مسلم پرسنل لا بورڈ کو ایک مکمل لائحہ عمل تیار کرنے نومنتخب رکن بورڈالحاج قمر الاسلام کا مشورہ
03:26PM Wed 23 Nov, 2016
بورڈمیں نوجوانوں کاسیل بھی قائم کیا جائے :ڈاکٹر محمد اصغر چلبل
گلبرگہ،(ایف او یس)
آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈکے سالانہ25ویں اجلاس کلکتہ کے بینکویٹس ہال میں18,19,20نومبر کو مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی صدارت میں منعقدہوا۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ایک بار پھر مولانا سید محمد رابع حسنی ندی کو صدر منتخب کر لیا ہے ۔ 25؍ویں اجلاس کی افتتاحی تقریب میں صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے کہا کہ اسلام روادری اور بھائی چارہ کا مذہب ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام اپنا مذہب کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں پر جبراً تھوپنے کا قائل نہیں ہے اور جن ملکوں میں اسلامی حکومتیں ہیں وہاں بھی اقلیتوں کو اپنے مذاہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے ۔ اس سے قبل18نومبر کو پہلی نشست جس میں تاسیسی ارکان و میقاتی ارکان کا انتخاب کرنا تھا۔ اس نشست میں سید شاہ مصطفےٰ رفاعی جیلانی رکن تاسیسی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نیو رکن اسمبلی گلبرگہ شمال ڈاکٹر قمرالاسلام صاحب سابق وزیر کی ملی خدمات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میقاتی رکن کیلئے پیش کیا جس پر تمام تاسیسی ارکان نے متفقہ طور پر ڈاکٹر قمرالاسلام کو میقاتی رکن کی حیثیت سے منتخب کر لیا۔ ڈاکٹر قمرالاسلام صاحب نے صدر کے خطبۂ استقبالیہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس خطبہ استقبالیہ کی بھر پور تائید کرتے ہیں ،اور مبارکباد پیش کرتے ہیں کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے کئی اہم شخصیات کے ساتھ ان کو کام کرنے کا موقع ملا جو آج اس دُنیا میں نہیں ، انہوں نے کہا کہ وہ اپنی 40سالہ سیاسی زندگی میں ملک کے کئی نشیب و فراز سے کو دیکھا لیکن آج70سال کے بعد مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر دیکھ کر اور ان میں اتحاد کودیکھ کر بے حد مسرت ہو رہی ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کو ایک مکمل لائحہ عمل بنانے کی ضرورت ہے ، کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جو حکومت چل رہی ہے اس کے عزائم ٹھیک نظر نہیں آرہے ہیں اور یہ ایمانداری کے ساتھ آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں ۔ ہمیں پورے اتحا د و اتفاق کے ساتھ اپنے شریعت کی حفاظت کرنی ہے ۔ اور ساتھ ہی ساتھ اصلاح معاشرہ کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ وہ علاقہ حیدرآباد کرناٹک کی جانب سے مرکزی سیرت کمیٹی ضلع گلبرگہ کے زیر اہتمام کل جماعتی مسلم پرسنل لاء کی بقاء و تحفظ شریعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی زندگی میں اس علاقہ میں ایسا جلسہ جس میں ہزاروں کی تعداد نے مسلمان مرد و خواتین شرکت کی کبھی نہیں دیکھا۔ یہ مکار ہمارے سامنے پوری مکاری کے ساتھ آرہے ہیں ان کے مکاری ارادوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ڈاکٹرقمرالاسلام نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے2017-18کے بجٹ منظوری پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا موجودہ دفتر کافی نہیں ہے اور پرسنل لاء بورڈ کو چاہئے کہ وہ ایک وسیع جگہ کا انتخاب کر کے ایک نیا دفتر تعمیر کروائے۔ ان کی اس تجویز پر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صدر اورمولانا محمد ولی رحمانی سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اتفاق کرتے ہوئے ایک پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی جس میں ڈاکٹر قمرالاسلام صاحب کے علاقہ کمال فاروقی، ای ابوبکر، مولانا فضل الرحیم مجددی سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور خازن مسلم پرسنل لاء بورڈ شامل ہیں ۔ یہ کمیٹی ایک وسیع جگہ کا انتخاب کر کے اپنی رپورٹ پرسنل لاء بورڈ کو پیش کرے گی۔ وقف ایوکیشنWakf Evication Actانخلاء جائیداد وقف پر اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر قمرالاسلام نے اپنی دور وزارت انقلابی اسکیموں کا حوالہ دیا۔ اور کہا کہ ملک میں پہلی بار ریاست کرناٹک میں ائمہ و موذنین کے ہدیہ اسکیم ، غریب و نادار لڑکیوں کی شادی، وقف سی اینڈ آر رول(C&R Roll)کی ترجیم، وقف کو فعال اور متحرک بنانے کیلئے تقریبا300مسلم نوجوانوں کا تقرر اور سروے جیسے کام انجام دئیے ، انہوں نے مزید بتایا کہ مرکزی وقف ایوکیشن ایکٹ مکمل نہیں ہے اور کئی اہم نقطۂ نظر اس میں شامل نہیں ہیں ۔ اس میں مزید سدھار اور اضافہ کی ضرورت ہے ۔ محمد ولی رحمانی جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے قمرالاسلام صاحب کی تجاویز کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ پچھلی UPAحکومت کو ایک مسودہ وقف ایجوکیشن ایکٹ میں ترمیم کا دیا تھا۔لیکن اس حکومت نے اس پر نظر ثانی نہیں کی ۔ اور اب بھی وہ NDAحکومت کو یہ مسودہ پیش کرینگے۔ انہوں نے قمرالاسلام صاحب سے کہا کہ آپ زمینی سطح سے جڑے ہوئے اور وسیع تجربہ رکھتے ہیں مزید تجاویز آپ تحریری شکل میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے دفتر روانہ کرنے کو کہا، ڈاکٹر محمد اصغر چلبل مدعو خصوصی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے تحریری شکل میں چند تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ صدر محترم کا خطبہ استقبالیہ بہت ہی شاندار ہے اور اس کو دیگر ریاستوں کے علاقائی زبان میں بھی ترجمہ کی ضرورت ہے ، ایک دوسری تجویز میں انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نوجوانوں میں اُٹھے طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی حکمت عملی پر توجہہ دلانے کی ضرورت اور مسلم پرسنل لاء بورڈ میں الگ الگ سیل قائم کئے گئے وہیں نوجوانوں کا بھی ایک سیل قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نوجوان بھی آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ سے وابستہ ہو جائیں ۔ ان کی تجویز پر محمد ولی رحمانی نے ڈاکٹر محمد اصغر چلبل سے کہا کہ وہ کنڑا میں ترجمہ کر کے بورڈ کو روانہ کریں اور دوسری تجویز پر انشاء اللہ غور کرنے کا تیقن دیا۔ آخر میں ڈاکٹر قمرالاسلام نے صدر و جنرل سیکریٹری ، نائب صدور و ارکان تاسیسی سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ہر وقت ساتھ دینگے ، مولانا حکیم عبداللہ مغینی ، مولانا سید باقر، عاصم فیروز سیٹھ، ڈاکٹر محمد اصغر چلبل، ظفریاب جیلانی ایڈوکیٹ، مولاناسجاد نعمانی صدر پاپولر فرنٹ آف انڈیا، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، مولانا کا کا سعید عمری نائب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ،مولانا کلب صادق نائب صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ، مولانا خالد سیف اللہ خان ، فضل الرحیم مجددی، آس محمدگلزارقاسمی، عادل سلیمان سیٹھ، وغیرہ نے ڈاکٹر قمرالاسلام صاحب کو رکن منتخب ہونے پر دلی مبارکباد پیش کیں۔