بیت المقدس کو "یہودیانے" کے لیے اسرائیل کی اشتہاری مہم

02:46PM Mon 17 Nov, 2014

بھٹکلیس نیوز/17نومبر،14 صہیونی حکومت مقبوضہ بیت المقدس کے تاریخی مقامات، شاہرات اور دیگرجگہوں کو یہودیانے کے لیے دن رات اپنی سازشوں میں مصروف ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بیت المقدس کی صہیونی بلدیہ کونسل نے مسجد اقصیٰ اور قدیم بیت المقدس سمیت اہم مقامات کے نام کو عبرانی زبان میں متعارف کرانے کے لیے ایک نئی اشتہاری مہم شروع کی ہے۔ مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق مشرقی بیت المقدس، مسجد اقصیی اقصیٰ کے اطراف اور اندرون قدیم بیت المقدس میں جگہ جگہ دیواروں پر پوسٹر آویزاں کیے گئے ہیں جن پر مختلف مقامات کے انگریزی، عربی اور عبرانی زبانوں میں نام درج کیے گئے ہیں۔ مبصرین کے خیال میں اسرائیل کی یہ ایک گھناونی سازش ہے جس کا مقصد بیت المقدس کو یہودی رنگ میں رنگنا اور شہر کی قدیم اسلامی اور عرب شناخت کومٹانا ہے کیونکہ صہیونی حکومت کی جانب سے ایک منظم مہم کے تحت بیت المقدس کے تاریخی ناموں کو تلمودی اور توراتی ناموں میں تبدیل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں مسجد اقصیٰ، دیوار براق اور باب المغاربہ صہیونیوں کا خاص ہدف ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے دفاع میں سرگرم تنظیم "الاقصیٰ فاؤنڈیشن وٹرسٹ" کی جانب سے نمونے کے طور پر کچھ نام پیش کیے ہیں یہ اور سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ اسرائیل کس طرح بیت المقدس کی عرب شناخت کو عبرانی رنگ میں ڈھالنا چاہتا ہے۔ اس ضمن میں "ھار ھبیات" کو عبرانی میں הר הבית اور انگریزی میں The temple mount" لکھا گیا ہے۔ اسی طرح "ہیکوتیل ھمعربی" کو عبرانی میں הכותל המערבי اور انگریزی میں The western wall کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مسجد اقصیٰ کی مغربی دیوار کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔ اقصیٰ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر مسجد اقصیٰ اور اس کے اطراف میں تاریخی مقامات کے نام انگریزی اور عبرانی میں متعارف کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ع،ح،خ