این ایس جی کی میٹنگ ختم ، ہندوستان کی دعویداری پر نہیں ہوسکا فیصلہ ، کیجریوال کا پی ایم مودی پرنشانہ
11:38AM Fri 24 Jun, 2016
بھٹکلیس نیوز / 24 جون، 16
نئی دہلی : نیوکلیئر سپلائر گروپ این ایس جی میں شامل ہونے کی ہندوستان کی تمام تر کوششیں رائیگاں ہوگئی ہیں ۔ این ایس جی کی سیول میں ہورہی میٹنگ ختم ہوگئی ہے اور ہندوستان کی عرضی پر کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا جاسکا ہے ۔ 48 ممالک کے گروپ میں ہندوستان کے شامل ہونے کی راہ میں چین سب سے بڑا روڑہ ثابت ہوا ، جس کی کئی دیگر ممالک نے بھی حمایت کی ۔
مکمل اجلاس کے ہندستانی رکنیت کے تعلق سے کسی حتمی فیصلہ کے بغیر ختم ہوجانے کے بعد وزارت امور خارجہ نے چین کا نام لئے بغیر کہا ہے کہ ایک ملک 48 رکنی نیوکلیائی گروپ میں ہندستان کی شمولیت روکنے کے لئے مستقل طریق عمل کے حوالے سے رکاوٹیں کھڑا کرتا رہا۔
سیول میں این ایس جی کا مکمل اجلاس ختم ہونے کے بعد ایک مفصل بیان میں وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان وکاس سوروپ نے کہا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ ایک ملک کی طرف سے طریق عمل کے حوالے سے مسلسل رکاوٹیں کھڑی کرنے کے باوجود این ایس جی میں آئندہ شمولیت کے معاملے پر کل رات تین گھنٹے تک طویل بحث ہوئی ۔ شریک مجلس ملکوں کی ایک بڑی تعداد نے ہندستان کی رکنیت کی تائید کی اور ہندستان کی درخواست کی مثبت طور پر ستائش کی۔
ہرچندکہ انہوں نے کسی ملک کا نام نہیں لیا لیکن اشارہ واضح طور پر چین کی طرف تھا جو ہندستانی کوشش کے مخالفوں کی قیادت کرتا آرہا تھا ا ور این ایس جی میں ایسے ملکوں کی شمولیت پر مسلسل سوال اٹھا رہا تھا جو نیوکلیائی عدم توسیع معاہدے میں شامل نہیں۔ انہوںنے کہا کہ آج (24 جون کو) سیول میں این ایس جی کامکمل اجلاس ختم ہوگیا۔ ہندستان بیشک شامل اجلاس نہیں تھا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ رکنیت میں توسیع یا این ایس جی میں شرکت پر بحث میں حصہ لینے والے ہمارے دوستوں اوربہی خواہوں نے یقیناً منافقت سے کام نہیں لیا۔
ادھر این ایس جی میں مودی حکومت کی ناکامی کے بعد اپوزیشن سیاسی پارٹیاں نے بھی حملہ کرنا شروع کردیا ہے ۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اور دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے پی ایم مودی پر نشانہ سادھا ہے ۔ کیجریوال نے ٹویٹ کرکے کہا کہ پی ایم مودی خارجہ پالیسی کے محاذ پر پوری طرح ناکام ثابت ہوئے ہیں ۔ انہیں اس بات پر وضاحت دینی چاہئے کہ ان کے بیرون ممالک کے دوروں سے ہندوستان کو کیا ملا ۔