علی گڑھ مسلم یوینورسٹی نے اقلیتی درجہ کو لے کر مرکزی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کیا
03:09PM Wed 17 Aug, 2016
علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو اقلیتی درجہ دیے جانے کے معاملے میں مرکزی حکومت کے حلف نامے پر اے ایم یو نے بھی حلف نامہ کے ذریعے اپنا جواب داخل کر دیا ہے۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کا حلف نامہ سیاست سے متاثر ہے اور مرکز کو یو پی اے حکومت کا حلف نامہ واپس لینے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ اے ایم یو نے کہا ہے کہ حکومت بدلنے کی وجہ سے دوسری حکومت کا نظریہ تبدیل نہیں کرنا چاہئے۔ اے ایم یو ملک کی سب سے پرانی مسلم یونیورسٹی ہے۔ اس کے لئے اقلیتی درجہ تمام مسلمانوں کے لئے خاص معنی رکھتا ہے۔
دوسری جانب مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل حلف نامے میں کہا ہے کہ اے ایم یو کو اقلیتی ادارے کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ مودی حکومت نے حلف نامے میں 1967 میں عزیز باشا کیس کو بنیاد بنایا ہے جس نے کہا تھا کہ اے ایم یو کو مرکزی حکومت نے بنایا تھا نہ کہ مسلمانوں نے۔
مرکز نے حلف نامے میں 1972 میں پارلیمنٹ میں بحث کے دوران اس وقت کے وزیر اعظم اندرا گاندھی کے بیانات کا حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر اس ادارے کو اقلیتی درجہ دیا گیا تو ملک میں دیگر اقلیتی طبقے یا مذہبی اداروں کو انکار کرنے میں پریشانی ہوگی ۔
مرکز نے یو پی اے حکومت کے وقت انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت کے ان خطوط کو بھی واپس لے لیا ہے جن میں فیکلٹی آف میڈیسن میں مسلمانوں کو 50 فیصد ریزرویشن دیا گیا تھا۔ مرکز نے 1967 کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف 1981 میں پارلیمنٹ میں ترمیم بل پاس کرتے ہوئے اے ایم یو کو اقلیتی درجہ دیا، اسے بھی مودی حکومت نے غلط ٹھہرایا ہے۔ حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کورٹ کے فیصلہ کو بے اثر کرنے کے لئے ترمیم کرنا آئینی فریم ورک کے خلاف ہے۔