سپریم کورٹ سینئر وکیلوں کی نامزدگی میں شفافیت کی درخواست پر نئے سرے سے سماعت کرے گا
01:19PM Tue 3 Jan, 2017
نئی دہلی، (بھٹکلیس نیوز)
سپریم کورٹ نے وکلاء کو سینئر وکیل نامزد کرنے کے عمل میں شفافیت اور پورے نظام میں اہم تبدیلی لانے کے لیے دائر درخواست پر نئے سرے سے سماعت کرنے کا آج فیصلہ کیا۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ نے اس درخواست کو پہلے ہی دہلی ہائی کورٹ میں زیر التواء درخواست کے ساتھ جوڑ دیا جس میں وکلاء کو سینئر وکیل نامزد کرنے سے متعلق ایڈووکیٹ قانون کی دفعات کو چیلنج دیا گیا ہے۔اس بنچ نے گزشتہ سال 21؍اکتوبر کو اس معاملے میں سماعت مکمل کرکے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا، بنچ نے کہا کہ یہ زیادہ مناسب ہوگا کہ اس معاملے کی ہائی کورٹ میں زیر التواء درخواست کے ساتھ ہی نئے سرے سے مکمل سماعت کی جائے۔بنچ نے کہا کہ اس معاملے میں فیصلہ محفوظ رکھے جانے کے بعد کچھ وکلاء نے اس معاملے میں مداخلت کے لیے عدالت عظمی سے رابطہ کیا اور کہا کہ سبھی کی صحیح طریقے سے سماعت نہیں ہوئی ہے۔ہائی کورٹ میں زیر التواء درخواست میں ایڈوکیٹ قانون کی دفعہ 16اور 23(5)کی آئینی حیثیت کو چیلنج دیا گیا ہے، اس میں وکلاء کو سینئر وکیل بنانے کی قانونی بنیاد کاانتظا م ہے۔بنچ نے کہاکہ اب جبکہ ایسے عہدے کے ذریعہ کو ہی چیلنج دیا گیا ہے، تو یہ زیادہ مناسب ہوگا کہ ہائی کورٹ میں زیر التواء درخواست کو بھی اس عدالت میں منتقل کرکے ان پر ایک ساتھ سماعت کی جائے۔بنچ نے کہا کہ ایسا اس لیے ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ طریقہ کار کے مطابق وکلاء کو نامزد کرنے سے متعلق موضوع بار کے ایک طبقہ میں عدم اطمینان پیدا کر رہے ہیں جو ان کارروائیوں میں فریق بنانے کے لیے دائر درخواستوں سے پتہ چلتا ہے اور اسی طرح اس نظام میں اصلاح کے لیے متعدد تجاویز پیش کی گئی ہیں۔سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ میں زیر التواء درخواست کی منتقلی کے ساتھ ہی اس معاملے کی آخری سماعت فروری میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔
(بشکریہ :پاسبان نیوز)