سعودی عرب کو معافی نہیں دے سکتے: خمینی
02:20PM Sun 13 Mar, 2016
"القدس سے دست برداری اور صدام کو معاف کر سکتے ہیں"
دبئی - سعود الزاہد
"اسلامی جمہوریہ ایران" کے بانی خمینی نے ایک مرتبہ 1987 میں مکہ مکرمہ میں پیش آنے والے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "بیت المقدس سے دست بردار ہونا اور صدام حسین سے مصالحت ہمارے لیے آسان تر ہے بہ نسبت سعودی عرب کو معاف کر دینے کے"۔
اس جملے سے مملکت سعودی عرب کے حوالے سے ایران کے مواقف واضح ہو جاتے ہیں.. اور یہ ہمیں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی کشیدگی کے پیچھے چھپی وجوہات پر غور وفکر کی دعوت دیتا ہے.. وہ کشیدگی جو ان دنوں اپنے عروج پر پہنچی ہوئی ہے۔
"ایران کونٹرا" ڈیل – بیت المقدس سے دست برداری
1986 میں یعنی کہ خمینی کی جانب سے (ضرورت پڑنے پر) "بیت المقدس سے دست برداری" کا عندیہ دینے سے ایک سال قبل.. لبنانی اخبار الشراع نے "ایران کونٹرا" اسکینڈل سے پردہ اٹھا دیا تھا۔ یہ ہتھیاروں کی اس ڈیل کے ذیل میں تھا جو امریکا اور تہران کے درمیان اسرائیلی شرکت کے ساتھ طے پائی تھی۔ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کونٹرا باغیوں کو دی جانا تھی۔
بعد ازاں عالمی میڈیا نے بتایا تھا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایک وفد نے خفیہ طور پر 25 مئی 1986 کو تہران کا دورہ کیا تھا۔ وفد میں قومی سلامتی کے سابق مشیر "رابرٹ مک فارلین" اور لیفٹننٹ کرنل اولیور نارتھ کے علاوہ امریکی افسر "ہارورڈ تھیچر" اور اسرائیلی ایجنٹ "اميرام نير" شامل تھے۔ ڈیل کے مطابق ایران کو مندرجہ ذیل اسلحہ فراہم کیا گیا:
1- 20 اگست 1985 کو 96 ٹاؤ ٹینک شکن میزائل بھیجے گئے۔
2- 14 ستمبر 1985 کو 408 ٹاؤ میزائل بھیجے گئے۔
3- 24 نومبر 1985 کو 18 ہاک طیارہ شکن میزائل بھیجے گئے۔
4- 17 فروری 1986 کو 500 ٹاؤ میزائل بھیجے گئے۔
5- 27 فروری 1986 کو 500 ٹاؤ میزائل بھیجے گئے۔
6- 24 مئی 1986 کو 508 ٹاؤ میزائل کے ساتھ ہاک میزائل کے 240 فاضل پرزہ جات بھیجے گئے۔
7- 4 اگست 1986 کو ہاک میزائل کے مزید فاضل پرزہ جات بھیجے گئے۔
8- 28 اکتوبر 1986 کو 500 ٹاؤ میزائل بھیجے گئے۔
اس ڈیل نے اسرائیل میں ایک ہنگامہ کھڑا کردیا تاہم 10 دسمبر 1986 کو اس وقت کے اسرائیلی وزیر دفاع شمعون پیریز نے ڈیل میں اسرائیل کی شرکت کا دفاع کیا۔
اسی دوران سابق اسرائیلی وزیر خارجہ "ایبا ایبان" اور ایران اسرائیل تعلقات کی تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ ڈیل کا حصہ بننے کا اعتراف کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ "یہ ہمارا حق ہے کہ ہم ایران کو اسلحہ فروخت کریں"
صدام کے ساتھ مصالحت
جہاں تک عراقی صدر صدام حسین کے ساتھ مصالحت کا تعلق ہے تو تہران حکومت نے 1988 میں یعنی خمینی کے سعودی عرب کے خلاف بیان کے ایک سال بعد واقعتا صدام کے ساتھ مصالحت کرلی تھی۔ اس موقع پر ایرانی نظام کے بانی مرشد نے دونوں ملکوں کے درمیان 8 سال تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد فائربندی کو قبول کرلیا۔ اس جنگ کے نتیجے میں ایران اور عراق کے لاکھوں فوجی اور شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
دونوں ملکوں نے انتہائی تیزی سے ایک دوسرے کے ساتھ سیاسی اور تجارتی تعلقات بحال کیے۔ مذہبی مقامات کی زیارت کے واسطے دونوں ملکوں کے شہریوں کے لیے سرحد کھول دی گئی۔ بغداد اور تہران حکومت کے درمیان تعلقات اس حد تک بہتر ہوگئے کہ عراق نے پہلی خلیجی جنگ کے دوران ایران کو امریکی اور مغربی ممالک کی بمباری سے بچانے کے لیے اپنے 146 فوجی اور شہری طیارے بھیج دیے۔ ایران بھیجے گئے یہ طیارے آج تک عراق کو واپس نہیں ملے۔
سعودی عرب کے حوالے سے موقف
1987 میں خمینی کی تقریر میں کہا گیا تھا : "ہم بیت المقدس سے دست بردار ہوجائیں.. صدام اور جس کسی نے بھی ہمیں نقصان پہنچایا ان سب کو معاف کردیں یہ سب ہمارے لیے حجاز (سعودی عرب) کی نسبت آسان ہے کیوں کہ حجاز کا مسئلہ دوسری نوعیت کا ہے.. یہ اہم ترین مسئلہ ہے اور ہم پر لازم ہے کہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس کے خلاف برسرجنگ ہوں اور تمام مسلمانوں اور دنیا کو اس کے خلاف اکٹھا کریں"۔
ایران ہمیشہ سے حج کے دینی فریضے کو "مشرکین سے براءت" کے لوگو کے تحت ایک سیاسی ایونٹ قرار دیتا چلا آیا ہے۔ اسی حجت کی وجہ سے 1987 میں حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں ایرانی حاجیوں کے سیاسی مظاہروں کے نتیجے میں بہت بڑی انارکی دیکھنے میں آئی۔ سعودی رپورٹیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ سعودی حکام نے خصوصی احکامات جاری کیے تھے کہ مظاہرین کے مقابلے میں تشدد کا سہارا ہر گز نہ لیا جائے اور فقط ان لوگوں کو روکا جائے تاکہ انارکی نہ پھیلے اور مختلف ملکوں کے بقیہ حجاج کرام کی سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے۔
سعودی سیکورٹی فورسز اس موقف پر سختی سے کاربند رہتے ہوئے مظاہرین کے راستے کے دونوں جانب کھڑی ہوگئیں اور شہریوں اور بقیہ حجاج کرام کو مظاہرین کے ساتھ تصادم سے روک دیا۔ تاہم بعض ایرانی حجاج نے سیکورٹی فورسز پر چھروں اور چاقوؤں سے حملہ کردیا۔ اس پر یہ سیکورٹی فورسز اپنے اور بقیہ حجاج کے دفاع کے لیے فائرنگ کرنے پر مجبور ہوگئیں جس کے نتیجے میں درجنوں مظاہرین ہلاک اور حجاج کرام جاں بحق ہوئے۔
ایران میں اقتدار شدت پسند صدر کے حوالے
اس وقت سے دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کا سلسلہ شروع ہوا جو روز بروز بڑھتا چلا گیا۔ تاہم اس دوران رفسنجانی اور پھر محمد خاتمی (1989-2005) کی مدت صدارت کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان ایک قسم کی مفاہمت دیکھنے میں آئی۔ یہ اختلافات کے حل کے لیے تمہیدی مرحلہ تھا تاہم ایران میں اختیارات ملک کے صدر کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ ولی فقیہہ کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ بعد ازاں 2005 میں موجودہ مرشد اعلیٰ اور پاسداران انقلاب کی سپورٹ سے شدت پسند صدر محمود احمدی نژاد کے اقتدار کی کرسی سنبھالتے ہی ایران نے انقلاب کی برآمد کے نعرے کو پھر سے زندہ کیا اور خطے میں اپنی مداخلت کو بڑھا دیا۔ 2010 کے اوخر اور 2011 کے اوائل میں "بہار عرب" کے نام سے بعض عرب ملکوں میں پر امن بڑی احتجاجی تحریکوں کے آغاز کے ساتھ ہی ایران کی ان مداخلتوں میں بھی اضافہ ہوگیا۔
ایران کو اپنے "انقلابی" نعرے کے لیے اچھا موقع میسر آگیا اور اس نے عرب ملکوں میں اٹھنے والے احتجاجی سلسلے کو "اسلامی بیداری" کا نام دیا سوائے شام میں انقلاب کے.. جسے ایرانی مرشد اعلیٰ نے صہیونی اور سامراجی انقلاب قرار دیا۔ ایران نے بشار الاسد کو سپورٹ کیا اور شام میں البعث پارٹی کی حکمرانی کی حمایت کے لیے صدر کی ہمنوا ملیشیاؤں کو اکٹھا کردیا۔ بعد ازاں ایران کے اس موقف نے یمن، بحرین، عراق اور لبنان کو بھی لپیٹ میں لے لیا اور ایران کی اعلی فوجی قیادت نے یہ اعلان کرڈالا کہ وہ چار عرب دارالحکومتوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔
اس طرح خلیجی ممالک جن میں سعودی عرب سرفہرست ہے اور دیگر عرب ملکوں میں عرب قومی سلامتی کے خطرے میں پڑجانے کے حوالے سے اندیشوں میں اضافہ ہوا۔ مارچ 2015 میں سعودی عرب کے زیرقیادت عرب اتحاد نے یمن میں "عزم کی آندھی" کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا۔ اس کا مقصد ایران کے گٹھ جوڑ سے حوثی باغیوں کے اقتدار پر قبضے کو روکنا اور آئینی حکومت کو بحال کرنا تھا۔ ریاض نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ قانونی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے حوثیوں کو استعمال کررہا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے شام میں اعتدال پسند انقلابیوں کی سپورٹ جاری رکھی۔
ایران میں "ڈیموکریٹک سولیڈیریٹی پارٹی آف الاہواز" کے سکریٹری جنرل جلیل الشرہانی نے اس حوالے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایران میں سعودی عرب کی دشمنی کے دو پہلو ہیں۔ فرقہ وارانہ پہلو اور قومیت کا پہلو۔ ان کے مطابق "ایران عربوں کے ساتھ عمومی اور سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ خصوصی طور پر عداوت رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے
وہ شیعہ مسلک کی بنیاد پر فرقہ وارانہ بھرتی کی کوششیں کرتا ہے اور پھر ان عناصر کو فرقہ وارانہ آلہ کار بنا کر خطے میں عراق، شام، لبنان، یمن اور بحرین میں اپنی مداخلت کے جواز کے طور پر پیش کرتا ہے۔ بظاہر وہ خود کو شیعوں کے تحفظ کا علم بردار دکھاتا ہے جب کہ اس دوران اس کا پہلا اور آخری ہدف اور خفیہ غایت.. ایران کے داخلی بحرانوں کو عرب شیعوں اور ان کے اپنے ملکوں میں مفادات کے خلاف سرحد پار پہنچانا ہوتا ہے"۔
قومیتی پہلو کے حوالے سے الشرہانی کا کہنا ہے کہ "ایرانی نظام شدت پسند فارسی قومیت کے گھوڑے پر سوار ہے جو کہ سعودی عرب کو اس سرزمین کی حیثیت سے دیکھتا ہے جہاں سے عرب اسلامی فتوحات کا آغاز ہوا اور ساسانی شہنشاہیت کا سقوط عمل میں آیا۔ تعصب پر مبنی اس قومیتی دھارے کی سوچ جو وقتا فوقتا ہمیں فارسی زبان بولنے والے عرب مخالف شعراء کے قصیدوں اور مصنفوں کی تحریروں میں بھی نمایاں نظر آتی ہے.. درحقیقت اس کا نشانہ سعودی عرب ہے کیوں کہ وہ وحی کے نزول اور عربوں کے پروان چڑھنے کا مقام ہے۔ اگر ایرانی نظام حقیقت میں اسلام پر ایمان رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس سوچ کے رکھنے والوں اور اسلام اور عرب مخالف شخصیات پر روک لگائے"۔
جلیل الشرہانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنی گفتگو کا اختتام اس بات پر کیا کہ "قومیت اور فرقہ وارانہ لحاظ سے شدت پسند گروپوں کی جانب سے مملکت سعودی عرب کی دشمنی 1987 میں مکہ مکرمہ کے واقعات سے پہلے سے جاری ہے.. اس لیے تمام عربوں اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس حوالے سے واضح موقت اپنائیں"۔