کرناٹک میں پینے کے پانی کی فراہمی کامسئلہ وزیر اعظم کی فوری مداخلت کیلئے کانگریس کامطالبہ
04:31AM Wed 3 Jan, 2018
بنگلورو۔ 3 جنوری (پی ٹی آئی) کانگریس پارٹی نے لوک سبھا میں آج ریاست کرناٹک میں پینے کے پانی کامسئلہ حل کرنے کیلئے وزیر اعظم نریندر مودی سے فوری مداخلت کامطالبہ کیا ۔ صفر ساعت کے د وران اس مسئلے کو اٹھاتے ہوئے مدا ہنومے گوڈا نے کہا کہ ریاست کے عوام بالخصوص شمالی علاقے کے لوگ پانی کے شدید بحران کاسامنا کررہے ہیں۔کرناٹکا شمالی علاقے میں پینے کے پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مہادائی ندی سے پانی لینا چاہتا ہے ۔ اس علاقے میں یہ ایک جذباتی اور سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔ اس مسئلہ کوسلجھانے کیلئے وزیر اعظم کی مداخلت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ فوری مداخلت کریں اور اس مسئلہ کا حل نکالیں ۔ اس کے جواب میں پارلیمان امور کے وزیر اننت کمار نے کہا کہ گوا کے وزیر اعلیٰ منوہر پاریکر نے اس معاملے میں عدالت کے باہر مذاکرات کیلئے کرناٹک کے سابق وزیراعلیٰ کو پہلے ہی ایک مکتوب لکھا ہے۔ اس بات پر کانگریس ارکان نے شور مچادیا کہ یہ مکتوب ایک سابق وزیراعلیٰ کو کیوں لکھا گیا ہے۔ گوا کے وزیر اعلیٰ نے گزشتہ 21دسمبر کو ایڈی یورپا کو لکھے اپنے خط میں کہا تھا کہ گوا اصولی طور پر پینے کے پانی کی ضروریات کیلئے مناسب مقدار میں پانی استعمال کئے جانے کی مخالفت نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ معاملہ مہادائی پانی تنازعہ خصوصی عدالت ( ٹرابیونل ) میں زیر التواء ہے۔ کرناٹکا چاہتا ہے کہ گوا کلاسا بنڈوری نالہ پروجیکٹ کیلئے 7.56ٹی ایم سی فیٹ پانی جاری کرے۔ یہ پروجیکٹ ہبلی دھارواڑ جڑواں شہر اوربلگام اور گدگ کے اضلاع میں پینے کے پانی کی فراہمی میں بہتری کے لئے شروع کیا گیا ہے۔اس پروجیکٹ کے تحت مہا ندی کی معاون ندیوں کلاسا اور بندوری پر باندھ کے ذریعہ اس علاقے کے لوگوں کو پینے کا پانی مہیا کرنے کیلئے میا ندی سے پانی کی ضرورت ہے ۔ یہ معاملہ گوا اور ریاست کرناٹک کے درمیان ایک تنازعہ بن گیا ہے ، اس کو سلجھانے کیلئے ایک خصوصی عدالت ( ٹرابیونل ) تشکیل دی گئی ہے ۔ یہ معاملہ اس عدالت میں زیر التواء ہے۔گوا نے اس سے قبل بھی عدالت کے باہر اس معاملے کوسلجھائے جانے کی مخالت کی تھی اور دونوں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے درمیان اجلاس کے بارے میں مثبت جواب نہیں دیا تھا۔ لیکن اب کرناٹک میں اسمبلی انتخابات کے پیشِ نظر ایک سباق وزیر اعلیٰ جو کہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں انہیں مکتوب روانہ کیا ہے۔