مرکزی وزیرآننت کمار نے کانگریس لیڈرکی مسلم بیوی پرکیا تبصرہ، ٹوئٹرپرچھڑگئی بحث

01:04PM Mon 28 Jan, 2019

مرکزی وزیربرائے فروغ ہنرمندی  (اسکل ڈیولیمنٹ منسٹر) اننت کمارہیگڈے کے'ہندو لڑکیوں' کولےکردیے گئے بیان کے بعد کرناٹک کے کانگریس سربراہ دنیش گنڈوراواوران کے درمیان ٹوئٹرپرجنگ چھڑگئی ہے۔ اننت کمارہیگڈے نے اتوارکوکہا تھا کہ 'جو ہندو لڑکی کوہاتھ لگائے گا، وہ بچنا نہیں چاہئے'۔ گنڈوراونے ہیگڈے کے اس بیان کی تنقید کی۔ ساتھ ہی انہوں نے کرناٹک کی ترقی میں ہیگڈے کے تعاون اورحصولیابیوں پربھی سوال اٹھایا۔ اس پرہیگڈے نے ردعمل ظاہرکرتے ہوئے ٹوئٹ کیا "میں اپنی حصولیابی کے بارے میں ضروربتاوں گا، لیکن کیا اس سے پہلے گنڈوراو بتائیں گے کہ ان کی کیا حصولیابی ہے؟ میں تویہی جانتا ہوں کہ وہ مسلم لڑکی کے پیچھے بھاگتے تھے"۔  مانا جارہا ہے کہ یہ بات ہیگڈے نے بالواسطہ طورپرگنڈوراوکی مسلم بیوی تبو راو کے لئے کہی تھی۔
 اس پردنیش گنڈو راو نے ٹوئٹ کیا کہ اننت کمارہیگڑے کوعوامی اسٹیج پربات چیت کرنے کا طریقہ نہیں معلوم ہے۔ شاید انہوں نے ہندو گرنتھ نہیں پڑھے ہیں۔ واضح رہے کہ دنیش گنڈو راو کی بیوی تبوراو ہمیشہ سیاست سے دوررہتی ہیں۔
انہوں نے اس سے قبل بھی اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی تھی کہ ان کوسیاست میں نہ کھینچا جائے، لیکن اپوزیشن جماعتیں وقت وقت پرڈبیٹ (مباحثہ) میں ان کا نام لیتی رہتی ہیں۔ کچھ دن قبل ہی بی جے پی ممبرپارلیمنٹ شوبھا کرند لاجے اورپرتاپ سمہا نے بین مذہبی شادی کے سبب دنیش گنڈو راو پرنشانہ سادھا تھا۔
تبوراو نے اس وقت ایک بیان جاری کرکے کہا تھا کہ سیاسی فائدے کے لئےان کے نام اور دنیش گنڈوراو سے ان کی شادی کا ذکرکیا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ بہرحال سیاست دان اپنے فائدے کے لئے کچھ بھی کہتے اورکرتے رہتے ہیں۔ وہ کسی کے جذبات کی قدرکم اوراپنے مفاد کوزیادہ ترجیح دیتے ہیں۔