تاہم ایسے میں جب ٹیم انڈیا ورلڈ کپ میں سیمی فائنل کیلئے کوالیفائی کرگئی ہے ، نہ تو ٹیم انتظامیہ اور نہ ہی بی سی سی آئی اس سنجیدہ معاملہ پر کچھ بھی کھل کر کہنے کیلئے تیار ہے ۔ دھونی موجودہ ورلڈ کپ کے سات میچوں میں 223 رن بنائے ہیں ، حالانکہ اس دوران اسٹرائیک روٹیٹ کرنے میں انہیں کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اس کے علاوہ وہ بڑے شارٹ لگانے میں بھی ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔ کچھ لوگ بطور فنشر ان کی قابلیت پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں ۔
اس ورلڈ کپ میں سست رفتار بلے بازی اور دھونی کی اپروچ کو لے کر سچن تیندولکر اور سورو گنگولی بھی سوالات کھڑے کر چکے ہیں ۔ ایسے میں ٹیم انتظامیہ بھی اس بات کو اچھی طرح جانتی ہے کہ وہ اس ورلڈ کپ کے بعد دھونی کو ٹیم میں جگہ دینے کا رسک نہیں اٹھا سکے گی ۔