شام: اقوامِ متحدہ کے معائنہ کار دوبارہ تحقیقات شروع کریں گے

04:04PM Tue 27 Aug, 2013

اقوامِ متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے معائنہ کار گذشتہ ہفتے شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں ہونے والے کیمیائی حملے کی تحقیقات دوسرے دن دوبارہ شروع کریں گے۔ پیر کے روز یہ ٹیم متاثرہ علاقے تک جانے کی کوشش میں فائرنگ کے زد میں آ گئی تھی۔ امریکہ اور اس کے حامی ملک شام کے خلاف فوجی حملے پر غور و خوض کر رہے ہیں جب کہ شام کے حلیف روس نے ایسے کسی اقدام کے خلاف خبردار کیا ہے۔ کلِکشام: اقوام متحدہ کیمیائی حملے کی تفتیش کرے گا کلِکامریکی مداخلت سے خطے کو آگ لگ جائے گی کلِککیمیائی ہتھیار: ’3600 کا علاج کیا گیا، 355 ہلاک‘ کلِکزعتری پناہ گزین کیمپ: خصوصی رپورٹ شامی حکومت اور حزبِ مخالف دونوں ایک دوسرے پر اس کیمیائی حملے کا الزام عائد کرتی ہیں۔ فلاحی طبی تنظیم میدساں ساں فرانتیار نے کہا ہے کہ دمشق میں اس کے تین ہسپتالوں میں گذشتہ بدھ کو 3600 ایسے مریضوں کا علاج کیا گیا جن میں اعصابی زہرآلودگی کی علامات تھیں۔ ان میں سے 355 ہلاک ہو گئے۔ اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں نے پیر کو شہر کے مغربی علاقے معظمیہ میں تقریباً تین گھنٹے گزارے، جہاں انھوں نے دو ہسپتالوں کا دورہ کیا اور مریضوں، عینی شاہدوں اور ڈاکٹروں سے بات کی۔ اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ٹیم نے نمونے بھی حاصل کیے۔ دوسری طرف امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے ایک سخت بیان میں شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے ’ناقابلِ تردید‘ استعمال کی مذمت کی ہے۔ جان کیری نے دمشق کے مضافات میں ان حالیہ حملوں کو’اخلاقی بد تہذیبی‘ قرار دیا۔ جان کیری نے اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جو کچھ ہم نے شام میں گزشتہ ہفتے دیکھا ہے اس سے دنیا کے ضمیر کو ضرور جاگنا چاہیے۔ یہ ہر قسم کی اخلاقیات کی حدیں پار کرتا ہے‘۔ نہوں نے کہا کہ ’سب کو جان لینا چاہیے کہ صدر اوباما یقین رکھتے ہیں کہ ایسے افراد جو دنیا کے وحشیانہ ترین ہتھیارووں کو دنیا کے کمزورترین لاچار ترین افراد کے خلاف استعمال کرتے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی انتظامیہ کے پاس ان حالیہ حملوں کے بارے میں مزید اضافی معلومات ہیں جو آنے والے دنوں میں منظرِ عام پر لائی جائیں گی۔ جان کیری نے کہا اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو معائنے کی اجازت نہ دینے سے واضح ہوتا ہے کہ شامی حکومت کچھ چھپا رہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ’بجائے اجازت دینے کے اس حکومت نے باقاعدہ ثبوت تباہ کیے اور علاقے پر گولہ باری کی جو کسی ایسی حکومت کا طرزِ عمل نہیں ہے جو کچھ نہ چھپانا چاہتی ہو۔ شامی حکومت کی جانب سے معائنے کی اجازت بہت تاخیر سے آئی ہے اور اس پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔‘ ان بیانات کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے جان کیری کے الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ ’اس بات کے حوالے سے ہمارے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے کہ شامی حکومت قصوروار ہے‘۔ اس سے قبل قوامِ متحدہ نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ شامی حکومت اور باغیوں سے اپنے ماہرین کی ٹیم پر فائرنگ کے واقعے پر شکایت کرے گی جو شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کے لیے موجود ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ وہ دمشق میں موجود اپنے معائنہ کاروں سے کہیں گے کہ وہ اس معاملے پر ’پرزور شکایت کریں‘ تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہو سکے۔ اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے کہا تھا کہ نامعلوم حملہ آوروں نے پیر کو اس کے ماہرین کی اس ٹیم پر فائرنگ کی ہے جو شام کے دارالحکومت میں مبینہ کیمیائی حملے کی تحقیقات کرنے کے لیے جا رہی تھی۔ ایک کار پر ’متعدد‘ فائر کیے گئے جس سے قافلے کو واپس مڑنے پر مجبور ہونا پڑا مگر گاڑی تبدیل کرنے کے بعد ماہرین نے فوراً دوبارہ تحقیقات شروع کر دیں۔ شامی سرکاری میڈیا نے اس حملے کا الزام حزبِ مخالف کے ’دہشت گردوں‘ پر عائد کیا ہے، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ شام پر سفارتی دباؤ نے کوئی اثر نہیں کیا اور اس کے خلاف اقوامِ متحدہ کی طرف سے متفقہ حمایت کے بغیر بھی کارروائی ممکن ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اور برطانیہ شامی کشیدگی کے بارے میں اپنی ممکنہ اقدامات پر غور کر رہا ہے اس معاملے پر کوئی بھی ردِعمل ’بین الاقوامی قوانین‘ کے مطابق ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ کوئی ماہرین کو خوف زدہ کرنا چاہتا ہے اور یہ کہ وہ شام کے خلاف کسی کارروائی کو حتمی یا خارج از امکان قرار نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہم 21ویں صدی میں اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ بے رحمی سے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ہو۔‘ انھوں نے اقوامِ متحدہ کے سیکورٹی کونسل کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ’اس نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔‘ اس سے پہلے امریکہ نے کہا تھا کہ شامی حکومت کی طرف سے کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ حملے سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے لیے اقوامِ متحدہ کے معائنہ کاروں کو اج ازت دینے کا فیصلہ بہت دیر سے آیا تھا اور اب وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر براک اوباما نے اپنے اتحادیوں برطانیہ اور فرانس سے رابطے کیے تھے۔ ادھر شام کے صدر بشارالاسد نے کہا تھا کہ شام میں امریکہ کی طرف سے کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت ناکام ہوگی۔ انھوں نے روسی اخبار ازویستیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ شامی حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام’احمقانہ بات ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’اگر کوئی شام کو مغرب کی کٹھ پتلی حکومت بنانے کا خواب دیکھ رہا ہے رو وہ اس میں کامیاب نہیں ہو گا۔‘ بشارالاسد نے کہا کہ یہ واضح ہے کہ شام اور روس کے دیرینہ تعلقات ہے اور روس شام کو وہ کچھ دے رہا ہے جو ملک کے دفاع کے لیے ضروری ہے۔ انھوں نے شامی باغیوں کو ’دہشت گرد‘ قرار دیا اور کہا کہ ماہانہ ہزاروں غیر ملکی جنگجو شام میں داخل ہوتے ہیں۔ شام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس مسٹرڈ گیس اور سیرن کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ شام ان سات ممالک میں شامل ہے جنھوں نے 1997 میں کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ BBC URDU