فارغین اپنے آپ کو عالمہ فاضلہ کی بجائے طالبہ تصور کریں 

03:13PM Mon 8 May, 2017

مدرسہ اصلاح ا لبنات کی فارغین کو مفتی ا سلم کی نصیحت بنگلور:(بھٹکلیس نیوز) جامعیہ غیث الہدیٰ کے مہتمم مفتی محمد اسلم نے مدرسہ کی طالبات سے مخاطب ہو کر کہا کہ جب وہ مدرسہ سے فاروغ ہوکر نکل رہی ہیں تو اپنے آپ کو عالمہ، فاضلہ او رفارغہ تصور نہ کریں بلکہ اپنے آپ کو طالبہ تصور کریں۔ آج یہاں مدرسہ اصلاح لبنات بنگلور کے سالانہ جلسہ میں طالبات سے خطاب کرتے ہوئے مفتی محمد اسلم نے کہاکہ طالبات کے اندر یہ احساس پیدا نہیں ہونا چاہئے کہ انہوں نے بہت کچھ پڑھ لیا اور سیکھ لیا ہے بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ ہم نے مخص دوسالہ اصلاحی کورس کیا ہے آئندہ بھی ہمیں بہت کچھ سیکھنا ہے طالبات کو یہ بھی سمجھنا ہے کہ انہوں نے جو کچھ بھی سیکھا ہے وہ مدرسہ کا صلہ ہے مدرسہ نے ہمیں ڈھنگ کا طالب علم بنایا اور اچھا ماحول فراہم کیا ہے۔ مفتی اسلم نے طالبات کو ہدایت کی کہ وہ مدرسہ کے اس ماحول کی قدر کریں اور ماحول کو محفوظ رکھیں ۔مدرسہ کے ماحول کو اپنے گھروں میں بنائے رکھیں مدرسہ میں تعلیم، عبادت، دعوت، اور خدمت کے جو معمو لات میں آپ مصروف ہوا کرتی تھیں ان مصروفیات کو اپنے گھروں میں بھی جاری رکھیں ، گھروں میں عبادت کا ماحول بنائیں ، چھوٹے بڑوں کی خدمت کریں خدمت سے دعائیں ملتی ہیں اور آپ نے جو تعلیم سیکھی ہے اسے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں اور اس امید پر نہ بیٹھ جائیں کہ عمارت بنے گی تو پڑھائیں گے آپ نے کہا کہ مدرسہ کسی بڑی عمارت کانام نہیں ہے بلکہ پڑھنے پڑھانے کے عمل کا نام مدرسہ ہے آپ اپنے گھروں میں اپنے رشتہ داروں اور پاس پڑوس کے بچوں کو پڑھانا شروع کریں اس کے بعد راستے کھلیں گے۔مفتی اسلم صاحب نے طالبات کو نصیحت کی کہ وہ اپنے آپ کو چھوٹا تصور کریں چھوٹا بنا کر پیش کریں۔ چھوٹے بن کر رہنے میں بڑے فائد ے ہیں مفتی صاحب نے والدین سے مخا طب ہو کر کہا کہ اپنی بچیوں کے اندر پڑھنے پڑھانے کا جو جذبہ ہے اس جذبہ کو ٹھنڈا ہونے نہ دیں انہیں پڑھانے کیلئے مواقع فراہم کریں اس موقع پر مدرسہ اصلاح ا لبنات کے مہتہم مولانا شبیر احمد ندوی نے والدین اور مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور والدین کو مدرسہ کے نصاب وغیرہ سے واقف کرایا۔