بزم روح ادب کے زیر اہتمام طرحی منقبتی مشاعرہ
04:03PM Mon 22 May, 2017
بندگی میاں شاہ نعمتؒ کی زندگی تقویٰ سے بھری زندگی تھی۔مولانا عابد خوندمیری
چن پٹن۔(بھٹکلیس نیوز) 20؍مئی ہفتہ کی شب بزم روح ادب چن پٹن کے زیر اہتمام عابد مسجد، نزد مہدویہ سرکل(شیرو ہوٹل) دائرہ چن پٹن میں امامناسیدنا حضرت سید محمد جونپوری مہدی موعودؑ کے خلیفہ سوم حضرت بندگی میاں شاہ نعمتؒ کی شان اقدس میں طرحی منقبتی مشاعرہ منعقد ہوا جس کی صدارت مفسرقرآن حضرت مشائخ سید میرانجی صاحب عابدؔ خوندمیری نے کی۔ خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ بندگی میاں شاہ نعمتؒ کی زندگی شریعت کے مطابق تھی۔ آپ ہمیشہ کافروں کے لئے بڑے سخت ہوا کرتے تھے۔ آپ کا تقویٰ بے مثال تھا۔ آپ کی سیرت حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کی سیرت کی طرح پاک وصاف تھی۔ اسی لئے مہدی موعودؑ نے آپ کو ثانی فاروق اعظمؓ فرمایا۔ مولانا نے حالات حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہمیں مسلم پرسنل لاء کی مکمل تائید و حمایت کرنی چاہئے کیونکہ مسلم پرسنل لاء شریعت مصطفیؐ کے مطابق ہے ۔ آج جو لوگ طلاق ثلاثہ کو لے کر واویلا مچارہے ہیں ان کے نامعقول دلائل سے ہم اپنی شریعت میں مداخلت برداشت نہیں کرسکتے۔ کئی نوجوان اپنی بیویوں کو طلاق دینے میں جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے ۔مولانا نے کہا کہ آپ کو اس سلسلے میں علم حاصل کرنا چاہئے ۔ معلومات کے لئے علمائے کرام و مشائخین سے رجوع ہوں ۔ بات کو سمجھیں ۔پھر آگے بڑھیں ۔ مولانا نے کہا کہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ ہر مسلمان مرد طلاق دے لیکن اپنی بیویوں کونہیں بلکہ شرک و بدعت اوررسم ورواج کو ۔ ایک نہیں تین طلاق دے اور پاک وصاف اور صالح زندگی گزارنے کی کوشش کرے۔ اپنی بیویوں پر ظلم نہ کریں بلکہ انہیں اپنی زندگی کا حصہ مانیں اور یگانگت سے پیش آئیں ۔مولانا نے کہا کہ بزم کے زیر اہتمام مشاعرے منعقد کرنے کا مقصد ایک طرف زبان کو فروغ دینا ہے تو دوسری طرف عقیدہ کو مضبوط کرنا اور اس کا اظہار کرنا ہے۔آج شعراء کاکلام سن کر بہت خوشی ہورہی ہے کہ اس سخت مصرعہ پر بھی شعراء نے بہترین کلام پیش کیا۔ مولانا سید اشرف روحی خوندمیری کی قرأت سے آغاز ہوا۔ فیضان خان اور سید ابراہیم خلیل نے بارگاہِ رسالتؐ اور بارگاہِ ولایت میں اپنا منظوم نذرانہ عقیدت پیش کیا۔ سید مختار احمد خوندمیری نے تحریک صدارت پیش کی اور شاہ جلال الدین نظامی شاہی نے تائید کی۔ ناظم مشاعرہ سید یعقوب اسحاقی نے استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا سید میرانجی عابد خوندمیری دین کی خدمت میں برابر لگے ہوئے ہیں ۔آپ کی سرپرستی بزم روح ادب کے لئے روح کی طرح ثابت ہورہی ہے ۔ آپ نے تفسیر نور ایمان کے بعد معجم الدین جیسی بہترین کتاب لکھی ہے ۔ مزید کتابیں بہت جلد منظرعام پر آئیں گی۔ حسب ذیل شعراء نے مصرعہ طرح’’ ثانیؐ فاروق اعظم، شاہ نعمت ؒ آپ ہیں ‘‘ پراپنی طرحی تخلیقات پیش کیں ۔مولانا سید اشرف روحی خوندمیری، مولانا سید طاسین آغا عرشی خوندمیری، فقیر سید محبوب میاں آرزو،سید یعقوب ذکی، شاہ عبدالرشید سہیل نظامی، عبدالکریم انجم، سید مختار احمد خوندمیری، شاہ جلال الدین نظامی شاہی، سید محمود یداللہی محمود، نظام بیگ نظام ،سید اظہر نظامی، شاہ انضمام نظامی نامی، صداقت مہدی صداقت۔عشرت جہاں ثمرؔ کا کلام شاہ فرید نظامی نے اور مولانا سید طاہر نجمی خوندمیری نجمیؔ بھڑوچ گجرات کا کلام سید حماد رضوی خوندمیری نے پیش کیا۔ذکی چن پٹن کے شکریہ پر مشاعرہ اختتام کو پہنچا۔