مجاہدِ آزادی عبدالقیوم انصاری ملک کی عظیم دولت ہیں: مسلم چیمبر

12:54PM Sun 3 Jul, 2016

عبدالقیوم انصاری کی یاد میں یونیورسٹی قائم کی جائے: ڈاکٹر جسیم محمد علی گڑھ02؍جولائی: مسلم چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایم سی سی آئی) نے ملک کے اہم پسماندہ طبقہ کے لیڈر اور مومن کانفرنس کے بانی عبدالقیوم انصاری کے111ویں یومِ پیدائش پر ان کی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک اور سماج کو عبدالقیوم انصاری جیسی قیادت کی ضرورت ہے۔ عبدالقیوم انصاری نے سماج کے محروم طبقہ کے رہنما کے طور پر نہ صرف تحریکِ آزادی میں اہم خدمات انجام دیں بلکہ آخری وقت تک وہ ملک کی تقسیم کی مخالفت کرتے رہے۔ ان خیالات کا اظہار ایم سی سی آئی کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جسیم محمدنے مزمل منزل کامپلیکس میں واقع میڈیا سینٹر علی گڑھ پر عبدالقیوم انصاری کے111ویں یومِ پیدائش کے موقع پر منعقدہ ایک میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ عبدالقیوم انصاری علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم رہے اور اپنے دورِ طالب علمی سے ہی انہوں نے مسلم لیگ کے دو قومی نظریہ کی مخالفت کرنا شروع کیاتھا۔ ڈاکٹر جسیم نے کہا کہ عبدالقیوم انصاری نے1928میں سائمن کمیشن کے کلکتہ میں آنے پر اس کی مخالفت کی جس کی پاداش میں وہ جیل گئے۔ڈاکٹر جسیم محمد نے کہا کہ عبدالقیوم انصاری ایک عظیم صحافی، قلم کار اور شاعر بھی تھے اور آزادی سے قبل اردو ہفت روزہ الاصلاح اور اردو ماہنامہ مساوات کے مدیر بھی رہے تھے جن کے ذریعہ انہوں سماجی اصلاحی تحریکیں چلائیں۔انہوں نے کہا کہ عبدالقیوم انصاری16سال کی کم عمر میں پہلی بار جیل گئے کیونکہ انہوں نے نان کاپریشن تحریک اور خلافت تحریک میں حصہ لیا تھا۔ ڈاکٹر جسیم محمد نے مطالبہ کیا کہ عبدالقیوم انصاری کی یاد میں مرکزی حکومت کو یونیورسٹی قائم کرنی چاہئے۔ پروفیسر ہمایوں مراد نے کہا کہ عبدالقیوم انصای نے سماج کے حاشیہ پر کھڑے افراد کی حمایت اور مسلم لیگ کی فرقہ پرستی پر مبنی سیاست کی مخالفت میں1937-38میں مومن کانفرنس کی تشکیل کی جس نے کانگریس کے ساتھ ملک کی آزادی کی تحریک میں اہم رول ادا کیا۔ ڈاکٹر محمد شاہد نے کہا کہ عبدالقیوم انصاری ایک عظیم سیاست داں بھی تھے۔ مومن کانفرنس نے1946 کے بہار اسمبلی انتخابات میں چھ سیٹوں پر کامیابی درج کرائی اورانہیں اس وقت کے بہار کے وزیرِ اعلیٰ مسٹر کرشن سنگھ کی کیبنیٹ میں وزارت کے عہدے پر فائز کیاگیا۔ وہ17سال تک بہار حکومت میں وزیر رہے۔این جمال انصاری نے کہا کہ عام لوگ بھول گئے ہیں کہ جب اکتوبر1947میں پاکستان نے کشیمر میں گھس پیٹھ کی تب عبدالقیوم انصاری پہلے مسلم لیڈر تھے جنہوں نے مذکورہ حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی تھی۔ انہوں نے1957 میں انڈین مسلم لیگ یوتھ کاشمیر فرنٹ کی تشکیل کی جس کا مقصد پاکستان کے مقبوضہ کشمیر کو ہندوستان میں ملانا تھا۔ میٹنگ کے آخر میں عبدالقیوم انصاری کی ملک کے لئے خدمات اور قربانیوں کو یاد کرتے ہوئے ان کے لئے مغفرت کی د عا کی گئی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ عبدالقیوم انصاری کی یاد میں ایک قومی یادگار قائم کی جائے۔