مسلمان لڑکی کے سخت سوالات، آنگ سان سوچی برطانوی ٹی وی پر برہم
01:57PM Sat 26 Mar, 2016
میانمار کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی سربراہ آنگ سان سوچی کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے ملک میں جمہوریت کے قیام کیلئے بہت قربانیاں دیں۔تاہم برطانوی نشریاتی ادارے کے ایک پروگرام کی میزبان مسلمان لڑکی کی جانب سے ان سے سخت سوالات پوچھنے پر وہ خاصی برہم ہوئیں ۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق آنگ سان سوچی برطانیہ کے ایک معروف نشریاتی ادارے کے پروگرام میں شریک تھیں۔ جسکی میزبان مشال حسین نے آن سانگ سوچی پر سخت سوالات کی بوچھاڑ کر دی اور انھیں آڑے ہاتھوں لیا۔اس موقع پرچراغ پا آنگ سان سوچی نےانتظامیہ سے پوچھا کہ انھیں بتایا کیوں نہیں گیا کہ ان کا انٹرویو ایک مسلمان خاتون کرینگی ۔
رپورٹ کے مطابق مشال حسین نے سوچی سے کہا کہ وہ میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام اور اسلام مخالف جذبات کی مذمت کریں۔ اس پر سوچی کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں میانمار میں رہنے والے بدھ مذہب کے پیروکاروں نے بھی بڑی تعداد میں ہجرت کی ہے۔ یہ سب کچھ آمرانہ حکومت کے دکھوں کا نتیجہ ہے۔