ادب سلسلہ‘ اپنی انفرادیت کی وجہ سے عالمی شہرت کا حامل ہے

12:21PM Wed 13 Jul, 2016

 الہ آباد۔بزم یاراں‘ کے زیر اہتمام گذشتہ روز سولہ مارکٹ واقع ادب گھر میں ’ادب سلسلہ(سہ ماہی) ‘ کے رسم اجراء اور منعقد مشاعرہ میں خطاب کرتے ہوئے خصوصی مہمان ڈاکٹر اشفاق حسین نے کہا کہ یہ ادب کی تاریخ میں پہلا رسالہ ہے جس نے اپنی انفرادیت کی وجہ سے اردو ادب میں اتنی جلدی اپنا مقام بنا لیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ادبی جہت کے علاوہ سیاسی،سماجی اور مختلف موضوعات پر مثلاًآر ایس ایس کے مسلم دشمن جیسے ایجنڈوں اور موجودہ ملک کے حالات پرکھل کر بات کرتا ہے اور احتجاجی ادب پر بے باکی سے مقابلہ کرتا ہے۔ ڈاکٹر اشفاق نے کہا کہ’ ادب سلسلہ ‘ اپنی بے باکی کے سبب روز افزوں عالمی شہرت حاصل کر رہا ہے ۔ اعزازی مہمان کی حیثیت سے شریک اسرار گاندھی نے کہا کہ۲۱؍ویں صدی میں بے شمار رسالے نکلے لیکن کچھ رسالے مالی بحران کی وجہ بند ہوگئے اور کچھ مسلکی خلفشار اور آپسی انتشار کے سبب بند ہوتے جا رہے ہیں ۔لیکن ادب سلسلہ ایک ایسا رسالہ ہے جسے دیکھنے کے بعد لگا کہ یہ واحد رسالہ ہے جو گروپ بندی سے پاک ہے ۔در اصل اس رسالہ سے بڑے بڑے آزاد خیال خیال کے ادیب وابستہ ہیں مثلاً مشرف عالم ذوقی اور تبسم فاطمہ وغیرہ اس رسالہ کی نگراں ہیں ۔انھوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس رسالہ میں قلمی اور مالی تعاون کرکے محمد سلیم نے اس ادب کے کارواں کو آگے بڑھا دیا ہے۔مشاعرہ کی صدارت میں شریک ساگر ہوشیار پوری نے کہاکہ یہ بہت معیاری اور ۳۲۰؍ صفحات کا ضخیم رسالہ ہے اور اس رسالہ میں ہر قسم کے رنگ برنگے پھول ہیں اور مذہبی منافرت سے پاک ہے۔ رسالہ کے مدیر محمد سلیم علیگ نے کہا کہ’ ادب سلسلہ‘ رسالہ جب شائع کرنے کی جب بات سامنے آئی تو سب سے پہلا سوال میرے ذہن میں آیا کہ آخر ہندوستان سے نکلنے والے اتنے زیادہ رسالوں کے درمیان ایک اور رسالہ کا اضافہ کیوں ؟ ایک جواب تو یہ تھا کہ ادبی رسائل کی بھیڑ میں ایسے رسائل کم ہیں جو سنجیدہ قاری کی توجہ اپنی طرف مائل کریں ۔زیادہ تررسالے ایسے ہیں جن کے پاس کوئی مقصد نہیں ہے۔لہٰذا میں ایک ایسا رسالہ نکالنا چاہتا تھا جو اردو ادب کے ساتھ اکیسوی صدی کی سیاسی، سماجی وثقافت کی بھی ترجمانی کرسکے۔ایک اور اہم سوال سامنے تھا کہ ادب کی ذمہ داری کیا ہے۔کیا ادب کی کوئی بڑی ذمہ داری نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ابھی حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ واریت،عدم تحمل اور عدم رواداری کو لیکر ایک بڑا تنازعہ سامنے کروٹیں بدل رہا ہے۔ تمام ملک کے دانشور ان،ادبا، شاعروں، سائنسدان، تاریخ داں اور صحافیوں نے اپنے اپنے انعامات واپس کیے۔ان واقعات کے پسِ منظر اگر ہم دیکھیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ادب سے آج بھی بڑے بڑے انقلاب کی امید کی جا سکتی ہے۔اسی کے ساتھ ایک مشاعرہ کا بھی انعقاد ہوا ۔جس کی نظامت بختیار یوسف ایڈوکیٹ نے کی۔انھوں نے دوران نظامت ادب سلسلہ رسالہ کی بے حد ستائش کی۔اور کہا کہ دہلی سے نکلنے والا ادبی رسالہ عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کر چکا ہے جو موجودہ دور میں حیرت انگیز ہے۔اسی کے ساتھ طنز و مزاح نگار فضل حسنین نے چند اشعار کوڈ کر کے اپنی بات مکمل کی۔شعرا میں ،ساگر ہوشیار پوری، شکیل غازی پوری، ظفر سعید جیلانی، فرمود الہ آبادی، وپن دلکش، واقف انصاری، نظام حسن پوری،ڈاکٹر نعیم ساحل،طارق جعفر، صلاح الدین غازی پوری،راکیش دلبر ، جلال پھول پوری، شاہد علی شاہد،ڈاکٹر شہنواز عالم،سہیل اختروغیرہ نے بہترین اشعار سنائے۔آخر میں شکریہ کی رسم سلیم انصاری نے ادا کیا۔شرکامیں احسان اللہ انصاری،سلمان احمد خان حافظ شارق،محمد ناظم ،ندیم وغیرہ نے شرکت کی۔ فوٹوکیپشن:ادب سلسلہ کتاب کی رسم اجراء کرتے ڈاکٹر اشفاق حسین ،اسرار گاندھی ،محمد سلیم اور بختیار یوسف کو دیکھا جا سکتا ہے