کرناٹک اردواکادمی اورانجمن خوش دلان کرناٹک کی جانب سے طنزومزاح پر سیمینار اورمشاعرہ

02:03PM Wed 29 Mar, 2017

بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) عام طورپر مشاعروں میں سامعین گھروں سے ہی ہنسنے کا مزاج لے کرنکلتے ہیں اورمشاعروں میں خوب ہنسی ہوتی ہے۔مگر سیمیناروں میں حالات بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ سیمینار میں پورے ذہن ودل کے ساتھ مقالہ نگاروں کوسننا پڑتا ہے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر م ن سعید نے کرناٹک اردو اکادمی کے اشتراک اور انجمن خوش دلان کرناٹک کی جانب سے بروز منگل28؍مارچ2017ء بمقام حمید شاہ کامپلکس اردو ہال میں منعقدہ ’’طنزومزاح پرایک سیمینار ومشاعرہ‘‘ کے موقع پراپنے کلیدی خطاب میں فرمایا۔آپ نے کہا کہ ہماری ترجیحات میں طنز کواولیت اورمزاح کو ثانوی درجہ حاصل ہے جب کہ مغرب میں مزاح کو اولیت اور طنز کو ثانوی درجہ دیا جاتاہے۔عام طورپر محفلوں میں ہنسنے ہنسانے کوبرا سمجھا جاتاہے حالانکہ ہنسی پر جوپابندی عائد کی جاتی ہے وہ درست نہیں ہے۔طنز کے لئے کشادہ دلی کی بہت ضرورت ہے۔آپ نے مزید کہا کہ طنز اسی معاشرہ میں پنپتا ہے جہاں کے معاشی حالات خراب ہوتے ہیں ۔طنزومزاح میں فرحت اللہ بیگ، سودا وغیرہ نے بڑی اہم خدمات انجام دی ہیں۔ فرحت اللہ بیگ کے مزاح میں دلآزاری کا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔آپ نے پطرس بخاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پطرس کا مزاح بھی بہت ہی اعلیٰ معیار کا ہے پطرس کے مضامین میں ایسے اعلی معیار کامزاح ملتا ہے کہ ہردور کا انسان ہنسنے پرمجبور ہوجاتاہے۔ابن انشاء ،مشتاق یوسفی وغیرہ کے دور میں طنزومزاح عروج پرپہنچ گیا۔آپ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مشتاق یوسفی اورمجتبیٰ حسین طنزومزاح میں بڑا اہم مقام رکھتے ہیں ان کے طنز ومزاحیہ مضامین پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا ہم بھی اس میں شریک ہیں۔ مزاح کی تعریف کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ اصل مزاح تووہی ہے جودیر پا ہو اور اس کے بہترین نقوش ہمیں ادباء کے مضامین میں ملتے ہیں۔آپ نے مزاح پرزور دیتے ہوئے کہا کہ مزاح سے حالات پرنکیر کی جاسکتی ہے اور اصلاح بہتر انداز میں ہوسکتی ہے جب کہ طنز کے صورت حال دیگر ہے۔ طنز سے اگر کسی کی اصلاح ہوجاتی تو بارود کی ضرورت نہیں پڑتی۔آپ نے کہا کہ طنز کے مقاصد بہت اچھے ہیں مگروہ ہماری ان ضرورتوں کی تکمیل نہیں کرسکتا جس کا معاشرہ متقاضی ہے۔مہمان خصوصی جناب عزیز اللہ بیگ،چیرمین کرناٹک اردو اکادمی نے کہا کہ ہندوستان میں طنزومزاح کی صورتحال یقیناًباعث تشویش ناک ہے برداشت کا مادہ کم ہوتا جارہاہے۔مشاعروں ،جلسوں اوردیگر محفلوں میں حاکموں سیاستدانوں وغیرہ کو جب طنز یا مزاح کا نشانہ بنایا جاتاہے توپھرطنزومزاح نگار کو ہدف ملامت بنادیاجاتاہے۔ اردو خوش قسمت ہے کہ اردو میں طنزومزاح کے صنف کوزندہ رکھا گیا ہے ۔اردو ادب میں طنز ومزاح کا مستقبل روشن ہے ۔آپ نے نئے لکھنے والوں کوآواز دی کہ وہ اس صنف میں بھی طبع آزمائی کریں۔ آگے بڑھیں تاکہ یہ روایت زندہ اورباقی رہے۔صدارتی خطاب میں ڈاکٹر نعیم اللہ خان نے کہا کہ مشاعروں کی محفلیں بارہا منعقد ہوتی رہتی ہیں طنزومزاح پر سیمینار منعقد کرنے میں عام طورپر بہت کم توجہ دی جاتی ہے ۔اس اعتبار سے انجمن خوش دلان کرناٹک قابل مبارکباد ہے کہ اس نے طنزومزاح پر یہ سیمینار منعقد کرکے کچھ ہنسنے ہنسانے کا موقع فراہم کیا۔ سیمینار کی پہلی نشست میں مقالے پڑھے گئے۔ ڈاکٹر حلیمہ فردوس نے ’’ظریفانہ ادب میں نسائی کرداروں کی جلوہ گری‘‘ کے عنوان پر اپنا بہترین اورپرمغز مقالہ پیش کیا۔ جب کہ ’’طنز کیا ہے،مزاح کیا ہے‘‘کے عنوان پر جناب رؤف خوشتر نے مقالہ پیش کیا ۔مقالہ نگار مولانامحمد اشرف علی رشادی نے بھی ’’اردو ادب میں طنزومزاح‘‘کے عنوان پر کافی معلوماتی مقالہ پیش کیا ۔جناب حمید الماس صاحب نے نظامت کے فرائض بڑی ہی خوش اسلوبی سے انجام دیئے۔ اس پہلی نشست میں کثیر تعداد میں ادب نواز حضرات شریک رہے۔ جن میں افتخار احمد شریف،ایڈیٹر روزنامہ سالار،ڈاکٹر سی وائی ایس خان،جناب صابر صاحب، ڈاکٹر مہ نور زمانی،ڈاکٹر فجیہ سلطانہ،وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اس موقعہ پر طنز و مزاح کاسہ ماہی کا خصوصی گوشہ بیادِ مرحومہ ڈاکٹر فوزیہ چودھری کا اجراء عمل میں آیا ۔قاضی انیس الحق نے شکریہ کے فرائض انجام دیئے۔ظہرانہ کہ فوری بعددوسری نشست محفل مشاعرہ منعقد تھا۔ جس میں شاداب بے دھڑک، عرفان رائچوری،ندیم فاروقی،اثرجعفری،نظیر نصرت ہنگامہ ، چاچا پالموری اور ہری کرشن پریشان نے شامعین کو اپنے کلام سے محظوظ کیا ۔ جناب شفیق عابدی نے بہترین نظامت کے فرائض انجام دیا۔ اس محفل کی صدارت کے فرائض الف۔احمد برق نے ادا کئے۔ منیر مسیحا کے شکریہ کے ساتھ اس نشست کے اختتام کا اعلان کیا