آدتیہ ناتھ کو یوپی کا وزیراعلیٰ بناناافسوس ناک:طارق انور
03:14PM Mon 20 Mar, 2017
کٹیہار، (بھٹکلیس نیوز)یوگی آدتیہ ناتھ کو اترپردیش کا وزیر اعلی بنانا افسوس ناک بات ہے، ویسے ہر پارٹی کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ اپنے وزیر اعلی کا انتخاب خود کرے ، لیکن اس سے وہاں جیسا ہوا ،اس سے اس بات کا اندازہ ہورہا ہے کہ بی جے پی ملک کو کس سمت میں لے جا رہی ہے۔اتوار کو نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری اور کٹیہار سے ممبر پارلیمنٹ طارق انور نے کے بی ڈاؤن جھا کالج میں واقع دیپ نارائن گپتا کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کے دوران مذکورہ خیالات کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ہم لوگ کوشش کر تے رہتے ہیں کہ ملک کی سیاست کسانوں کی چوپال غریبوں کی جھونپڑی ، عام لوگوں کے گھر سے ہو، لیکن بی جے پی مٹھ کے مہنتوں کو ہی ترجیح دے رہی ہے۔جہاں تک یوگی آدتیہ ناتھ کا سوال ہے ، وہ ایک بنیاد پرستانہ نظریات کے حامل ہیں ، یوگی آدتیہ ناتھ کی شبیہ اترپردیش کی سماجی ہم آہنگی اور سماجی منظرنامہ کے مطابق نہیں ہے، جس طرح اتر پردیش انتخابی مہم میں انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ، اس سے لگتا ہے کہ ملک کے آئین پر ان کا یقین بالکل بھی نہیں ہے، ویسے اتحاد ہمارے ملک کی روایت رہی ہے، لیکن بی جے پی ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے میں لگی ہے۔وہیں، اس موقع پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر انور نے کہا کہ مودی کے آگے اپوزیشن پوری طرح بے اثر ہو گیا ہے، اس بات سے میں متفق نہیں ہوں، ابھی جو پانچ ریاستوں کا انتخاب ہوا ہے ،اس میں یوپی اور اتراکھنڈ میں بی جے پی کو اکثریت ملی ہے، لیکن اگر دوسری طرف دیکھا جائے ،تو پنجاب میں بی جے پی کو تین سیٹ، گوا میں بی جے پی کی حکومت تھی، وہاں ان کے وزیر اعلی سمیت 8 وزیر الیکشن ہار گئے اور بی جے پی کواسمبلی کی 40سیٹو ں میں سے محض 11سیٹیں حاصل ہوئی۔اسی طرح منی پور میں دیکھا جائے تو 60میں سے بی جے پی کو 21سیٹیں ہی ملی، وہاں بھی لوگوں نے بی جے پی کو مسترد کردیا۔پنجاب میں بی جے پی کی درگت ہوئی،یہ سبھی لوگوں نے دیکھا ہے، پنجاب، گوا، اور منی پور ملک کے تین کونے پر ہے اور تینوں جگہ بی جے پی کو لوگوں نے مسترد کردیا ہے، تو یہ کہنا کہ ملک میں مودی کی طوطی بول رہی ہے، اس سے بڑا جھوٹ کوئی نہیں ہو سکتا۔اتر پردیش میں جو کامیابی پارٹی کو ملی ہے، اس کی واضح وجہ ووٹوں کی تقسیم ہے۔طارق انور نے کہا کہ ای وی ایم پر ایک بہت بڑا سوال اٹھ رہا ہے، جسے مایاوتی اور کیجریوال نے اٹھایا ہے جس پر ملک بھر میں بحث بھی شروع ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اتر پردیش میں بی جے پی کو ملی واضح اکثریت سے بہار کی سیاست پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔