پاورکارپوریشن کی بیہودہ کارکردگی بدنیتی کی علامت !
01:47PM Tue 7 Mar, 2017
سہارنپور (بھٹکلیس نیوز) موسم گرما کے ساتھ ساتھ بجلی کی کٹوتی نے عام آدمی کو ہلا کر رکھ دیا ہے کل ۱۵ گھنے ہی سپلائی مل رہی ہے جس وجہ سے پانی کی سپلائی بھی مشکل ہوتی جارہی ہے مگر افسران تماشائی بنے ہوئے ہیں کمزور طبقہ کے افراد کو دو سے آٹھ ہزار تک کی بقایا رقم کیلئے لگاتار تنگ و پریشان کیا جارہاہے جبکہ نمبر دو کی لائٹ کھلے عام ہر ماہ موٹی رشوت کے عوض استعمال کرنے والوں کے خلاف کوئی کارواہی نہی کیجاتی ہے محکمہ صرف اور صرف کمزوروں کا استحصال کرناہی اپنی ذمہ داری مانتاہے یہ تماشہ سینئر افسران بھی دیکھتے رہتے ہیں مگر کمزوروں کا کوئی پرسان حال نہی ؟ محکمہ بجلی سے عام آدمی عاجز آ چکا ہے محکمہ کے لو گ اوور لوڈنگ ، میٹر خراب اور بجلی چور ی کے نام پر عوام کا آزادانہ طور پر استحصال کرنے پر بضد ہیں ضلع کے سیاست داں اتر پردیش پاور کارپوریشن کے بد عنوان افسران اور ملازمین کے اس نازیبہ رویہ کو دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہیں ؟محکمہ کے جوئنیر انجینئر اور ایس ۔ڈی ۔ او جس چاہے گھر پر اچانک مسلط ہو جاتے ہیں اور بجلی چیکنگ کے نام پر موٹی رقم کی مانگ کرتے ہیں اگر چہ گھر کے افراد رقم ادا کرنے کے قابل ہیں تو معاملہ پیسے لے دیکر رفا کر دیا جا تا ہے اور اگر کنزیومر پیسہ دینے میں آنا کانی کرتا ہے تو اسکے خلاف فوری طور پر جونیئر انجینیر کے ذریعہ تھانہ میں بجلی چوری کی رپورٹ درج کرا دی جاتی ہے۔ پھر وہ کنزیومر اپنی جان بچانے کے لئے اور گرفتاری سے بچنے کے لئے محکمہ کو کم سے کم ۲۰ ہزار روپیے کی رقم ایک مشت جمع کرتا ہے جب کہی جا کر اسکی جان بچتی ہے اور وہ خود کو گرفتاری سے بچانے میں کامیاب رہتا ہے ایسے حالات گزشتہ چھہ سالوں سے غر یب،دلت، مزدور، پچھڑے اور مسلم علاقوں میں کثرت کے ساتھ دیکھے جاتے ہیں صوبائی سرکار غر یب،دلت، مزدور، پچھڑے اور اقلیتیوں کی ہمدرہونے کا زور دیکر دعوہ پیش کرتی ہیں مگر سچائی یہ ہے کہ محکمہ بجلی کے صرف ایک محکمہ کیز ریعہ ہی گزشتہ چھہ سالوں سے غر یب،دلت، مزدور، پچھڑے اور اقلیتی فرقہ کو بری طرح لوٹا اور کھسوٹا جا رہا ہے اور کوئی خبر گری کرنے والا نہیں ۔محکمہ کے افسران جو چاہتے ہیں پولیس بھی وہی کاروائی کرتی ہے عام آدمی کی کوئی سنوائی نہیں ہے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ محکمہ کے ۸۰ فیصد انجینئر اور ملازمین اقلیتی علاقوں میں خصوصی طور پر گزشتہ چھہ سالوں سے غر یب،دلت، مزدور، پچھڑے اور ا مسلم طبقہ پر ا پنا رعب غالب کئے ہو ئے ہیں؟ اقلیتی فرقوں کے لوگ بجلی کے نام پر ان ملازمین کو غیر ضروری طور پر رشوت دینے کے لئے مجبور ہیں اگر ان تمام کیسوں کی جانچ کسی ایماندار افسر سے کرائی جائے تو گزشتہ ۶ سالوں سے ان علاقوں میں ہونے والے ان معاملوں کی سچائی حکومت اور عوام کے سامنے صاف طور سے آسکتی ہے ہمارے قابل کمشنر اور قابل ضلع مجسٹریٹ سب کچھ جانتے اور دیکھتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں سوشل ورکر جناب نظامی اور روش احمد نے ایسے ہی ایک کیس میں انبالہ روڑ واقع بجلی گھر کے جے ای کے خلاف ایس ۔ڈی۔ او۔ کو ایک شکایت پیش کی ہے مگر ابھی تک کئی ماہ گزر چکے ہیں ایس ڈی او صاحب نے اس شکایت کا کوئی جواب جناب نظامی صاحب کو نہیں بھیجا ہے ہم نے جو باتیں مندرجہ بالا خبر میں تحریر کی ہیں انہی کو لیکر جناب نظامی نے جونیئر انجینئر کے خلاف شکایت درج کرائی ہے نظامی صاحب اس سے قبل بھی کئی شکایتیں محکمہ کے افسران اور ملازمین کے خلاف اعلیٰ حکام کو پیش کر چکے ہیں لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ انکی کسی بھی شکایت کو اعلیٰ حکام سنجیدگی سے نہ لیکر ٹال مٹول کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں جس وجہ سے عوام میں غم و غصہ پھیلا ہوا ہے عوام مفاد میں ان تمام معاملات کی آزادنہ جانچ اشد ضروری ہے !