بہت جلد کسی کو وزیر داخلہ بنایا جائے گا
03:53PM Tue 11 Jul, 2017
غنڈوں کے ساتھ پولیس اہلکاروں کے تعلقات بالکل برداشت نہیں۔ سدارامیا
بنگلور(بھٹکلی نیوز):۔ وزیراعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ وزیر داخلہ کا انتخاب بہت جلد ہوگا اور اس کے لئے کئی وزراء سامنے آئے ہیں اور حکومت غنڈوں کے ساتھ پولیس اہلکاروں کے تعلقات کو بالکل برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے نروپتنگا روڈ پر واقع پولیس ہیڈ کوارٹرس میں اعلیٰ پولیس افسران کے ساتھ سالانہ میٹنگ کرنے کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ اس میٹنگ کو لیکر کوئی خصوصی بات نہیں ہوئی اور وہ ہر سال اعلیٰ افسران کے ساتھ میٹنگ کرتے ہیں اور ان کی کارکردگی اور کام کاج کا جائزہ لیتے ہیں۔تمام اعلیٰ افسرا ن کو لوگوں کے ساتھ بہترین تعلقات قائم رکھنے اور پولیس تھانو ں میں شکایت درج کرانے کے لئے آنے والے لوگوں کے ساتھ خوش اسلوبی کے ساتھ پیش آنے کے علاوہ ان کے مسائل کو فوری حل کرنے کا حکم دیا ہے اور اس معاملہ میں پویس تھانوں کو بار بارپھرانے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی ہوگی۔ پولیس تھانوں میں اگر غنڈے یا سماج عناصر دشمن دکھائی دئے تو پولیس اہلکارو ں کو معطل کے بجائے پویس سرویس سے بھی برخاست کردیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اہکاروں کو کئی مرتبہ نصیحت اور تائید کرنے کے باوجود پولیس تھانوں میں ہمیشہ ریل اسٹیٹ کا دھندہ کرنے والے لوگ اور غنڈے ہی دکھائی دیتے ہیں ۔ اراضی معاملات کو حل کرنے میں پولیس اہلکار کچھ ضرورت سے زیادہ ہی دلچسپی لینے لگے ہیں ۔پولیس اہلکارو ں کو چاہےئے کہ وہ اسی طرح کے معاملات میں غریب لوگوں کو انصاف دلوائیں اور معصوم لوگوں پر ظلم بالکل برداشت نہیں۔ انہو ں نے الزام لگایا کہ سابقہ حکومتو ں کی غلطیوں کی وجہ سے ان کی حکومت کو سب کچھ ٹھیک کرنے اور برداشت کرنے کا کام کرنا پڑرہا ہے۔ کئی سالوں سے محکمۂ پولیس میں اہلکاروں کی بھرتی اور ترقی نہیں ہوئی تھی۔ ا ن کی حکومت آنے کے بعد23ہزار پولیس اہلکاروں کی بھرتی ہوئی ہے اور 12ہزار سے زائد ہیڈ کانسٹیبل سے لیکر سب انسپکٹروں کو لیکر ترقی دی گئی ہے کئی سالوں سے پولیس اہلکاروں کو انا ج دیاجارہا ہے اس کے علاوہ انہیں سوپر مارکیٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں ایک سازش کے تحت ان کی حکومت کو بدنام کرنے کیلئے فرقہ وارانہ فسادات کرائے جارہے ہیں۔ اگر فسادات کو ختم نہیں کیا گیا تو اس کے لئے پولیس اہلکار ذمہ دار ہیں۔ پولیس اہلکار کو جانکاری ہوتی ہے کہ سماج میں غنڈے اور دیگر پیشہ وارانہ ملزمیں کہاں رہتے ہیں اور کیا سرگرمیاں انجام دیتے ہیں اگر ان پر کڑی نظر رکھی گئی تو ہونے والے جرائم کو روکا جاسکتا ہے ۔ پولیس اہلکار اپنی جیب بھرنے کے لئے غنڈوں کو سماج مخالف سرگرمیاں انجام دینے کا موقعہ دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک و شعبہ نہیں کہ فسادات کرانے میں بی جے پی اور دیگر فرقہ پرست جماعتوں کا ہاتھ ہے۔ ساحلی علاقوں میں ضرورت سے زیادہ فرقہ وارانہ فسادات ہورہے ہے۔اسے ختم کرنے کیلئے پولیس کو نہایت چوکنا رہنا ہوگا اور ملزموں کو کڑی نظر رکھنی ہوگی۔ اشتعال انگیز تقاریر کرنا ایک فیشن بنالیا ہے اب اشتعال انگیز تقاریر کرنے والے افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارائی کی جائے گی۔ صرف اشتعال انگیز تقاریر اور بیانات سے ہی فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑتے ہیں۔ بی جے پی اور دیگر فرقہ پرست پارٹیاں پر معاملہ کو لیکر سیاستی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں اور کوئی نہ کوئی تنازعہ کھڑا کرتی ہیں۔اس موقعہ پر ریاست کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس آ ر کے دتّہ۔ اڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس(نظم و ضبط) کمل پنت ۔ سی آئی ڈی کے ڈی جی پی ایس سی کشور چندر ۔محکمۂ قید خانوں کے ڈی جی پی ایچ ایس این راؤ اورمحکمۂ فائر سرویس اور سیول ڈفنس کی ڈی جی پی نیلا منی راجو اور دیگر اعلیٰ افسران حاضر تھے۔