ایودھیا تنازعہ: آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے طلب کی ایمرجنسی میٹنگ
12:29PM Sun 24 Mar, 2019
آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اتوار کو لکھنو میں ایک ایمرجنسی میٹنگ طلب کی ہے۔ اس میں بورڈ کے صدر سمیت کئی اراکین کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ اس میٹنگ سے میڈیا کو دور رکھا گیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں بابری مسجد-رام مندر اراضی تنازعہ کے تعلق سے اہم امور پر گفتگو ہو سکتی ہے۔
لکھنو کے ندوہ کالج میں لوک سبھا انتخاب سے پہلے ہو رہی مسلم پرسنل لاء بورڈ کی میٹنگ میں ایودھیا تنازعہ کے ساتھ ساتھ طلاق ثلاثہ اور دارالقضاء جیسے اہم ایشوز پر بھی بحث ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ میٹنگ میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سبھی 51 اراکین کے ساتھ ہی سنی سنٹرل وقف بورڈ کے نمائندے بھی شامل ہونے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل 12 مارچ کو بھی لکھنؤ کے ندوہ کالج میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بابری مسجد کے فریقین اور دیگر علماء کے ساتھ میٹنگ کی تھی۔ قابل غور ہے کہ 8 مارچ کو سپریم کورٹ نے ایودھیا تنازعہ کا حل مصالحت کے ذریعہ نکالنے کے مقصد سے سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی جو سبھی فریقین کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ اس کمیٹی کے صدر سپریم کورٹ نے سابق جسٹس ابراہیم کلیف اللہ کو بنایا تھا۔ ان کے علاوہ آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر اور سینئر وکیل شری رام پنچو اس ثالثی کمیٹی کے رکن ہیں۔