چین نے چھوٹے۔ چھوٹے مسلم بچوں کو کیا ان کے کنبے سے الگ، اسکولوں میں کیا قید

05:03PM Sat 6 Jul, 2019

ایک نئے ریسرچ کے مطابق شنجيانگ صوبے میں چین مسلسل مسلم بچوں کو ان کے کنبوں، مذہبی عقائد اور زبان سے الگ کر رہا ہے۔ چین نے ایک ساتھ کئی ہزار بچوں کو بڑے سے کیمپس میں بند کر رکھا ہے اور اس علاقے میں تیزی سے بورڈنگ اسکول بنائے جانے کا کام کر رہا ہے۔ عام طور پر دستیاب دستاویزات اور دوسرے ممالک میں پناہ لئے ہوئے بہت سے خاندانوں کے ساتھ کئے گئے انٹرویو کے مطابق بی بی سی نے ایسے کئی دستاویزات جمع کئے ہیں، جن کے مطابق چین کے شنجيانگ صوبے کے بچوں کے ساتھ ہونے والی یہ زیادتیاں سامنے آئی ہیں۔
 بی بی سی کے لئے لکھی گئی رپورٹر جان کی رپورٹ کے مطابق، جمع کردہ اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی قصبہ میں چار سو سے زیادہ بچوں نے کسی نہ کسی طرح سے حراست میں لئے جانے کے مدنظر اپنے کنبوں کو کھو دیا ہے۔ یہ بچے حال میں بورڈنگ کہے جانے والے بورڈنگ اسکولوں میں ہیں یا پھر جیلوں میں۔دراصل، چین ان بچوں کو بچپن سے ہی ان کے ان کے کنبوں سے الگ کرنے کا ایک منظم پروگرام چلا رہا ہے۔ اس پر رپورٹ کرنے والے صحافی نے بتایا کہ چین کے اس علاقہ میں کام کرنے والے غیر ملکی صحافیوں پر نظر رکھی جاتی ہے اور ان کا پیچھا بھی کیا جاتا ہے۔ ایسے میں مقامی لوگوں سے بات کرنا مشکل ہے۔ ایسے میں انہوں نے ترکی میں رہ رہے ایسے بچوں کے کنبوں سے بات کی ہے۔ فائل فوٹو بی بی سی نے اس سلسلے میں 60 انٹرویو کیے اور یہ تمام انٹرویو بچوں اور والدین کے بچھڑنے کی دکھ بھری داستان سناتے ہیں۔ اس طرح والدین اور رشتہ داروں نے تقریباً 100 بچوں کی گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے مزید معلومات فراہم کی ہیں۔ یہ سبھی لوگ چین کے شنجیانگ میں آباد ایغور برادری سے ہیں۔ چین کی اس برادری کے ترکی سے بھی نزدیکی رشتے ہیں۔ ایسے میں ہزاروں کی تعداد میں چین کے اس صوبہ سے مسلمان ترکی میں پڑھنے، تجارت کرنے، کنبوں سے ملنے یا اپنے چین کی طرف سے اس برادری پر پڑ رہے مذہبی دباؤ سے بچنے کے لئے ترکی بھاگ آئے ہین۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، استنبول کے بڑے ہال میں درجنوں افراد اپنی کہانیاں سنانے کے لیے بےتاب تھے۔ ان میں سے کئی لوگوں کے ہاتھ میں اپنے بچوں کی تصاویر ہیں، جو سنکیانگ میں رہ گئے تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک ماں نے بتایا کہ ’مجھے نہیں معلوم ان (بچوں) کی دیکھ بھال کون کررہا ہے‘۔ ان کے ہاتھ میں اپنی تین بیٹیوں کی تصویر ہے۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’میرا ان (بچوں) سے کوئی رابطہ نہیں۔‘ ایک اور والدہ اپنے تین بیٹوں اور ایک بیٹی کی تصویر لیے اپنے آنسو پونچھ رہی تھیں۔ انھوں نے بتایا ’میں نے سنا ہے انھیں ایک یتیم خانے میں لے جایا جا چکا ہے‘۔ یہ تمام لوگ اویغور ہیں جو ترکی النسل مسلمان ہیں اور چین کے مغربی علاقے میں آباد رہے ہیں جہاں ان کی تعداد تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ ہے۔ وہ خود کو ثقافتی اور نسلی طور پر وسط ایشیائی علاقوں سے قریب تر دیکھتے ہیں اور ان کی زبان ترک زبان سے بہت حد تک مماثلت رکھتی ہے۔ گذشتہ تین برسوں کے دوران جب سے چینی حکومت نے ہزاروں اویغور مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو حراست میں لینا شروع کیا ہے کئی لوگ چین میں پھنس بھی گئے ہیں۔ حالانکہ چین کا کہنا ہے کہ اویغوروں کو ’ووکیشنل تربیتی مراکز‘ میں تعلیم دی جا رہی ہے تاکہ وہ مذہبی انتہا پسندی کا مقابلہ کر سکیں لیکن ثبوتوں کے مطابق کئی لوگ صرف اپنے مذہب کے اظہار، جیسے نماز پڑھنے یا نقاب کرنے، یا دوسرے ممالک جیسے ترکی میں بسنے والوں سے تعلقات رکھنے پر حراست میں لیے گئے ہیں۔