فشنگ چوری میں صارفین کی ذاتی شناخت کا ڈیٹا اور مالی کھاتوں کی جانکاری چرانے کیلئے سوشل انجینئرنگ اور تکنیکی جعل سازی دونوں ہی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ انٹرنیٹ بینکنگ یوزرس کو جعل سازی والا ای میل موصول ہوتا ہے ، جو ویلڈ انٹرنیٹ ایڈریس سے آیا ہوا نظر آتا ہے ۔
یوزرس کو ای میل میں دستیاب کروائے گئے ہائیپر لنک پر کلک کرنے کیلئے کہا جاتا ہے ۔ یوزر جیسے ہی ہائیپر لنک پر کلک کرتا ہے ، تو اس کے سامنے ایک فرضی ویب سائٹ کھل جاتی ہے جو کہ حقیقی ویب سائٹ جیسی ہی نظر آتی ہے ۔ عام طور پر ای میل میں یا تو کچھ کارروائی پوری کرنے پر انعام یا پوری نہ کرنے پر جرمانہ کی وارننگ دی جاتی ہے ۔
یوزرس کو خفیہ جانکاری جیسے لاگ ان ، پروفائل یا لین دین پاس ورڈ اور بینک اکاونٹ نمبر وغیرہ دینے کیلئے کہا جاتا ہے ۔ یوزر خود اعتمادی میں جانکاری دیدیتا ہے اور سبمٹ بٹن پر کلک کرتا ہے ۔ یوزر کے سامنے ایرر پیج آجاتا ہے اور اس طرح یوزر فشنگ حملہ کی زد میں آجاتا ہے۔
ایس بی آئی نے صارفین کو کیا خبردار ، جلد اپنائیں یہ طریقہ ورنہ خالی ہوجائے گا بینک اکاونٹ
04:27AM Tue 29 Oct, 2019
اگر آپ کا اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں اکاونٹ ہے تو یہ خبر آپ کیلئے بہت ضروری ہے ۔ کیونکہ آج کل انٹرنیٹ سے پیسہ چوری کے معاملات میں کافی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے ۔ لوگوں کے بینک اکاونٹ خالی کئے جارہے ہیں ، جس کی وجہ سے اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے اب لوگوں کو خبردار کیا ہے ۔
ایس بی آئی نے اپنی ویب سائٹ پر ایک خاص قسم کی چوری کی جانکاری دی ہے ۔ اس کا نام فشنگ ہے ۔ فشنگ ایک قسم کی انٹرنیٹ چوری ہے ۔ اس کا استعمال خفیہ مالی معلومات جیسے بینک اکاونٹ نمبر ، نیٹ بینکنگ پاس ورڈ ، کریڈٹ کارڈ نمبر ، ذاتی شناخت کی تفصیلات وغیرہ چوری کرنے کیلئے کیا جاتا ہے ۔ ہیکرس بعد میں ان معلومات کا استعمال کرکے متاثرہ شخص کے اکاونٹ سے پیسہ نکالنے یا اس کے کریڈٹ کارڈس کو بلوں کی ادائیگی کیلئے استعمال کرسکتا ہے ۔