آر ایس ایس نے دہلی میں ایک دیوار پر اردو میں اشعار لکھے جانے پر فنکاروں کو دی دھمکی
02:42PM Thu 26 May, 2016
نئی دہلی۔ دہلی میں ایک دیوار پر اردو رسم الخط میں کی جانے والی پینٹنگ آر ایس ایس ممبران کو راس نہیں آئی اور انہوں نے پینٹنگ کرنے والے دو فنکاروں کو دھمکی دی ہے۔ آر ایس ایس ارکان کی طرف سے دھمکی ملنے کے بعد انہیں اس سلسلہ میں دلی پولیس کے جارحانہ سلوک کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ آر ایس ایس کے ارکان نے دیوار پر اردو اشعار لکھنے والے دو فنکاروں کو ان کی پینٹنگز انہیں سے مٹوانے اور وہاں اردو کی جگہ ہندی میں سوچھ بھارت ابھیان اور نریندر مودی لکھنے پر مجبور کیا۔
دی وائر کے مطابق، اخلاق احمد اور سیون سیمن شاہدرہ علاقہ میں واقع دہلی جل بورڈ کی ایک دیوار پراردو میں اشعار لکھ رہے تھے۔ اسی دوران آر ایس ایس سے وابستہ دو یا تین افراد آئے اور انہوں نے اردو میں اشعار لکھے جانے کا سبب پوچھا اور پھر انہیں ایسا کرنے سے زبردستی روک دیا۔ آر ایس ایس کے ان ارکان نے کہا کہ ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن اردو اسکرپٹ کو نہیں۔ گزشتہ ہفتے 19 مئی کو دہلی حکومت کی اجازت سے سرکاری عمارتوں کی دیواروں پر ایک غیر ملکی اور ایک ہندوستانی فنکار نے اردو اشعار کو پینٹنگز کی شکل میں پیش کرنے کی ابتدا کی تھی۔
اردو دہلی کی چار سرکاری زبانوں میں سے ایک ہے اور حکومت دہلی نے ’مائی دلی اسٹوری‘ کے تحت سنہ 2014 میں ایک مہم شروع کی تھی جس میں لوگوں سے دہلی کے بارے میں ان کے تاثرات ٹوئٹر پر لیے گئے تھے۔ان میں سے 40 ٹویٹس کو منتخب کیا گیا تھا اور دوسرے مرحلے میں اب انھیں دہلی کی چار سرکاری زبانوں میں سرکاری عمارتوں پر پینٹ کیا جا رہا تھا۔
اس مہم سے منسلک افراد کا کہنا ہے کہ یہ پروجیکٹ دہلی کی تاریخ و ثقافت، فنون لطیفہ، ماحولیات اور کھانوں کو بچانے کی کوشش ہے۔