اسلام کا وہ لا جواب نظامِ سلطنت ہے جو کسی مذہب نے نہیں دیا: مو لانا سید قمر اللہ شاہ قادری
03:56PM Fri 11 Aug, 2017
بنگلور:(بھٹکلیس نیوز)
بروز پیر7اگست 2017 کو امام احمد رضا مومنٹ بنگلور کی جانب سے منعقد محفل نوری میں خطاب فر ماتے ہوئے حضر ت علامہ مولانا سید قمر اللہ شاہ قادری، سرپرست امام احمد رضا مومنٹ نے کہا کہ ! دنیا کی سب سے بڑی مصیبت اور نوعِ انسانی کی سب سے بڑی ھلاکت خیزی یہ ہے کہ طاقتور انسان کمزور انسانوں کو ڈرانے دھمکانے اور ذلیل کر نے اور اُن کے جا ئز حقوق کو غصب کر نے پر آمادہ ہو جائے۔ مساوات اور انصاف کو پامال کر دیا جائے۔تاریخ کا مطالعہ کریں تو ایسے بے شمار واقعات آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں جنہیں دیکھکر ہروہ شحض جس
کے دل میں جذبہء ہمدردی اور جذبہء مہربانی تڑپ اُٹھتا ہے اور خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔
رومیوں نے افریقیوں پر غلبہ پایا تو کسی رعایت اور معافی و درگزرکو جائز نہ رکھا ۔مصریوں نے شامیوں کو اور یونانیوں نے ایرانیوں کو اپنے آپ سے کمزور پاکر خون کے دریا بہادےئے اور وہاں کے کمزور باشندوں کو انسانی حقوق سے محروم کردیا۔گاتھ اور گال نے طاقت پاکر کمزور قوم کو چوپاہیوں سے بدتر سمجھا،ہر ملک اور ہر قوم نے عورت کو اس قدر ذلیل بنایا کہ وہ چوپایوں اور منقولہ جائداد کی طرح بے زبان ملکیت سمجھی جاتی تھی ۔عربوں نے دختر کشی کو قابل فخر کارنامہ سمجھا کرتے تھے۔دنیا کی تاریخ میں بہت سے ایسے حکمران پیدا ہوئے جن کا کارنامے جنگلی درندوں اور بھیٹریوں سے زیادہ بھیانک تھے۔ہٹلر کا ظلم و ستم اور چنگیزخان کی درندگی اورقتل و غارتگری اور آج کی سوپر طاقتیں جن میں سب سے زیادہ سنگدلی درندگی اور ستم گری پائی جا تی ہے وہ یہود و نصاریٰ کی حکمرانی ہے ۔ اس کے علاوہ اسلامی تعلیمات سے نابلدتاریخ خلفاء و واقعاتِ صحابہ و سیرتِ مصطفی ﷺ سے نا واقف اسلام کا نا م لیکر خارجی اور مردودی طاقتیں مسلمانوں کو تبا ہ کر رہی ہیں انکاجہاں غلبہ ہے وہاں اسلامی شعار کے علاوہ ملک کی معاشی سماجی و اخلاقی حالت زمین بوس ہوچکی ہے۔ غرض دنیا کا کو ئی ملک ایسا نہیں بتلایا جا سکتا جہاں طاقتوروں نے کمزورں پر ظلم نہ کیا ہو۔ایک ایسی قوم بھی اُبھرنے لگی جن کے پاس کُتوں اور جانوروں سے ہمدردی ہے۔جانوروں کی عظمت اور عنایت ہے مگر انسانوں کی قدر و عظمت نہیں۔انسانوں کو جانوروں کیلئے قربان کردیا جاتا ہے۔کیا اس کو انسانیت سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، کیا انسان کہلانے کے حقدار ہیں۔ کیا ایسے لوگوں کو اللہ کی زمین پررہنے کا حق ہے، ظلم و زیادتی ، جبر و تشدد ،قتل و غارتگری جس دھرم و مذہب میں ہو وہ امن و سلامتی ،خوشحالی و کامیابی کی فضاء کیسے قائم کرسکتی ہیں۔ خالقِ کا ئنات ،مالک کائنات ،رب کائنات، اللہ پاک جل شانہء نے اپنا کلام پاک قرآن مجید اور اپنے دین پاک اسلام اور اپنے رسول پاک محمدعربی ﷺ کے ذریعہ جو احکام نافذ کئے ہیں جو قانون، اصول، دستور آئین اور ضابطہء حیات دیا ہے اُ س میں سب سے پہلے انسانوں کوپیدا کرنے والا ،پالنے والا ،قدرت والا،مالک و مختا ر اور معبود برحق کی طرف رجوع ہونے اُسکی ذاتِ پاک اُسکی ذاتِ یکتا پر ایمان لانے کا حکم دیا۔ پھر انسانوں کے درمیان آپسی حقوق کو بتلایا۔ظلم و بر بریت کے خلاف جذبہء ہمدردی و خیر خواہی پیدا فر مائی۔غریبوں کمزرورں،بے کسوں اور بے سہارا لوگوں ،ضعیفوں اور عورتوں کے حقوق بتلائے، ان سے نیک سلوک کرنے اور انکے مدد کرنے اُن کے ساتھ تعاون کرنے کی طرف رغبت دلائی ۔تمام حاکموں اور طاقتوں کا مالک و مختار معبود حقیقی کی عبادت و بندگی اور اُسکی اطاعت و فرمانبرداری کرنے پر آمادہ و مستعد بنانے کا قدرتی ماڈل اور حسین ترین بلند ترین،عظیم سے عظیم ترین نمونہ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب اکبر رسول اکرم ﷺ کو بناکر مبعوث فر مایا۔آپ علیہ السلام نے اپنے اعمال و کردار ،اصاف و اخلاق اور تعلیمات ارشاداتِ طیبات سے دنیا میں عدل و انصاف کا بول بالا فر مایا۔ مردہ انسانیت میں زندگی کی روح پھونکی ۔حاکموں اور محکوموں کے حقوق بتلائے ،طاقتوروں اور کمزوروں کے حقوق پیش فر مایا۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے طریقے سمجھائے۔ رشتے ناتوں کے گُر بتلائے۔ ظلم و نا انصافی اور بداخلاقی و بد اعمالی کے بُرے نتائج اور اُنکے بھیانک نتائج سے آگاہ فرمایا۔بہتر نظامِ سلطنت کے اصول و قواعد پیش فرمائے۔آپ کی لائی ہوئی شریعت مطہرہ ہر قسم کی تحریف و تسنیخ اور تبدیل سے پاک ہے اور ائندہ بھی مغیمر ہونے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ قانون شریعت خالق کل نے رسول کُل کے ذریعہ کے لئے محفوظ فر مادیاہے۔آ پ ﷺ نے انسانوں کو غلامی و ذلت سے نکال کر آزادی کی عزت عطا فر مائی۔ اسلام کا ابدی قانون یہ بتلارہا ہے کہ کسی انسان کو دوسرے انسانوں پر محض خاندان یا قوم کی وجہ سے کو ئی فضیلت و برتری حاصل نہیں ہے ہاں البتہ اپنے اعمال و اخلاق سے ہر شخص اپنے مرتبہ کو بڑھایا گھٹاسکتا ہے۔تمام سمجھدارعقلمنداور دانشور لوگ اپنے ہی میں ایک امیر کا انتخاب کرکے اُس کو شرعی احکام نا فذ کرنے کے اختیارات عطاکر تے ہیں۔ ہاں یہ بات بھی رکھی گئی ہے کہ عام آدمی کو امیرسلطنت سے کسی بھی معاملہ میں سوال کرنے کا پورا حق رہے گا اور امیر کو رعایا کے اعتراضات اور سوالات کا جواب دینے میں کسی طرح کا تردُد اور انکار نہیں ہوگا۔امیر سلطنت کو خلیفہ یا بادشاہ مانا جاتا ہے۔بیت المال کا انتظام کرنااور اُس میں جمع شدہ رقم رعایا کا مشترکہ خزانہ ہوتا ہے۔خلیفہء اپنی ذات پر اور اپنی ذاتی خواہشات کے لئے کچھ بھی خرچ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔اس خزانہ کو رفاہِ عام اور مخلوق خدا کو فائدہ پہنچانے کے لئے خراچ کیا جائے گا۔ یتیموں،بیواؤں محتاجوں اورمسافر وں کی امداد اور فوج اور پولیس وغیرہ کے مصارف میں صرف کیا جائے گا۔ملک میں بدامنی فسادات اور بغاوت کو ختم کر نے اور کمز وروں کی حفاظت ،ملک کی حفا ظت عوامی خدمت میں وہ کوشاں اور مشغول رہے گا۔اللہ کے بندوں کی فلاح و بہودی کی فکر کرتا رہیگا۔عدل و انصاف کے معاملہ میں اپنا پرایا،امیر غریب ،حاکم و محکوم کسی کی وہ رعایت نہیں کریگا۔ملک میں اپنی سلطنت کے حدود میں امن و سلامتی خوشحالی اور دینداری کا بول بالاکرے گا۔ملک کی ترقی کے لئے کار آمد اور فائدہ مند منصوبے بناکر اُسکی تکمیل کی سعی اور جدوجہدکریگا۔ خلفائے راشدین کی زندگی اور اُنکی حکمرانی اسلامی اصول و قوانین سے آراستہ رہی جس کی وجہ مختصر سی مدت میں صرف چند ہی برسوں میں اسلامی سلطنت دنیا کے تین تہائی حصہ تک وسیع ہوگی ۔اُن کے بعد بھی اسلامی اقتدار کی پاسداری کرنے والے بادشاہوں حکمرانوں نے اپنی ایمانی قوت سے اپنی جنگی مہارتوں اور اپنی شجاعت و بہادری سے دنیا کے ایک بہت بڑے حصہ پر اپنی حکومت قائم کرلی۔تاریخِ خلفاء کا مطالعہ کرنے پر ہر ذی عقل سمجھدار اور غیر متعصب دانشور اسلام کے نظام سلطنت کی مداح سرائی اور تعریف کرتے ہوئے اُسکی عظمت کے سامنے سر جھکانے پر مجبور ہوجائیگا۔اسلام ہی کی دین ہے کہ آج دنیا میں جمہوری حکومتوں کا قیام عمل لایا جارہا ہے اور عالمی سطح پر اقوام متحدہ کا قیا م عمل میں لایا گیااور اُس میں جو اصول و قوانین وضع کئے گئے ہیں وہ اسلام ہی کا فیضِ لاثانی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اسلام کو صحیح سے سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فر مائے۔ بعد دعا و سلام پر جلسہ کا اختتام ہوا۔