علماء واسکالروں نے اٹھائے سوال،سبھی مذاہب پرلگائی جائے پا بندی

07:35AM Fri 21 Apr, 2017

لکھنؤ، (بھٹکلیس نیوز) بالی ووڈ کے مشہور گلوکار سونو نگم کے اذان کے خلاف ٹوئٹ کے بعد اذان میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو لے کر ملک میں ہرطرف ردعمل کا دور جاری ہے ۔سوشل میڈیا پرلوگ اس معاملے پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہیں معاملہ میں سیاست بھی شروع ہو گئی ہیں، اس لیے کئی لیڈران اس معاملے میں اپنی رائے دے رہے ہیں ۔اذان مذہب اسلام سے جڑامعاملہ ہے ، اس لیے اس معاملے میں مسلم اسکالرس اپنی رائے کا اظہار نہ کریں ، یہ ممکن نہیں ہے ۔لہذا اس مسئلہ پر جب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور مسلم مذہبی رہنماؤں سے بات کی گئی ،تو انہوں نے اس طرح کی کوئی بھی پابندی سبھی کے اوپر لگانے کی بات کہی ۔ان کا خیال ہے کہ رات میں دس سے صبح چھ بجے تک لاؤڈ اسپیکر پر پابندی تو سپریم کورٹ نے ہی لگا رکھی ہے اور اس کو بغیر امتیاز کے لاگو کیا جائے ،تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدرمولانا ڈاکٹر کلب صادق کا کہنا ہے کہ پہلے ایک بات سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ اس طرح کے مسئلے کیوں اٹھائے جا رہے ہیں ؟۔ سپریم کورٹ پہلے ہی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو لے کر ہدایت دے چکا ہے، تو پھر اس طرح کے سوال و جواب کا کوئی مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کا جو بھی حکم ہے، اسی کے مطابق لاؤڈ اسپیکرکا استعمال ہونا چاہیے ۔بورڈ کے رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا کہنا ہے کہ یہاں مندروں کی گونجتی گھنٹیوں اور اذان کے درمیان سب کی صبح ہوتی ہے۔ایسی گنگا جمنی تہذیب کو اس طرح کے تنازعات میں نہیں گھسیٹا جائے ،تو بہتر ہوگا۔وہیں اقلیتی کمیشن کے سابق صدر اور پرسنل لاء بورڈ کے رکن کمال فاروقی کا کہنا ہے کہ بے شک اذان کے لیے لاؤڈ اسپیکر ضروری نہیں ہے، لیکن صرف ایک مذہب کو لے کر اس طرح کی بات اٹھے گی ،تو پھر اعتراض یقیناًہوگا ، ملک تمام مذاہب کے ماننے والوں کا ہے، لہذا جو بھی ہو، سب کے لیے ہو، تو کسی کو اعتراض نہیں ہو گا۔