"انسان اپنی ہمت اور محنت  کے بعد اللہ کی مدد سے کسی بھی حادثہ سے ابھر سکتا ہے"

12:07PM Sat 6 May, 2017

دوسال قبل کنداپور سڑک حادثہ میں بری طرح زخمی ہوکر اپنے پیروں پر کھڑے رہنے  والے وسیم اکرم کے ساتھ بھٹکلیس کی خصوصی ملاقات 21/ستمبر،2015  کوکنداپور میں  پیش آئےسڑک حادثہ میں بری طرح سے زخمی ہونے والے بھٹکل کے  وسیم اکرم ابن امیر حمزہ کے ساتھ بھٹکلیس ڈاٹ کوم کے نمائندے جناب رضوان گنگاولی صاحب نے خصوصی ملاقات کی اس لئےکہ دو سال قبل ان کے سڑک حادثہ کے بعد سے  ان پر آئے حالات کے تعلق سے معلومات حاصل کی جائے  تاکہ نسل نو جو تیز رفتار گاڑیوں میں فراٹے بھر تے ہوئے حادثوں کا شکار ہوتے جارہے ہیں وہ ان کی باتوں سے کچھ سبق حاصل کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کا حادثہ ہوا تھا اس میں ان کا آدھا جسم مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا جس کے بعد سے ان کے تقریباً  چوبیس آپریشن ہوئے جس کے بعد وہ قریب دیڑھ سال تک اپنے بیڈ پر پڑے رہے ،جب ان کی صحت معمول پر آنے لگی تو انہوں نے  نوجوانوں کو طاقت ور اور توانا بنانے کی ٹھانی اور اپنے مصنوعی پیروں کے ذریعہ ہی کھڑے ہوکر چلنا شروع کیا اور خود کا کسرت خانہ ( جم ) چلایا جس میں اب تک دیڑھ سو سے زائد ممبران ان سے کسرت کی تربیت لے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے اوپر آئے حالات کے تجربہ میں نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ کوئی گاڑی لے کر سڑک پر نکلیں تو یہ نہ سمجھیں کہ پوری سڑک انہی کی  ہے بلکہ وہ سڑک پر جانے والوں کو خاطر میں لاتے ہوئے آرام سے جائیں کیوں کہ خدا نخواستہ اگر کہیں کوئی سڑک حادثہ ہوگیااور اس وقت اگر موت ہوگئی تو بھی ہمارا اور ہمارے اہل خانہ و دوست احباب کا نقصان ہے ۔ اگر موت نہیں ہوئی اور اسپتال میں چلے گئے تو اسپتالوں کو خرچہ بھر بھر کے گھر والوں کی حالت خراب ہوتی ہے جس  کاانہیں کافی تجربہ رہا ہے ۔ waseem-akam-01 انہوں نے نوجوانوں کو صلاح دی کہ وہ اپنے بڑوں کی باتوں کو مان کر معمولی رفتار میں گاڑی چلائیں کسی کی بات میں آکر جلدی نہ کریں ۔اس لئے کہ جب ہماری غلطی سے حادثہ ہوتا ہے تو پھر اس وقت پچھتانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوتاہے۔انہوں نے خود اپنی بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود جس کے لئے جلدی اور تیز رفتاری سے گاڑی پر آرہے تھے وہی (منگیتر) آج  ان کے ساتھ نہیں ہے اس لئے کہ حادثہ کی وجہ سے  اس نے ان کے ساتھ نباہ کرنے سے انکار کر دیا  ، لیکن انہوں نے اس کو ایک چیلنج کے طور پر لیا اور اپنے پیروں پر کھڑا ہوکر دکھا یا۔ انہوں نے نوجوانوں کو یہ بھی کہا کہ وہ کسی منزل پر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اپنی محنت سے مایوس نہ ہوں بلکہ حالات کیسے بھی ہوں محنت کریں اور کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے بغیر اللہ تعالی ٰ سے مانگیں ۔ کیوں کہ آپ کی محنت ضرور رنگ لائے گی۔ انہوں نے آخر میں اپنے لئے دعا کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اب تک میرے چوبیس آپریشن ہوئے ہیں اور اب آخر ی آپریشن باقی ہے جس کے لئے آپ لوگ دعا کریں۔