اربوں کی وقف املاک کی تباہی اور بربادی کے اصل مجرم آج تک آزاد کیوں؟
04:22PM Mon 3 Apr, 2017
سہارنپور۔بھٹکلیس نیوز) ریاست میں ماہ مئی ۲۰۱۲ کے بعد سے نئی وزارت قائم ہوجانیکے بعد ہی سے وقف مفیاؤں نے سہارنپور ، میرٹھ، مراد آباد اور بریلی کمشنری میں قائم وقف کی اربوں کی املاک کو خرد برد کرلینیکا کا جو شرمناک پلان بنایاتھا ریاستی سنی سینٹرل وقف بورڈ کے عملہ اور وزارت اوقاف کی مدد کے بعد ماہ فروری ۲۰۱۷ تک اس پلان کے تحت اربوں کی املاک کو خرد برد کرتے ہوئے بہ آسانی مکمل کر لیاگیاہے جو قوم کیلئے ایک بڑا زخم ہے؟ آپکو بتادین کہ سماجوادی سرکار کے سابق چیف سیکریٹری آلوک رنجن نے اپنی تعیناتی کے درمیان ایک سال کی مدت میں اتر پردیش کے سبھی ضلع مجسٹریٹ کو بار بار وقف املاک پر کڑی نگاہ رکھنے کی سخت ہدایت دی تھی آلوک رنجن نے صاف الفاظوں میں کہا تھاکہ صوبے میں کسی بھی طرح سے سرکاری املاک کے ساتھ ساتھ وقف اور قبرستان کی زمینوں پر ناجائز قبضے نہیں ہونے دےئے جائیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ ر یاستی وزارت اوقاف ،سنی سینٹرل وقف بورڈ لکھنؤ کے صدر اور انکے عملہ کے چند ملازمین و ذمہ دارانجو لگاتار اپنی سیاسی طاقت کے نشہ میں گزشتہ۲۵ سالوں سے مغربی یوپی کے تیس سے زائد اضلاع میں اربوں روپیوں کی وقف املاک کو خرد برد کرکے ناجائز قبضے اور ناجائز تعمیرات کرا چکے ہیسابق چیف سیکریٹری دیپک سنگھل بھی گزشتہ عرصہ میں لگاتار غیر قانونی طور سے وقف کی املاک کو خرد برد کردینیکے غیرقانونی عمل کو فوری طور سے بند کرائے جانے پر زور دیتے رہے ہیں اور آپ بھی سرکاری املاک کے ساتھ ساتھ وقف اور قبرستان کی زمینوں پر ناجائز قبضہ جلد از جلد ختم کرائے جانیکے حق رہے ہیں مگر اسکے بعد بھی علاقائی محکمہ اقلیتی امور، مقامی تحصیلدار اور وقف ملازمین کے ساتھ ساتھ سماجوادی پارٹی کے چند با اثر قائدین اس غیر قانونی کام سے خد کو علیحدہ نہی کر پائے ہیں وقف املاک کو تباہ کرنیکا یہی بڑا بیہودہ قدم ہیکہ جو کرائم کے زمرے میں آتاہے نہ ضلع مجسٹریٹ بھی ان معاملات پر خاموش کیوں رہے ہیں سہارنپور ، مراد آباد، بریلی اور میرٹھ کمشنری کے تیس کے قریب اضلاع میں کئی سو کروڑ کی وقف املاک خرد برد کیجا چکی ہیں،ایک معمولی تجزیہ کے مطابق سہارنپور ہی میں پرانی عید گاہ کی جائداد ، جامع مسجد کلاں کے سامنے بڑی مظاہر علوم کی جائداد ، مانک مؤ عید گاہ پل کے نیچے والی جائیداد، پراگ پور قبرستان ( ۲۵ بیگھہ قیمتی زمین پر پکی تعمیرات بن چکی ہیں مگر حکام تماشائی بنے ہوئے ہیں وقف قبرستان کے سیکریٹری شمیم انصاری ہائی کورٹ سے ناجائز قبضہ ہٹوانے کے آڈر بھی لیکر آئے مگر آبھی مافیاؤں کا قبضہ لگاتار جاری) ، باباقطب شیر صاحب ؒ ، بابا شاہ نور صاحب ؒ کی کروڑوں کی بیش قیمتی جائیداد اور اسی طرح دیگر قیمتی جائیداد کو ان افراد نے اپنے قبضہ میں لیکراور موٹی پگڑیاں لیکر ان جائیداد پر غلط طور سے قبضہ دیدئے ہیں اوروقف جائیدادوں سے ملنے والی رقم کی گھروں میں بیٹھ کر بندر بانٹ کی جا رہی ہے شہر کے چند ذمہ دار لوگوں نے الزام لگایا کہ ان تمام معاملات کے پیچھے ایک اثردار بر سر اقتدار پارٹی لیڈرکا بڑا ہاتھ ہے انہیں کے گھر بیٹھ کر یہ سب پلاننگ ہوتی ہے لاکھوں میں وقف کی دکانوں کو پگڑی میں دے کر وقف املاک کو کروڑوں روپے کا نقصان جان بوجھ کر پہنچایاجارہا ہے۔ عوام کے ذمہ دار لوگوں نے بتایا کہ جلدہی وقفاملاک کی مقامی تنظیم کے عہدیداران اور ملت اسلامیہ کا درد رکھنے والے حضرات کو دعوت دے کر پنچایت بلائی جائے گی اور وقف املاک کو خرد برد کرنے والوں کے نام اور ان کے کارنامے منظر عام پر لائے جائیں گے۔ کچھ افراد نے صاف الزام عائد کیاہے کہ جامع مسجد کلاں کے سامنے پرانی سبزی منڈی پر جو جگہ مظاہر علوم وقف کی تحویل میں تھی اس میں دکانات کے نام پر۸۰؍لاکھ روپے وصول کرکے ان زمین مافیاؤں نے ہڑپ لیا گیا ہے۔ اسی طرح مانک مؤ کے راستہ والے ریلوے پل کے نیچے وقف کی زمین پر ایک ایک دکان سات سات لاکھ روپے لے کر دے دی گئی ہے اس گروہ پر یہ بھی الزام لگایا گیاہے کہ وقف جائداد کی کمیٹیوں میں شامل حضرات با اثر لوگوں کے ساتھ مل کر غیر مسلموں کووقف کی جائداد یں لگاتار فروخت کر رہے ہیں۔ مگر سبھی ذمہ داران اتنابڑا کرائم کرنے کے باوجود بھی خاموش بیٹھے ہیں ۔ ہمارے ملک کی یہ تہذیب رہی ہے کہ مسلم وقف جائیدادوں کے معاملات میں اوقاف کا وزیر اور اوقاف کاصدر کسی بھی جماعت یا برادری کا ہو سبھی کی نظر وقف کی عربوں روپیہ کی قیمتی املاک پر ہی ہوتی ہے نتیجہ کے طور پر وزارت اوقاف اور سنی سنٹرل وقف بورڈ کی سازباز کے نتیجہ میں صرف ہماری ریاست اتر پردیش ہی میں آج تک سینا تان کر ہمارے اکابرین کی دوسو سال پرانی عربوں روپیوں کی جائیدادیں تلف کردیگئی ہیں سرکار کسی کی بھی ہو مسلم اوقاف کی مفت پڑی جائیدادوں پر سبھی نے ہاتھ صاف کیاہواہے بقول شیعہ قائد مولانا کلب جواد ریاستی وزارت اوقاف ہی پلاننگ کرکے ہمارے بزرگوں کی وقف املاک کو نیست نابود کرنے پر تلی ہے گزشتہ تیس ستمبر کو لکھنؤ میں ایک اہم تقریب میں قابل قدر شیعہ عالم نے کہاکہ سرکار اگر ایماندار ہے تو اوقاف کی ذمہ داری شیعہ اور سننی علماء کرام کو سونپ دے تاکہ وقف جائیدادوں کی تباہی کو روکا جاسکے؟ قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ اسی ضمن میں سال کے آخر میں الہٰ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ کے قابل قدر جسٹس جناب دنیش مہیشوری جسٹس جناب اننت کمار نے لکھنؤ کے مال روڈ واقع عظمت اسلامیہ قبرستان پر ناجائز قبضہ داروں کوہی اصل اور جائز کرایہ دار تسلیم کرنے کے محکمہ اوقاف کے غیر ذمہ دارانہ فیصلہ کے خلاف زبردست ریمارکس دیتے ہوئے وزارت اوقاف اور وقف بورڈ سے اس ضمن میں وضاحت پانچ جنوری ۲۰۱۶تک پیش کرنے کاحکم فرمایاتھا جسکی بورڈ ابھی تک تکمیل کرپانے اور قابل احترام عدلیہ سچائی بتانے سے جان بوجھ کر بچتا آرہاہے ریاست کی راجدھا نی لکھنؤمیں جب وقف املاک کی یہ حالت ہے تبریاست کے دیگر اضلاع میں کہ جہاں اوقاف کے زمین مافیاء قبضہ داروں نے زیادہ تر قبرستانوں کو توڑ کر اور وہاں دوسو سال پرانی قبروں کو صاف کر دیا ہے ،مسجدوں کی اور عید گاہوں کی زمینوں کو بھی وزارت اوقاف اور بورڈ کی شہ پرمارکیٹ اور کمپلیکس میں تبدیل کرکے کروڑوں روپیہ ہضم کر لیا گیاہے !دیگر اوقاف کی صورت حال کیا ہوگی عام شہری اس کا اندازہ بھی نہی لگا سکتے ہیں مگر بھلاہو عدلیہ کا کہ اسنے قوم کے درد کو محسوس کرتے ہوئے وقف بورڈ سے صفائی طلب کی ہے ریاستی سطح پر سماجوادی پارٹی کے کتنے ہی لیڈرس پر وقف کی زمین کو خرد برد کرنے کا سنگین الزام لگتے آرہے ہیں مقامی افسران بھی ایسے افراد سے خوب واقف ہیں کچھ افراد نے ایسا کرنے والے اور ناجائز قبضہ کرنے والوں کے خلاف مہم چلانے کا اعلان بھی کیا تھا مگر آج وہ بھی اسی سیاسی جماعت کے ذمہ دار بن چکے ہیں سوال یہ ہے کہ اب ہمارے اربوں کی وقف جائیدادوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ سہارنپور شہر و قرب و جوار کے علاوہ شاملی ، میرٹھ اور مظفر نگر جیسے اہم اضلاع میں بھی وقف جائدادوں پر قبضہ عام ہیں یہاں ان جائیدادوں کو بڑے سہل انداز میں لوٹا اور خرد برد کیا جارہاہے ۔ اس سارے کھیل میں لیڈران پر بندر بانٹ کرنے کا بھی سنگین الزام لگایا جا رہا ہے۔ عوام ان تمام حالات سے وزیر اعلی اکھلیش یادو اور کابینہ وزیر محمد اعظم خاں کو بار با تحریری طور پر اور ہائی کورٹ کے سخت ریمارکس کے ساتھ مطلع کر چکے ہیں مگر یہاں تو حمام میں شاید سبھی ۔ اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ قیمتی وقف املاک سننی وقف بورڈ کی اپنی ذاتی ملکیت یا پھر وزارت اوقاف کی اپنی جائداد کسی ایک فرد، کسی ایک برادری یا کسی ایک لیڈر کی میراث نہیں ہے یہ جائداد ہمارے اکابرین کی یادگار اور پوری امت مسلمہ کی میراث ہے سنجیدہ شہریوں نے وقف جائداد پر قبضہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ قبضہ کرنے والے زیادہ تر لوگ وقف بورڈ کے کابینہ وزیراور بورڈ کے ریاستی چیئر مین کے اپنے منھ لگے ملازمین ، متولیان اور سیاسی افراد ہی ہیں اسی لئے کاروائی نہی ہوپارہی ہے آپنے آپکو مسلمان کہنے والے بڑے بڑے بااثر لوگ بھی وقف کی جائیدادوں پر قابض ہیں اور اس بندر بانٹ میں بھی شامل ہیں یہی لوگ دکانیں اور مارکیٹ بنا کر اپنی من مرضی اور ناجائزطریقہ سے خوف خدا اور قانون کی پرواہ کئے بغیر موٹی موٹی رقوم وصول کر رہے ہیں جس وجہ سے وقف املاک کو بہت بڑا نقصان لگاتا پہنچ رہاہے؟