نجی ہاسٹلوں میں سی سی ٹی وی کیمرے لازمی :میان ہولس کی صفائی کیلئے ایمبولنس، فائر فورس اور پولیس کا ہونا لازمی: آنجنیا
03:47PM Sat 11 Mar, 2017
بنگلورو۔(بھٹکلیس نیوز) نجی تعلیمی اداروں کی طرف سے چلائے جانے والے ہاسٹلوں کے باورچی خانہ اور اسٹور رومس میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں بہت جلد ایک سخت قانون لاگو کرنے پر ریاستی حکومت سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔یہ بات آج ریاستی وزیر برائے سماجی بہبود ایچ آنجنیا نے کہی۔ ٹمکور ضلع کے ہلیار میں نجی ہاسٹل میں زہر آلود کھانا کھانے کے سبب تین بچوں کی موت کے واقعہ کے بعد سخت قدم اٹھانے کیلئے آگے بڑھتے ہوئے ریاستی حکومت نے طے کیا ہے کہ آئندہ اس طرح کے واقعات کو روکنے کیلئے تمام نجی ہاسٹلوں میں سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب لازمی قرار دی جائے، اور جن ہاسٹلوں میں اس لزوم سے انحراف کیا جائے گا ان کو سرکاری تحویل میں لے لیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ سرکاری ہوکہ نجی کسی بھی ہاسٹل میں اس طرح کے واقعات دہرائے نہ جائیں، اس کیلئے محکمہ نے تمام احتیاطی قدم اٹھائے ہیں۔ محکمۂ صحت کے افسران سے گذارش کی گئی ہے کہ تمام نجی اور سرکاری ہاسٹلوں کے باورچی خانوں اور اسٹور رومس کا معائنہ کریں اور وہاں کی پاکی صفائی کے متعلق اپنے طور پر سند دیں۔ انہوں نے کہاکہ محکمۂ صحت سے گذارش کرکے تمام ہاسٹلوں کو ڈاکٹروں کی ٹیموں کا دورہ لازمی قرار دیا جائے گا۔ وزیر موصوف نے کہاکہ سرکاری ہاسٹلوں میں پہلے ہی سے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جاچکے ہیں، ساتھ ہی ان ہاسٹلوں میں تیار ہونے والے کھانے کو اعلیٰ حکام کی طرف سے روزانہ آن لائن دیکھنے کا انتظام بھی کیاگیا ہے۔آنجنیا نے کہاکہ محکمۂ سماجی بہبود کے تحت چلنے والے ہاسٹلوں اور اقامتی اسکولوں میں چھ لاکھ سے زائد بچے مقیم ہیں، اتنی بڑی تعداد میں بچوں کے ساتھ محکمہ قطعاً کھلواڑ نہیں کرے گا۔
میان ہولس کی صفائی: حال ہی میں شہر کے سی وی رامن نگر علاقہ کے گگداسا پورہ میں میان ہول کی صفائی کے دوران دم گھٹنے کے سبب تین مزدوروں کی موت کے واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر آنجنیا نے کہاکہ انڈر گراؤنڈ ڈرینج سے جڑے میان ہول کی صفائی کیلئے محکمہ کی طرف سے سخت ضوابط وضع کئے گئے ہیں، جو بھی کنٹراکٹر میان ہول کی صفائی کا ٹھیکہ حاصل کرے گا اس کیلئے لازمی ہوگا کہ میان ہول کی صفائی کے دوران بی بی ایم پی انجینئر کو وہاں حاضر رکھے، ساتھ ہی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے وہاں پر ایمبولنس ، فائر فورس کی گاڑی اور پولیس عملہ موجود رہے ، اس کے بغیر میان ہول کی صفائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ مسٹر آنجنیا نے کہاکہ سی وی رامن نگر علاقہ میں جو حادثہ پیش آیا اس طرح کے واقعات دوبارہ ریاست میں کہیں بھی نہ ہونے پائیں، اس کیلئے یہ احتیاطی قدم اٹھایا گیا ہے۔ وزیر موصوف نے کہاکہ پہلے ہی بلدی اداروں بشمول بی بی ایم پی کی طرف سے سخت ہدایات کنٹراکٹروں کو دی جاتی ہیں کہ بغیر احتیاط کے میان ہولس کی صفائی کی حماقت نہ کی جائے۔ احتیاط برتنے کی بجائے عجلت میں میان ہول صاف کرانے کی جو کوشش کنٹراکٹر نے کی ہے اس کی وجہ سے تین اموات ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تمام سٹی کارپوریشنوں ، سٹی میونسپل کونسلوں ، ٹاؤن میونسپل کونسلوں اور دیگر بلدی اداروں کو سخت ہدایت دی جاچکی ہے کہ آئندہ میان ہولس کی صفائی میں تمام احتیاط اپنائی جائے۔ انہوں نے کہاکہ میان ہول کی صفائی کیلئے لازمی طور پر مشین کا استعمال کرنے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی ہدایت موجود ہے، پھر بھی کنٹراکٹرس اس پر عمل نہیں کرتے۔ مجبوراً صفائی کارکنوں کو میان ہولوں میں اتارا جاتا ہے، انہوں نے کہاکہ میان ہول میں اتر کر ہی صفائی کرنا اگر ناگزیر ہو تو اس کیلئے صفائی کارکنوں کو پہلے ہی سے احتیاطی تدابیر بتانی ہوگی، میان ہول میں اترنے سے پہلے انہیں کنٹراکٹ میں وضع کردہ کیمیکل یا دوائیں مہیا کرانی ہوگی۔ ساتھ ہی ایمبولنس اور فائر فورس کی گاڑی وہاں موجود رہنا لازمی ہوگا۔ آنجنیا نے کہاکہ جلد ہی اس سلسلے میں وہ متعلقہ محکموں کے سربراہوں کو طلب کرکے ایک میٹنگ کریں گے۔ آنجنیا نے کہا کہ اس واقعہ کے سلسلے میں تمام تفصیلات پیش کرنے بی ڈبلیو ایس ایس بی کو سخت نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
ذات پات کا سروے:2015 کے دوران ریاستی حکومت کی طرف سے کروائے گئے سماجی، معاشی وتعلیمی سروے کے اعداد وشمار پر مشتمل رپورٹ اپریل میں منظر عام پر لائی جائے گی۔ یہ اعلان مسٹر آنجنیا نے کیا۔انہوں نے کہاکہ ریاست کے مستقل پسماندہ طبقات کمیشن کی طرف سے ریاست بھر کے عوام کا سماجی ، معاشی وتعلیمی سروے کیاگیا ،تاکہ مختلف ذاتوں اور طبقات سے وابستہ افراد کی نشاندہی کرکے آبادی کے تناسب سے ان کی فلاح وبہبود کیلئے منصوبے مرتب کئے جاسکیں۔ انہوں نے کہاکہ سروے کا کام بہت پہلے پورا ہوچکا ہے۔ اعداد وشمار پر مشتمل رپورٹ بھی حکومت کے پاس تیار ہے، اپریل کے دوران اس کے مشمولات منظر عام پر لائے جائیں گے۔