ادارہ المباحث الفقہیہ جمعیت علماء ہند کے تیرھواں فقہی اجتماع
03:22PM Sun 12 Feb, 2017
بھٹکلیس نیوز / 12 فروری، 17
چینائی / (راست۹ ادارہ المباحث الفقہیہ جمعیت علماء ہند کا تیرھوان فقہی اجتماع جمعیت علماء صوبہ تمل ناڈو کی درخواست پر 13/12/11 جمادی الاولی 1437ھ مطابق 10/9/8فروری 2017ء بروز بدھ جمعرات جمعہ کو ہندوستان کے قدیم تاریخی شہر مدراس میں منعقد ہوا
اس فقہی سیمینار کی کل پانچ نشستیں ہوئیں پہلی نشست کی صدارت امیر الہند حضرت مولانا قاری سید عثمان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم صدر جمعیت علماء ہند واستاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے فرمائی۔حضرت صدر محترم نے اپنے خطبہ افتتاحیہ میں اجتماعی غور وفکر کی ضرورت واہمیت پر روشنی ڈالتے ہوے ادارہ المباحث الفقہیہ جمعیت علماء ہند کے تاریخی پس منظر کو بھی بیان کیا صدر محترم نے فرمایا : اکابر جمعیت علماء ہند نے مسلمانوں کی شرعی قیادت اور معاشرتی اصلاح کے لیے شریعت کے اصول وضوابط کے مطابق جدید پیش آمدہ مسائل کی تنقیح وتحقیق اور اجتماعی غور وفکر کے لیے 1970 میں ادارہ المباحث الفقہیہ قائم فرمایا جس کے زیر انتظام اب تک بارہ فقہی اجتماعات ملک کے مختلف خطوں میں منعقد ہو چکے ہین جن میں امت مسلمہ کو پیش آمدہ بہت سے اہم اور پیچیدہ مسائل کا شرعی حل تلاش کرکے ان کی مذھبی ضرورت کو پورا کرنے کا فریضہ انجام دیا گیا ہے جس کی تفصیل ذیل میں درج ہے.
1:پہلا فقہی اجتماع 8 تا 10 فروری 1991 (دیوبند) بعنوان "غیر سودی اداروں اور سوسائٹیوں"
2: دوسرا فقہی اجتماع 29/28 نومبر (دیوبند) بعنوان "اسلامی نظام قضا اور ہندوستان"
3: تیسرا فقہی اجتماع 9/8/7 جولائ 1993 (مدراس) بعنوان " امپورٹ اور ایکسپورٹ کے اہم مسائل"
4: چوتھا اجتماع 24/ 25 اکتوبر 1994 (دیوبند) بعنوان مذہب غیر پر فتوی اور عمل کے حدود وشرائط
5: پانچوں فقہی اجتماع 11 تا 13 دسمبر 1995 (دیوبند) بعنوان "غیر اسلامی ممالک میں عقود فاسدہ کا حکم اور شئیرز"
6: چھٹا اجتماع 26 تا 28 مارچ 1997 (دیوبند) بعنوان" بیع بالشرط اور حج کے چند غور طلب اہم مسائل"
7:ساتواں اجتماع 26/25 اکتوبر 2000 بعنوان "رویت ہلال اور طلاق سکران"
8: آٹھواں تاریخی فقہی اجتماع 27 تا 29 اپریل 2005 (بنگلور) بعنوان " ٹیلی ویژن اور انٹر نیٹ کا دینی مقاصد کے لیے استعمال"
9: نواں فقہی اجتماع 22/21 رجب المرجب 1434ھ مطابق 2/1 جون 2013 (دیوبند) بعنوان "زمیں کی پلاٹنگ کے متعلق خرید و فروخت کے مسائل .طویل مدتی کرایہ داری میں حق وراثت.بیع الحقوق کی بعض صورتوں اور ڈپازٹ کی شرعی حیثیت"
10:دسواں فقہی اجتماع بتاریخ 20/19 جمادی الاولی 1435ھ مطابق 20/19 مارچ 2014 ( ممبئی) بعنوان "منی اور مزدلفہ میں قصر واتمام کا حکم .مدارس میں رقوم زکات کی فراہمی اور طریقہ استعمال اور حقوق کی خرید وفروخت "
11:گیارہواں فقہی اجتماع (حیدر آباد) بعنوان "کمیشن اور اس کی مروجہ شکلیں.فسخ نکاح کی بعض وجوہ کی تنقیح اور تبدیل ماہیت کی تحقیق "
12: بارھواں فقہی اجتماع مورخہ 28/27/26 رجب المرجب 1437ھ مطابق 6/5/4 مئی 2016 (بانڈی پورہ کشمیر) بعنوان "باپ اور بیٹوں کے مشترکہ کاروبار کی چند اہم صورتیں اور میڈیکل انشورنس کی کی بعض شکلین اور ان کے احکام"
13: اور یہ تیرھواں فقہی اجتماع 11تا 13 جمادی الاولی 1438ھ مطابق 8 تا 10 فروری 2017ء (مدراس) بعنوان" زکات میں ضم اموال کی صورت میں سونے کے نصاب کو معیار بنانا? قبضہ کی حقیقت اور انٹرنیٹ کے ذریعہ عقود کی بعض مروجہ صورتیں " منعقد ہوا۔
اس عظیم الشان تاریخی فقہی اجتماع کی دوسری نشست میں مفتیانِ کرام کے ارسال کردہ مقالات کی تلخیص پیش کی گئی. مقالات کی تلخیص مولانا عبد اللہ صاحب معروفی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے پیش کی جب کہ اس دوسری نشست کی صدارت مفتی سعید صاحب پالن پوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث وصدر المدرسین دارالعلوم دیوبند نے فرمائی۔
تیسری نشست میں بھی دوسرے سوال (قبضہ کی حقیقت اور انٹرنیٹ کے ذریعہ عقود کی بعض مروجہ صورتیں) سے متعلق مقالات کی تلخیص پیش کی گئی اس نشست کی صدارت بحر العلوم علامہ نعمت اللہ صاحب اعظمی دامت برکاتہم نے فرمائی۔
چوتھی نشست میں ملک بھر سے تشریف لاے علماء کرام ومفتیان عظام نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا
مقالات کی تلخیص اور مناقشہ کے بعد ہر موضوع پر تجاویز تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی
اس کمیٹی نے تجاویز تیار کرکے اکابر علماء کے سامنے پیش کیا اور اس پر مفصل بحث وتمحیص کے بعد مندوبین کی چوتھی عمومی مجلس میں ان تجاویز کو پیش کیا گیا اور اس مرحلہ میں بھی کچھ جزوی ترمیمات کی گئیں اس چوتھی نشست کی صدارت ایشیاء کے عظیم علمی ودینی مرکز دار العلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابو القاسم صاحب نعمانی دامت برکاتہم نے فرمائی۔
تجاویز
دونوں موضوعات پر بحث ومناقشہ کے بعد درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں:
(1)تجاویز بر موضوع زکوه میں ضم اموال کا حکم
(1):سونے اور چاندی کا نصاب منصوص ہے اس میں کسی طرح کی تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے لہذا منفرد ہونے کی صورت میں دونوں میں سے جس کا بھی نصاب مکمل ہو گا اس کی زکات فرض ہوگی خواہ قیمت کم ہو یا زیادہ.
2: اگر سونے اور چاندی کا نصاب مکمل نہ ہوبلکہ کچھ سونا ہو اور کچھ چاندی یا اس کے ساتھ دیگر قابل زکات اموال (کرنسی اور مال تجارت) ہوں تو احناف کے مفتی بہ قول کے مطابق سب کو قیمتا ضم کیا جائیگا .
3:موجودہ کرنسی اور مال تجارت میں نصابِ زکوہ کا حساب لگاتے وقت نقدین میں سے اس نقد کے ذریعہ قیمت لگائ جس سے زکوه کا نصاب مکمل ہو جاتا ہو.
4: الف: غیر تام نصاب کی شکل میں مختلف قسم کے اموال جمع ہونے کی صورت میں حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مفتی بہ قول کے مطابق انفع للفقراء کی بنیاد پر موجودہ دور میں چاندی ہی کو معیار نصاب رکھا جاے.
ب: البتہ مبتلی بہ کے خصوصی حالات وضروریات کو دیکھ کر اگر کوئ قابل اعتماد مفتی مناسب سمجھے تو صاحبین کے قول ضم بالاجزاء پر فتوی دے سکتا ہے تاہم بلا ضرورت شدیدہ مفتی بہ قول سے عدول نہ کیا جاے اور اس صورت حال کا عمومی فتوی نہ دیا جاے
نوٹ: 4 کی شق "ب" سے تجویز کمیٹی کے درج ذیل حضرات نے عدم اتفاق کا اظہار کیا ہے:
1: حضرت مولانا مفتی سعید صاحب پالن پوری مدظلہ شیخ الحدیث وصدر المدرسین دارالعلوم دیوبند
2: حضرت مولانا برہان الدین صاحب سنبھلی مد ظلہ استاذ حدیث دارالعلوم ندوہ العلماء لکھنو
3: مولانا مفتی محمد نعمان صاحب سیتاپوری معین مفتی دارالعلوم دیوبند
4: مولانا مفتی محمد اسد اللہ صاحب آسامی معین مفتی دارالعلوم دیوبند
5: مولانا مفتی محمد مصعب صاحب علی گڈھی معین مفتی دارالعلوم دیوبند
(2)تجاویز بر موضوع :قبضہ کی حقیقت اور انٹر نیٹ کے ذریعہ عقود کی بعض مروجہ صورتین
1: شریعت میں قبضہ کی حقیقت :تمکین تخلیہ اور رفعِ موانع ہے البتہ اس کے لیے کوئ خاص صورت مقرر نہیں جس صورت میں بھی یہ امور متحقق ہو جائین گے شرعا قبضہ ہو جائیگا.
2: مروجہ تجارتی شکلوں میں بھی قبضہ کا مفہوم یہی ہے کہ مشتری کو مبیع میں ہر قسم کے تصرف پر قدرت حاصل ہو جاے مبیع حق غیر کے ساتھ مشغول نہ ہو اور وہ غیر مبیع سے علیحدہ اور ممتاز ہو اور ہر قسم کے موانع ختم ہو جائین.
3: اشیاء غیر منقولہ :زمیں وجائداد وغیرہ میں قبضہ کی حقیقت یہ ہے کہ بائع مبیع کو اپنے سامان سے خالی کردے مبیع حق غیر سے فارغ ہو اور مشتری بلا رکاوٹ تصرف کرسکتا ہو.
4: محض رجسٹری قبضہ شرعی نہیں ہے لیکن چوں کہ اشیاے غیر منقولہ میں تصرف کے لیے قبضہ کی شرط نہیں ہے اس لیے قبضہ سے پہلے بھی زمیں جائداد کو فروخت کیا جاسکتا ہے .
5: اشیاے منقولہ میں بیع قبل القبض بیع فاسد ہے .
6: ہبہ اور بیع میں قبضہ کی حقیقت ونوعیت کے تعلق سے کوئ فرق نہیں ہے البتہ جائداد کی بیع میں قبضہ سے پہلے تصرف درست ہے مگر ہبہ میں قبضہ سے پہلے کوئ تصرف درست نہیں.
7: مروجہ فاریکس ٹریڈنگ (کرنسی کی آن لائن تجارت) اور کموڈیٹی ٹریڈنگ (سونا چاندی اور دیگر اشیاء واجناس کی آن لائن تجارت ) مختلف وجوہات مثلا بیع قبل القبض اور بعض صورتوں میں مبیع معدوم ہونے کی بناء پر ناجائز ہے.
8:روپے پیسے یا کسی بھی کرنسی کے ذریعے سونے چاندی کی خرید وفروخت بیعِ صرف نہیں ہے اس لیے اس طرح کی بیع میں مجلسِ عقد میں صرف احد البدلین پر قبضہ کافی ہے.
9: وہ مالی سندات جن کے ذریعے مجلس عقد میں عرفا وقانونا رقم پر قبضہ سمجھا جاتا ہے (جیسے :سرٹیفائڈ چیک اور ڈرافٹ) ان کے ذریعے سونے چاندی کی ادھار خرید وفروخت درست ہے.
10: ڈیبٹ کارڈ کے ذریعہ سونے چاندی کی خرید وفروخت جائز ہے اور اس میں ثمن پر فوری طور پر شرعی قبضہ متحقق ہو جاتا ہے.
11: "ای کومرس ویب سائٹس " سے آرڈر دے کر آن لائن اشیاء کی خریداری جائز ہے اور مبیع کی وصول یابی پر مشتری کو خیار رویت حاصل ہوگا .
اس فقہی اجتماع میں ملک بھر سے ڈھائ سو سے زائد علماء ومفتیان کرام نے شرکت کی یہاں چند اکابر علماء کے نام ذکر کیے جاتے ہین
1:حضرت مولانا مفتی ابو القاسم صاحب نعمانی دامت برکاتہم مہتمم دارالعلوم دیوبند
2: حضرت مولانا مفتی محمد سعید صاحب پالن پوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث وصدر المدرسین دارالعلوم دیوبند
3:امیر الہند حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوری دامت برکاتہم صدر جمعیت علماءہند واستاذ حدیث دارالعلوم دیوبند
4:بحر العلوم حضرت مولانا نعمت اللہ صاحب اعظمی دامت برکاتہم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند
5:حضرت مولانا ریاست علی ظفر صاحب بجنوری دامت برکاتہم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند
6: حضرت مولانا محمود صاحب مدنی دامت برکاتہم جنرل سکریٹری جمعیت علماء ہند
7:حضرت مولانا رحمت اللہ صاحب کشمیری دامت برکاتہم رکن شوری دارالعلوم دیوبند
8:حضرت مولانا برہان الدین صاحب سنبھلی دامت برکاتہم استاذ حدیث ندوہ العلماء لکھنو
9:حضرت مولانا عتیق احمد صاحب بستوی استاذ حدیث ندوہ العلماء لکھنو
10:حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی دامت برکاتہم استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند
اس عظیم الشان تاریخی فقہی اجتماع کی نظامت ومقالات کی تلخیص کے فرائض حضرت مولانا مفتی عبد اللہ صاحب معروفی دامت برکاتہم مفتی محمد سلمان صاحب منصوری پوری دامت برکاتہم مفتی عفان صاحب منصور پوری اور مفتی عبد الرزاق صاحب امروہہ نے مشترکہ طور پر انجام دیے مولانا معزالدین صاحب دامت برکاتہم نے
انتظامیہ اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔
حضرت مولانا مفتی سعید صاحب دامت برکاتہم کی دعا پر یہ اجتماع بحسن وخوبی اپنے اختتام کو پہنچا۔