سعودی عرب کی جرمنی کو حالیہ حملوں کی تحقیقات میں مدد کی پیش کش

03:41PM Sat 6 Aug, 2016

سعودی عرب نے جرمنی کو جولائی میں ایک خودکش بم دھماکے اور کلہاڑا حملے کی تحقیقات میں مدد کی پیش کش کی ہے۔ جرمنی کے موقر جریدے دیراسپیگل نے اپنی ہفتے کی اشاعت میں سعودی حکومت کے ایک سینیر عہدے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعودی حکام جرمنی میں حکام سے رابطے میں ہیں اور وہ انھیں دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات میں مدد دے رہے ہیں۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق دونوں حملہ آوروں کا سعودی عرب میں مقیم داعش سے وابستہ لوگوں سے قریبی رابطہ تھا اور وہ ان سے آن لائن گفتگو کیا کرتے تھے اور ان سے ہدایات لیا کرتے تھے۔جرمن حکام نے سعودی حکام کو ان روابط کے بارے میں آگاہ کردیا ہے۔ داعش نے جرمن ریاست بوویریا کے شہر ووربرگ کے نزدیک 18 جولائی کو ایک حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ایک سترہ سالہ لڑکے نے کلہاڑے سے وار کرکے پانچ افراد کو زخمی کردیا تھا اور بعد میں پولیس نے اس لڑکے کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔یہ ایک مہاجر لڑکا تھا اور اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا پاکستان یا افغانستان سے تعلق تھا۔ اس کے بعد ایک ستائیس سالہ شامی مہاجر نے 24 جولائی کو جرمنی کے جنوبی شہر انسبیک میں خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔اس واقعے میں پندرہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔اس کے موبائل سے ملنے والی ایک ویڈیو کے مطابق اس نے داعش کی بیعت کررکھی تھی۔ اس حملے کی بھی داعش نے ذمے داری قبول کی تھی۔ریاست بویریا کے وزیرداخلہ نے جولائی کے آخر میں ایک بیان میں کہا تھا کہ انسبیک میں خود کو دھماکے سے اڑانے والا بمبار موبائل پر چیٹ کے دوران متاثرہوا تھا اور اسی اس کو دہشت گردی کے حملے کے لیے تحریک ملی تھی۔اس کی موبائل فون پر کسی دوسرے فرد سے یہ چیٹ اس حملے سے کچھ ہی دیر پہلے ختم ہوئی تھی۔