صحافت کے ساتھ شروع سے وابستہ رہے۔ وہ شعبے کے بورڈ آف اسٹڈیز کے علاوہ اسکول بورڈ کے رکن اور شعبے میں وزیٹنگ فیکلٹی بھی رہے اور شعبے کی ترقی کے لیے ہر وقت اپنا دست تعاون دراز رکھا۔ پروفیسر احتشام احمد خان نے منظور الامین کے انتقال کو اپنا ذاتی نقصان قرار دیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ اُن کی رہبری و رہنمائی کرتے تھے اور صحافت کے طلبا کی رہنمائی کے لیے تیار رہتے تھے۔منظور الامین صاحب کے انتقال پر منعقدہ تعزیتی اجلاس میں شعبہ ترسیل عامہ وصحافت کے اساتذہ محمد مصطفی علی سروری، ڈاکٹر محمد فریاد اور حسین عباس رضوی کے علاوہ طلبا نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی اور پروفیسر منظور الامین کے حق میں دعائے مغفرت کی گئی۔پروفیسر منظور الامین تقریباً چھ دہائیوں تک ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعہ عوام کی خدمت کرتے رہے۔ انہوں نے اپنی ملازمت کا غاز دکن ریڈیو حیدرآباد سے کیا اور پھر آل انڈیا ریڈیو کے کئی اسٹیشنوں پر ممتاز عہدوں پر فائز رہے۔ دور درشن پر بھی انہوں نے مختلف عہدوں کی ذمہ داری سنبھالی اور ڈائرکٹرجنرل دور درشن کے عہدے سے وظیفہ یاب ہوئے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بڑی تعداد میں فیچر، ڈرامہ، خاکہ ،میوزیکل فیچر اور بیلے لکھے اور پروڈیوس کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے موضوعاتی نظمیں اور طنزیہ و مزاحیہ مضامین بھی تحریر کیے۔