مصر: تصادم میں اخوان المسلمون کے ایک سینئررہنما ہلاک
02:54PM Tue 4 Oct, 2016
قاہرہ۔ مصری وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ کل ایک تصادم کے دوران سیکورٹی فورسیز نے اخوان المسلمون کے ایک سینئر رہنما اور ایک دیگر رکن کو ہلاک کردیا۔ وزارت دفاع کی طرف سے آج جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسیز کے ساتھ ہوئے تصادم میں اخوان المسلمون کی اعلی قیادت کے ایک رکن 61 سالہ محمد کمال اور ایک دوسرے رہنما یاسر شہتا کو مار گرایا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ قاہرہ کے بساطین علاقے میں چھاپہ مارا گیا جہاں ایک مکان کو یہ رہنما اپنے ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال کررہے تھے۔ وزارت دفاع نے دعوی کیا ہے کہ محمد کمال اخوان المسلمون کے مسلح ونگ کے سربراہ تھے۔
دوسری طرف اخوان المسلمون نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرکے کہا ہے کہ کمال کل دوپہر سے لاپتہ ہیں۔ حالانکہ اس نے اس سلسلے میں مزید تفصیلات نہیں دی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اخوان المسلمون ایک امن پسند تنظیم ہے۔ وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شہتا کو ایک شہر ی کے ساتھ مارپیٹ کرنے اور فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں اسے یرغمال بنانے کے الزام میں دس سال کی سزا دی گئی تھی ۔ اس کے علاوہ کمال کو دو معاملات میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔