فر قہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھیں

03:30PM Sun 23 Jul, 2017

سدرامیا حکومت کی کارکردگی کو عوام تک پہنچائیں: عبیداللہ شریف بنگلور،(بھٹکلی نیوز)ملک میں بی جے پی حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کرکے اس ہندوستان کو ہندو راشٹریہ بنانے کی کوشش میں سر گرم عمل ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی اس ملک میں فرقہ پرستی عروج پر آگئی ہے۔ دادری کے محمد اخلاق،جھارکھنڈ کے محمد مظلوم اور علیم الدین عرف اصغر انصاری اورہریانہکے پہلوخان اور جنید کے سرعام بیف کے نام پر ایک خاص طبقہ سے رکھنے والی تنظیم کی مشتعل بھیڑکے ذریعہ پیٹ پیٹ کر مارڈالنے کے مذموم طریقے نے ہندوستان کی جمہوریت کو پوری دنیا میں بدنام کردیا ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کو خوفزدہ کردیا ہے۔ایسے اندوہناک ماحول میں یہاں بسنے والے دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے انسانیت پسندشہریوں میں بھی دہشت پھیل گئی ہے۔ایسے حالات میں جمہوریت پسندوں کو ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کے تحفظ کیلئے آگے آناہوگا۔ان خیالات کا اظہار جنرل سکریٹری کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی محمد عبیداللہ شریف نے اردو رپورٹرس سے خصوصی گفتگو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ سدارامیا کی قیادت والی کانگریس کی سرکار نے ریاست کرناٹک کی فضا کو پرامن بنانے میں اہم کردار اداکیاہے۔یہاں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے آپس میں بھائی بھائی ہیں ،لیکن کبھی کبھی چند شرپسند عناصر کی وجہ سے یہاں کا پرامن ماحول مکدر ہوجاتاہے اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں فرقہ پرست پارٹیوں اور فسطائی طاقتوں کو اقتدارسے دور رکھیں۔محمد عبیداللہ شریف نے دوران گفتگو کہا کہ مرکزی اور بی جے پی کی ریاستوں والی حکومتیں اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو یکسر مسترد کرکے یہاں ہندو انتہا پسندی کو فروغ دے کر ہندو راشٹریہ کا قیام کر نے کے آرایس ایس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں ، اس سے پورے ملک میں افراتفری کا ماحول پیدہورہاہے۔اگر اس ملک سے فرقہ پرستی کو ختم نہیں کیا گیا تو فرقہ پرست عناصر اس ملک کو تباہ وبرباد کر دیں گے۔ مودی حکومت نے فرقہ پرستی ،بڑھتی ہوئی مہنگائی ، بدعنوانی اور قومی یکجہتی سب کاساتھ سب کا وکاس کا وعدہ کر کے اقتدار حاصل کیا تھا لیکن وہی حکومت میں آنے کے بعد فرقہ پرستی کی آگ کو مزید تقویت پہنچا رہی ہے۔جس میں آج پورا ہندوستان جل رہاہے۔انہوں نے کہا کہ مودی نے لوک سبھا انتخاب سے قبل کہاتھاکہ بیرون ممالک سے کالادھن واپس لاکر ہر ایک کے اکاؤنٹ میں 15لاکھ روپے جمع ہوں گے ،3سال گزرنے کے بعد ابھی تک کسی شہری کے اکاؤنٹ میں 15لاکھ کیا 15پیسہ تک نہیں آیاہے ۔یہ عوام کو دھوکہ نہیں تواور کیاہے۔اس موقع پر انہوں نے کانگریس کے تمام کارکنا ن سے اپیل کی کہ سدارامیا حکومت کے کارناموں اور ان کے ترقیاتی مشن کو عوام تک جاکر بتائیں۔پورے کرناٹک میں جس طرح کا پرامن ماحول بنا،جس طرح ترقیاتی کام ہوئے ،جس طرح زیر التوا سینکڑوں منصوبے کو بروئے کار لایاگیا وہ ایک تاریخ ہے جس کا عوام کے سامنے تذکرہ ضروری ہے۔انہوں نے گفتگوکے دوران کہا کہ ملک کا ڈھانچہ سیکولر قدروں پر ہی قائم ہے لیکن آج افسوس کہ اسے ہی پارہ پارہ کر نے کی مذموم کوشش شروع ہے۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بیف کے نام پر قتل وغارتگری شروع کردی گئی ہے۔ بیف کے نام پر ہندوؤں اور مسلمانوں میں نفرت پیدا کر کے ووٹوں کی تقسیم کا عمل اور گندہ کھیل کھیلا جارہا ہے جو اس ملک کے لئے تشویشناک ہے۔ عدم رواداری کا احساس اس قدر بڑھ گیا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں خلیج بڑھ گئی ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ملک بھر میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا ماحول پایا جارہا ہے۔بیف کے نام پر قتل و غارتگری کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کو بیف کے نام پر قتل کیا جارہا ہے جبکہ دلتو ں پر مظالم کا سلسلہ بھی دراز ہوگیا ہے۔ دلتوں کے کنبہ کو موت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے انہیں نذر آتش کیا جارہا ہے۔ بی جے پی حکومت کے اقتدا ر میں آنے کے بعد عام عوام الناس کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ بیف پر پابندی کے نام پر صرف اور صرف سیاست کی جارہی ہے جبکہ عوام اور غربا کو دال تک میسر نہیں ہے۔اشیاء خورد نوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہے ۔اچھے دنوں کا وعدہ کر کے اقتدار میں آنے والی حکومت سے عوام اب بیزار ہوچکے ہیں عوام اس قدر بدظن ہے کہ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر یہ اچھے دن ہے تو برے دن کون سے تھے ؟۔انہوں نے آخر میں کہا کہ ہندوستان ایک ایسے دور میں داخل ہوچکا ہے، جہاں سیاسی مساوات کو ایک شخص ۔ایک ووٹ کا اصول سمجھ لیا گیا ہے، جبکہ معاشرہ میں اقتصادی اور سماجی عدم مساوات ہے۔لوگ کسمپرسی میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہندوستان کا سب سے بڑا اقلیتی طبقہ پہلے سے زیادہ استحصال زدہ، پہلے سے کہیں زیادہ پسماندہ اور اقتدار سے دور چلاگیا ہے۔ یہ ملک میں جمہوریت کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک پر حکمرانی کرنے والے اس خطرے سے بالکل نابلد ہیں۔