حلقہ ادب اسلامی قطر کا خصوصی ماہانہ ادبی اجلاس و مشاعرہ

11:56AM Fri 17 Jun, 2016

ملے گا منزلِ مقصود کا اسی کو سراغ       اندھیری شب میں ہے چیتے کی آنکھ جس کا چراغ رکن عاملہ حلقہ ادبِ اسلامی جناب مظفر نایاب نے حکیم الامت شاعرِ مشرق علامہ اقبال کے اس معرکہ الآراء شعر کے ذریعہ آج کے صدر اجلاس اور ہندوستان سے خصوصی طور پر تشریف لائے مہمان ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب کا مختصر مگر جامع تعارف سامعین کے سامنے پیش کیا . افادہْ عامہ کے پیشِ نظر ڈاکٹر غازی کے تعارف سے کچھ لائنس یہاں نقل کی جا رہی ہیں غازی صاحب اولاً جامعہ الفلا ح سے فراغت کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے مدینہ یونیورسٹی تشریف لے گئے پھر لکھنؤ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی اور پیشہء تدریش سے وابستہ ہو گئے آپ  تقریباً آٹھ سال متحدہ عرب امارات میں دار الشریعہ کے مدیر رہے اور جماعت کے عربی خبرنامہ النشرہ اور رفیق منزل کی ادارت بھی کی متعدد عربی کتابوں کے اردو ترجمہ کئے اور اس وقت جامعہ اسلامیہ شانتا پورم کیرالا میں اپنی علمی وتدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں. حلقہ ادب اسلامی قطر کے زیرِ اہتمام ایک خصوصی ادبی اجلاس اور غیر طرحی ماہانہ مشاعرہ منعقد ہوا . ہندوستان سے تشریف لائے مہمان اردو ٗ عربی نیز فارسی میں یکساں مہارت رکھنے والے محقق ٗ مصنف ٗ تنقید نگار تجزیہ نگار ڈاکٹر محی الدین غازی بطورِ صدر اجلاس اور چنئ ٹملناڈو سے تعلق رکھنے والے علمی ودینی گھرانہ سے منسوب جناب نصیر احمد کاتب آج کے ادبی واجلاس و مشاعرہ میں بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت فرما تھے. حلقہ ادبِ اسلامی قطر خلیجی ممالک میں رہنے بسنے والے چند باشعور وبا ضمیر روشن دماغ انسانوں کی اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کی علمی ٗ دینی نیز شعری وادبی پرورش و تربیت کی غرض سے قائم کیا گیا حلقہ رفقاء ہند کا ذیلی ایک ادبی ادارہ ہے جو پچھلی تین دہائیوں سے نام ونمود شہرت و ہنگاموں سےپرےاعلی اور معیاری اصول و ضابط کی پاسداری کے ساتھ مکمل اور مستحکم بنیادوں پر علم وادب اور شعر وسخن کی ہمہ جہت خدمت میں مصروف ہے . حلقہ ادبِ اسلامی قطر چونکہ حلقہ رفقاء ہند کا ایک ادبی حصہ ہے اس لئے اس کی بنیاد چند خطوط و اصول پر رکھی گئی ہے استفادہ ‘ عامہ کے لئے ان میں سے چند کو یہاں پیش کیا جا رہا ہے حلقہ ادب اسلامی قطر حسب ذیل اغراض و مقاصد کے لئے کوشاں رہتا ہے . (ا) تخلیق ادب کے ذریعہ اسلامی تہذیب واقدار کے فروغ وارتقاء کی جدوجہد کرنا. (ب) ادب سے منفی رجحانات ،ذہنی انتشار ا ور ملحدانہ میلانات کو زائل کرنے کی کوشش کرنا ۔اور ادب میں فنی روایا ت کے احترام کے ساتھ فکری اجتہاد ات اور فنی تجربات کی حوصلہ افزائی کرنا . (ج) اہل قلم میں اس احساس کو بیدار کرنا کہ انکی زبان و قلم پر اپنے معاشرہ اور نسل انسانی کے سلسلہ میں کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں لہذا اخلاص ، درد مندی اور دیانتداری کو انکے فکر وفن کا نقطہ آغاز ہونا چاہئے. (د) ہم فکر و ہم خیال اہل قلم اور ادبی حلقوں کے درمیان روابط کو مستحکم کرنا . مختلف ادبی حلقوں کے درمیان مفاہمت اور تعاون کی فضا پیدا کرنا. (ہ) ایسا ادبی ماحول اور وسائل پیدا کرنا جو اہل قلم کی ہنر مندی اور تخلیقی صلاحیت کو صحیح خطوط پر فروغ دے سکے . (و) ادب کو انسانیت کی تزئین و تعمیر کا سلسلہ بنانا اور ادب میں اسلامی فکر و فن کا امتزاج بروئے کار لانا. (ت) قطر کے قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے حلقہ کی سرگرمیاں انجام دینا. (ح) تعمیری واصلاحی موضوعات کی ترجمانی کے لئے فکر وفن کے اعلی سے اعلی معیار فراہم کرنا. (ط) اہل قلم کی فکری فنی تربیت اور حوصلہ افزائ کرنا. جناب حافظ ا بو طاہر فلاحی کی تلاوت کلام اللہ سے آج کے اس پروگرام کا باقاعدہ آغاز عمل میں آیا ، بزم کی روایت کے مطابق تلاوت کے بعد اردو میں ترجمہ بھی پیش کیا . اس کے بعد دو نعتیں پڑھی گئیں پہلی نعت عبدالرحمن شمسی نے اور دوسری نعت منصوراعظمی نے پیش کیا . چونکہ آج ادبی اجلاس کے نثری حصہ میں بطورِ خاص صدر اجلاس ڈاکٹر محی الدین غازی نے کچھ مختصر مگر جامع مضامین اس دلپزیر انداز میں پڑھے کہ سامعین کی جانب سے بار بار مکرر مکرر کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں ، مضامین میں مز اح کا پہلو بھی تھا جن سے سامعین لطف اندوز بھی ہوئے اور بہت کچھ سیکھا بھی. یہ اپنی نوعیت کا پہلا اور انوکھا تجربہ تھا کہ نثری حصہ کو دو تین مختلف مضامین کے بجائے صرف مہمان کے لئے مختص کیا گیا اور مہمانِ محترم ڈاکٹر محی الدین غازی نے نثر کو اس انداز میں پیش کیا کہ سامعین بار بار شعر کی طرح ممکرر مکرر کی تکرار کئے جارہے تھے اور ڈاکٹر صاحب بھی سامعین کے اصرار پر مضمون کے بعض جملے مکرر پڑھتے جارہےتھے . نثری نشست کے اختتام کے بعد کچھ وقفہ دیا گیا حلقہ کے مقبول ومتحرک رکن برادرم حنیف فلاحی کی حمد سے شعری نشست کاآغاز ہوا جو کہ کافی پسند کی گئی. بعد ازاں یکے بعد دیگرے شعراء کرام کی آمد ہوتی رہی اور ہر شاعر اپنے اپنے حصہ کی داد و تحسین بٹورتا خوش خوش آتا اور جاتا رہا . معزز شعراء کرام کے کچھ منتخب اشعار قارئین کی تسکینِ ذوق کی خاطر پیش کئے جارہے ہیں.     خبیبؔ فلاحی نیا عشق کا درس دیجئے نہ ہم کو سبق ہم پر انا ہی دہرا رہے ہیں فیاض بخاری کمالؔ   ہے تمنا جانِ جاناں تو ہو یوں جلو ہ فگن وا نقابِ حسن ہو ٗ زیر و زبر ہو اس طرف راقم ؔ اعظمی   نغمگی لے کے میں نس نس میں سما جاؤں گا میں تو احساس ہوں احساس کی ہجرت کیسی وزیر احمد وزیرؔ میں تو شامل بھی نہ تھا انکی تباہی میں کہیں یہ بھی الزام مگر میرے ہی سر آئے گا بشیرؔ عبدالمجید علم و فن کے زور پر ا چھا برا ہوتا نہیں آدمی اخلاق ہے اس کے بنا ہوتا نہیں رضا حسین دُ م ہلاتے رہو ٗ فیض پاتے رہو عامر عثمانی شکیب اپنا شمار ایسے ہی لوگوں میں ہو یا رب تخریب جن کا شیوہ ہے اس خوبرو چمن میں مظفر نایابؔ روز ازل سے کہتے رہے اہل عقل و ہوش ‘‘کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا   محسنؔ حبیب یہودی ،برہمن ،اہلِ کلیسا ایک ہو بیٹھے پسِ دیوارِ کعبہ سو گئے مسلم مقابل میں منصور ؔ اعظمی وہاں منصور سچا دوست ہی بس کام آتا ہے سبھی رشتے بھروسے کے جہاں پر ٹوٹ جاتے ہیں احمد اشفاقؔ اس شخص کا پھر سے کھڑا ہونا ہے مشکل اس بار گرا ہے وہ زمانے کی نظر سے افتخار راغبؔ میرے خدا مجھکو اپنی امان میں رکھنا پھر اسنے ہاتھ بڑھایا ہے دوستی کے لئے عزیز نبیلؔ اک اور بھی دنیا ہے کہیں دور زمیں سے اک اور بدن ہے تن فانی سے کہیں دور شوکت علی نا زؔ آگئی ہے مجھ میں دنیا داریاں رہ رہا ہوں جب سے فنکاروں کے بیچ شفیق اخترؔ حیا سے آنکھ ہو پانی میں وہ تصویر کیوں دیکھوں خلافِ دینِ حق ہو جو میں وہ تحریر کیوں دیکھوں فرتاشؔ سید اب اس جہاں سے مرا اعتبار ٹوٹ گیا ہے مکین ہو کہ مکاں سارے جھوٹ بولتے ہیں امجدعلی سرورؔ جو پڑھنا چاہو تو پڑھ لو کتاب چہرے کی دلوں کا حال زباں سے عیاں نہیں ہوتا ڈاکٹر محی الدین غازیؔ ذرا سی زندگی میں دشمنی کیا بغض وکینہ کیا محبت کے تقاضے پورے ہوجائیں غنیمت ہے شعر ی نشست کا سلسلہ یہا ں پر اختتام پذیر ہوا ، صد ر مجلس آج کی شعری نشست کے آخری شاعر تھے مہمان خصوصی نصیر احمد کاتب نے اپنے مختصر تاثر میں کہا کہ بزم کے ذمہ داروں نے بہترین پروگرام منعقد کیا ہے اسکے لئے ہم انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔انہوں نے تمام ذمہ داروں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حلقہ مستقبل میں بھی انشاء اللہ ترقی کرتا رہے گا۔ صدر حلقہ عامر عثمانی نے تمام حاضرین کا شکریہ اد ا کیا کہ اپنی حاضری سے پروگرام کو کامیاب بنایا .     رپورٹ محسن حبیب حلقہ ادب اسلامی قطر