اور حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی توجہ بہتر طریقے سے اس کے جانب مرکوزکرے۔ سوال یہ کہ کیا ہندوستان کے پانچویں صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کے اہل خانہ یا اِن جیسے ہزاروں باشندے جن کا ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ ہے وہ ہندوستانی کہلائیں گےیا ملک بدر کیے جانے کا خوف برقراررہیگا ۔
ان کے مطابق ان کے خاندان کے کسی فرد کا نام این آر سی میں نہیں آیا ۔اب یہ لوگ دوبارہ اپیل کرنا چاہتے ہیں۔ سابق صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کے اہل خانہ بھی این آر سی کی فہرست سے باہرہیں ۔یہ کوئی اتفاق نہیں ۔بلکہ پرامید کوششوں کے باوجود فخرالدین علی احمد کے اہل خانہ خود کو ہندوستانی نہیں ثابت کر پائے۔سابق صدر جمہوریہ کا خاندان آسام کے کامروپ ضلع کے رنگیا علاقے میں قیام پذیر ہیں۔اور شہریت ثابت کرنے کے لئے ہمہ جہت جتن کر رہے ہیں ۔
آسام:این آر سی کی فہرست میں سابق صدرجمہوریہ فخرالدین علی احمد کے اہل خانہ بھی نہیں
11:43AM Mon 2 Sep, 2019
ہمارے ملک میں سب سے بڑااور باوقارعہدہ صدرجمہوریہ کاہوتاہےاوراس عہدےپرسرفراز ہوئے شخص کے اہل خانہ بھی اگر ہندوستانی شہریت سے قانونی طور پر محروم رہیں تو یقیناً افسوس کا مقام ہے۔جی ہاں ہم بات کر رہے ہیں۔ ہندوستان کے سابق صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کی ۔جن کے اہل خانہ کا نام این آر سی کی حتمی فہرست سے غائب ہے
سابق صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کے بھتیجے ضیاء الدین علی احمد ان انیس لاکھ لوگوں میں سے ایک ہیں جن کا نام این آر سی کے حتمی فہرست میں نہیں ہے۔ ضیاالدین کے اہل خانہ کے کسی فرد کا بھی نام این آر سی میں نہیں ہے۔تمام کوششوں کے باوجود،ضیاالدین خود کو ہندوستانی شہری ثابت نہیں کرسکے۔سابق صدر جمہوریہ کا خاندان آسام کے کامروپ ضلع کے رنگیا علاقے میں قیام پذیر ہیں
مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اس معاملے پر ٹویٹ کرکے افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ لاکھوں حقیقی شہریوں کے نام این آر سی میں شامل نہیں ہیں۔اُن میں سی آر پی ایف جوان ،دیگر سکیورٹی اہلکار سمیت سابق صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کے رشتہ دار بھی شامل ہیں ۔ممتا نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ حقیقی شہریوں کے نام این آر سی کی فہرست سے باہر نہ رہ جائیں ۔ایسے لوگوں کے ساتھ انصاف کیا جائے۔۔