تبصرہ کتب ۔۔۔ تحریر : ملک نواز احمد اعوان

05:03PM Tue 11 Jul, 2017

نام کتاب : بیتال پچیسی مصنف : مظہر علی خاں ولا تفہیم، تسہیل‘ تحشیہ : ڈاکٹر بصیرہ عنبرین صفحات : 174 ناشر : دارالنوادر، الحمد مارکیٹ اردو بازار لاہور تقسیم کنندگان : کتاب سرائے، فرسٹ فلور، الحمد مارکیٹ غزنی اسٹریٹ، اردو بازار، لاہور فضلی بک سپر مارکیٹ مارکیٹ اردو بازار، کراچی فورٹ ولیم کالج کلکتہ (1800ئ) سے انگریز حکمرانوں کے حکم سے جو کتب شائع کی گئیں اُن میں یہ کتاب ’’بیتال پچیسی‘‘ بھی ہے۔ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین تحریرفرماتی ہیں: ’’سنسکرت الاصل داستان بیتال پچیسی کا شمار گل کرسٹ کی آغاز کی منتخب کردہ کتب میں ہوتا ہے جسے برج بھاشا میں ڈھالنے کی ذمہ داری مظہر علی خاں ولا کو سونپی گئی۔ ابتداً اس کتاب کا کچھ حصہ ہندی مینول میں چھپا۔1805ء میں فورٹ ولیم کالج سے بیتال پچیسی کی باضابطہ اشاعت سامنے آئی۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ سنسکرت میں بیتال کی یہ کہانیاں برھت کتھا منجری اور کتھا سرت ساگر کے نام سے موجود تھیں۔ شوداس نے ان میں سے پچیس کہانیاں انتخاب کرکے بیتال پنج ونشتگا کے عنوان سے شائع کروا دی تھیں۔ محمد شاہ کے زمانے میں جَے نگر کے حکمراں راجا جے سنگھ سوائی کے ایما پر سورتی مشر نامی شاعر نے ان کہانیوں کو برج بھاشا میں منتقل کیا۔ بعد ازاں فورٹ ولیم کالج کے تحت انگریز گورنر جنرل مارکوئز ولزلی کے زمانے میں گل کرسٹ کی فرمائش پر مظہر علی خاں ولاؔ نے للولال کوی کے تعاون سے ان کہانیوں کو اس وقت کی عام بول چال کی اردو زبان میں ڈھالا اور کوشش کی کہ ہر طبقۂ عوام اسے سمجھ سکے۔‘‘ متعدد بار یہ کتاب شائع ہوئی۔ اسی کی تسہیل و تفہیم اور تحشیہ نگاری ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے بخوبی کی ہے۔ بقول ڈاکٹر صاحبہ: ’’بیتال پچیسی کی تاریخی و ادبی حیثیت سے قطع نظر کرتے ہوئے محض علم و دانش کے تناظر میں دیکھیں تو بھی یہ ایک اہم حکایتی مجموعہ ہے۔ مختلف راجاؤں، مہاراجوں، جوگیوں، سنیاسیوں، رشیوں منیوں، دیوی دیوتاؤں اور بادشاہوںکی رعایا پروری کی ان مختصر کہانیوں سے بہت سے حکمت آموز زاویے مترشح ہیں۔ اس اہمیت کے پیش نظر بیتال پچیسی کی تسہیل و تفہیم اور تحشیہ نگاری پر مبنی اس اشاعت کے آخر میں راقمہ کا ایک مقالہ بھی بطور ضمیمہ شاملِ کتاب ہے۔ یہ بیتال پچیسی اور فورٹ ولیم کالج سے ہی پہلی بار شائع ہونے والی معروف داستان سنگھاسن بتیسی (از کاظم علی جوان۔ للولال کوی) کے حکمت آموز اسلوب کا احاطہ کرتا ہے۔ امید ہے کہ قارئین تفہیمِ متن کے سلسلے میں بیتال کی کہانیوں کے ساتھ ساتھ اس مقالے سے بھی لطف اندوز ہوں گے۔ کتاب مجلّد ہے اور نیوز پرنٹ پر طبع کی گئی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نام کتاب : غیب و شہود سرآرتھراسٹینلے اڈنگٹن کے خطبۂ سوارتھ مور1929 ء کا اردو ترجمہ مترجم : سید نذیر نیازی صفحات : 84 قیمت 100 روپے ناشر : ڈاکٹر تحسین فراقی، ناظم مجلس ترقی ادب 2 کلب روڈ۔ لاہور فون : 042-99200856,99200857 ای میل : majlista2014@gmail.com ویب گاہ : www.mtalahore.com ۔1930ء کے انگریزی طبع پنجم پر جو دیباچہ دیا گیا تھا اُس کا اردو ترجمہ سید نذیر نیازی نے کیا ہے جو درج ذیل ہے ’’سوارتھ مور لیکچر شپ(Swarthomre Lectureship) کی بنیاد 7 دسمبر 1907ء کو رکھی گئی’وڈبروک ایکس ٹینشن کمیٹی‘ (Woodbrooke Extension Committee) کے ایک اجلاس میں۔ قرارداد یہ تھی کہ ہر سال خطبہ کا موضوع کچھ ایسا ہو جس سے پتا چل سکے کہ ’مجلس احباب‘(Society of Friends) کی دعوت کیا ہے اور وہ اس کے پیش نظر کیا خدمت سرانجام دے رہی ہے۔ ’سوارتھ مور‘ کا نام مارگریٹ فاکس (Margaret Fox) کے گھر کی یاد میں تجویز کیا گیا جو ہر ’جویائے حق‘ کے لیے شب و روز کھلا تھا اور جس سے رفقائے کار کو خلوص اور ہمدردی کے محبت بھرے جذبات کے ساتھ ساتھ مالی امداد بھی ملتی رہتی۔ ان خطبات کے سامنے دو مقصد ہیں۔ ایک تو یہ کہ ارکانِ ’مجلس‘ کے لیے خود ان کی دعوت اور ان کے پیغام کی تشریح ہوتی رہے۔ ثانیاً یہ کہ ’احباب‘ کے اندر جو روح کام کررہی ہے دوسروں کو بھی اس سے شناسا کیا جائے۔ انہیں معلوم ہو ’احباب‘ کے اغراض و مقاصد کیا ہیں اور بنیادی اصول کیا۔ ہر خطبے کے لیے شام کا وقت مقرر تھا۔ اگلے روز ’احباب‘ کا سالانہ اجلاس منعقد ہوتا۔ زیرنظر خطبہ ’دارالاحباب‘ (Friends House) لندن میں 1929ء کے سالانہ اجتماع سے قبل شام کو دیا گیا۔‘‘ غیب و شہود اڈنگٹن کے ایک خطبے ’’سائنس اور عالمِ غیب‘‘ کا ترجمہ ہے جو مجلسِ ترجمہ۔ ۔ ۔ اب مجلسِ ترقی ادب کے ایما سے کیا گیا ہے۔ اس خطبے کا موضوع یہ ہے کہ ہمارے مؤقف علم کا تقاضا ہے کہ وارداتِ مذہب کو بھی علم کا ایک سرچشمہ ٹھیرایا جائے اور پس منظر مذہب، فلسفہ اور سائنس ہے۔ مجلس ترقی ادب کے تحت یہ اس کی تیسری اشاعت ہے۔ یہ علمی کتاب ہے، ایسی کتب پڑھنے والے مخصوص لوگ ہوتے ہیں، اس لیے ایسی کتب کا بازار میں موجود رہنا علم و ادب اور فکر و تدبر کے لیے ضروری ہے۔ کتاب سفید کاغذ پر عمدہ طبع ہوئی ہے۔ مجلّد ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نام کتاب : سیکولرزم آغاز،ارتقا، اسلامی زندگی پر اثرات مصنف وتحقیق : ڈاکٹر سفرالحوالی حفظہ اللہ مترجم : محمد زکریا رفیق حفظہ اللہ صفحات : 552 قیمت1000 روپے ناشر : کتاب سرائے،الحمدمارکیٹ،غزنی اسٹریٹ ،اردو بازار لاہور فون نمبر : 042-37320318 ملنے کا پتا : فضلی بک سپر مارکیٹ، اردوبازار کراچی فون نمبر : 021-32212991+ 021-32629724 مغرب نے اللہ فراموشی کے بعد جو فلسفے گھڑے ہیں جنہوں نے انسان اور انسانیت کی اینٹ سے اینٹ بجادی ہے اُن میں ایک فلسفۂ سیکولرزم ہے۔ یورپی زبانوں میں اس فلسفے پر موافق و مخالف بے شمار لٹریچر موجود ہے۔ اسی طرح اسلامی زبانوں میں بھی اس پر بہت کچھ لکھا جارہا ہے۔ حقیقت کو ویسے ہی جاننا جیسی وہ ہے، بہت ضروری ہے۔ مغرب سے آنے والے فلسفوں سے مسلم اہلِ علم مسلم عوام کو آگاہ کرنے کے لیے دن رات مصروف ہیں۔ اردو میں بھی کافی مطبوعات بازار میں ہیں جو علمی طور پر ان سے آگاہ کررہی ہیں۔ اسی سلسلے میں ڈاکٹر سفربن عبدالرحمن الحوالی کا یہ ایم اے کا مقالہ جو مدینہ یونیورسٹی میں جناب محمد قطب ؒ کی زیرنگرانی لکھا گیا، اس کا عربی سے اردو میں ترجمہ جناب محمد زکریا رفیق نے کردیا ہے۔ اس طرح اس کے محتویات اب اردو داں حضرات کی دسترس میں آگئے ہیں۔ کتاب بیس ابواب پر مشتمل ہے۔ عربی زبان میں ’’علمانیہ‘‘ سیکولرزم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جناب محمد زکریا رفیق تحریر کرتے ہیں: ’’شریعتِ اسلامی انسانی زندگی کے لیے دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ یہ تین بنیادی علوم ’’عقیدہ، تزکیۂ نفس اور فقہ‘‘ پر مشتمل ہے جو انفرادی و اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہیں۔ شریعت جیسی عظیم نعمت اُس وقت تک کماحقہٗ فائدہ نہیں دیتی جب تک اُس کو اپنے دور کے حالات پر منطبق نہ کیا جائے۔ موجودہ دور میں شریعت کے انطباق کا سب سے بڑا موضوع مغرب کے افکار، تہذیب، علوم و فنون، نظام اور طرزِ زندگی ہے۔ موجودہ دور میں شریعت کی روشنی میں مغربی تہذیب کا فہم حاصل کیے بغیر ہم شریعت کے تقاضوں کو بجا لانے کے قابل نہیں ہوسکتے۔ تعلیم، تربیت، دعوت، احیائے دین، شرعی سیاست اور جہاد کے تمام تر معاصر مناہج کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ ہم اپنے دور کی غالب تہذیب کا فہم کس قدر جامع و مانع طریقے سے حاصل کرتے ہیں۔ اسلام کے زوال اور شکست و ریخت کا صحیح اندازہ بھی اُس وقت ہوتا ہے جب ہم مخالف فکر کو تمام فکری و عملی پہلوؤں سمیت سمجھنے کی کوشش کریں۔ زیر نظر کتاب ’’العلمانیۃ، سیکولرزم‘‘ ڈاکٹر سفرالحوالی حفظہ اللہ کا ایم اے کا مقالہ ہے جو محمد قطبؒکی زیر نگرانی سعودی عرب کی مدینہ یونیورسٹی میں لکھا گیا۔ اس مقالے کو اپنی جامعیت، اختصار، سہل پن اور شرعی اسلوب کی وجہ سے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ چنانچہ اس موضوع پر کتابچوں، تلخیصات اور تفہیمات کی بھرمار ہوگئی۔ ممکنہ طور پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب ایک مستقل مکتبِ فکر کی بنیاد بن گئی جو مغربی فکر و عمل اور اسلامی فکری مسائل کو شرعی تناظر میں دیکھنے کا مستقل اور منظم ملکہ پیدا کرتی ہے۔ اس کتاب میں بتلایا گیا ہے کہ یورپ میں دینِ عیسائیت کے خلاف لادینیت کی فضا کیسے پیدا ہوئی اور پروان چڑھی۔ دین کے مقابل بڑے بڑے مکاتبِ فکر اور فلاسفہ کیسے پیدا ہوئے۔ یورپ کے نئے سیاسی، معاشی اور معاشرتی ڈھانچے کیسے وجود میں آئے۔ یورپ کی تہذیب مسلمانوں پر کیسے اثرانداز ہوئی اور وہ اپنے فکر و عمل میں کیسے مغرب سے متاثر ہوتے چلے گئے۔ اردو لٹریچر میں مغربی تہذیب کو سمجھنے کے لیے بہت قیمتی اور مفید مواد موجود ہے جو مختصر، سہل اور جامع و مانع بھی ہے اور منتہی طالب علموں کی تسکین کا سبب بھی۔ تاہم اس کتاب کی افادیت دو مقاصد کے تحت اردو لٹریچر میں ایک نیا اضافہ ہوسکتی ہے: (1) یہ کتاب اصلاً مبتدی طالب علموں کے لیے ہے جو مغربی فکر و تہذیب کو شروع سے ایک تاریخی تسلسل کے تحت سمجھنا چاہتے ہیں۔ یہ کتاب زندگی کے تمام پہلوؤں پر مغرب کے تمام بڑے بڑے مکاتبِ فکر پر محیط ہے۔ تاریخی تسلسل اور جامعیت کا اسلوب لائقِ تحسین ہے۔ (2) سیکولرزم کے منتہی طالب علموں کے لیے اس کتاب میں اہم چیز شرعی نقد کا وہ خاص اسلوب ہے جو اردو دان طبقے کے لیے نیا ہے لیکن شرعی علماء کی دنیا میں مشہور و معروف ہے۔ ڈاکٹر سفر نے اس کتاب کے اندر مغربی افکار کا فہم پیش کیا ہے اور ساتھ ساتھ نقد و جرح بھی۔ اردو زبان میں مغربی فکر و فلسفہ کو بیان کرنے والے حضرات کی فہرست بڑی طویل ہے، لیکن ان میں شرعی نقد کی صلاحیت رکھنے والوں کی تعداد گنی چنی ہے۔ ڈاکٹر سفر کی تنقید داخلی بھی ہے اور خارجی بھی۔ داخلی تنقید کے تحت وہ مغربی افکار کا رد مغربی مفکرین کے اقوال سے کرتے ہیں۔ جیسے لبرل ڈیموکریسی کے عیوب کو لاسکی وغیرہ کے افکار سے واضح کیا گیا۔ اسی طرح مختلف مکاتبِ فکر کے ارتقا میں ہر بعد والا مکتبِ فکر پہلے مکتبِ فکر کی تغلیط کرتا ہے جیسے فزیو کریسی کا ردّ کلاسیکل سرمایہ داروں نے کیا، اور سرمایہ داروں کا ردّ سوشلسٹ مفکرین نے کیا وغیرہ۔ مغربی فکر پر نقد کا ایک اسلوب یہ بھی ہے کہ مغربی افکار کے مغربی معاشرے پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جائے۔ ڈاکٹر سفر نے اس کا مسلسل اہتمام کیا ہے۔ ڈاکٹر سفر کی خارجی تنقید شریعت کی روشنی میں ہے جو فقہی محاکمہ کے بجائے عقیدے کی روشنی میں پیش کی گئی۔ یقینا عقیدے کی روشنی میں سیکولرزم کا محاکمہ بہت قیمتی اور اعلیٰ چیز ہے، لیکن فنِ عقیدہ کی زبان، اسلوب اور مزاج برصغیر کے علمی طبقے کے لیے اجنبی ہے۔ اس اجنبیت کو دور کرنے کے لیے آخری باب کے شروع میں عقیدے کی اصطلاحات کا تعارف پیش کیا گیا ہے جس سے عقیدے کا محاکمہ سمجھنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر باب کے آخر میں اہم اصطلاحات کو تحریر کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سفر الحوالی کا اسلوبِ تحریر مؤرخانہ اور صحافیانہ ہے۔ انھوں نے خالص فلسفیانہ لب و لہجہ استعمال نہیں کیا، البتہ مغرب کے مکاتبِ فکر کو اُن کے فنی ناموں کے ساتھ بیان کیا ہے جس کی وجہ سے مغربی فکر کا مطالعہ انگلش کتابوں سے کرنا آسان ہوجاتا ہے اور عالمی فکر کے ساتھ تعلق استوار ہوجاتا ہے۔ بعض لوگوں نے مغربی فکر پر تنقید ایسے ذاتی وضع کردہ اسلوب کے تحت کی جو فقط اُن کے ساتھ خاص تھا اور اس کے ذریعے سے عالمی انگلش فکری ورثے کے ساتھ تعلق استوار نہ کیا جاسکتا تھا۔ اسی طرح بعض لوگوں نے مغربی فکر پر ایسی شرعی تنقید کی جو اہلِ سنت و جماعت کے عقیدے و فقہ کی تاریخی زبان پر مشتمل نہ تھی۔ یہ اسلوب بھی قابلِ اتباع نہیں۔ ترجمہ کا کام درحقیقت دو بڑی قوموں کا باہمی تبادلہ خیال اور ایک دوسرے کی تاریخی علمی روایت سے فائدہ اٹھانا ہوتا ہے۔ اس کتاب کے ذریعے ہم دیکھتے ہیں کہ اہلِ عرب عالمی مغربی فکر کو کس شعور اور گہرائی کے ساتھ سمجھتے ہیں اور ان کی فکری گہرائی کے ماخذات و مراجع کیا ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر سفر کی فکر کے ماخذات علمی سطح پر کس درجے کے ہیں کہ ان کے کام پر اعتماد کا مظاہرہ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ عربی زبان مغربی فکر و فلسفہ کو سمجھنے میں اردو زبان سے بہت آگے ہے۔ ول ڈیورانٹ کی چالیس جلدوں پر مشتمل شہرۂ آفاق کتاب Story of Civilization کا عربی ترجمہ قصۃ الحضارۃ کے نام سے 1980ء سے بھی پہلے شائع ہوگیا تھا جو سیکولرزم کی تاریخ لکھنے میں ایک بنیادی ماخذ ہے۔ عربی میں تاریخ فلسفہ پر آٹھ جلدوں پر مشتمل ایک بڑا کام معرضِ وجود میں آچکا ہے۔ عربی کا سب سے مشہور انسائیکلوپیڈیا الموسوعۃ العربیۃ العالمیۃ (World Arabic Encyclopedia) مغربی فکر و فلسفے کی تشریح و توضیح میں اردو کے چند گنے چنے انسائیکلوپیڈیاز سے بہت آگے ہے۔ اردو میں بھی فلسفہ کی ڈکشنری پر کام ہوچکا ہے لیکن عربی کی فلسفیانہ ڈکشنریاں تعداد میں زیادہ اور وسعت کی حامل ہیں۔ مغربی فکر و فلسفہ پر عربی کی سیکڑوں فنی کتب انٹرنیٹ (مثلاً kt-b.org وغیرہ) پر موجود ہیں جن کا اردو زبان میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ عربی زبان میں مغربی فکر و فلسفہ کو سمجھنے کے وسائل و ماخذات اردو سے زیادہ ہیں۔ ڈاکٹر سفرالحوالی کے ماخذات ان کی کتاب کے آخر میں پیش کیے گئے ہیں جو حقیقت میں وسیع و عریض بھی ہیں اور فکری نقد کے حامل بھی۔ عربی کتاب ان کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کی جاسکتی ہے۔ (www.alhawali.com)‘‘ ڈاکٹر سفرالحوالی سیکولرزم پر مقالہ لکھنے کی وجہ بیان کرتے ہیں: ’’اگرچہ میں کوئی بھی فکری مذہب اپنے مقالہ کے لیے چن سکتا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے سیکولرزم اور اس کے اثرات کا مضمون چننے کی راہنمائی کی۔ اس کے کئی اسباب تھے جن میں سے چند ایک یہ ہیں: (1) یہ بات ایک حقیقت ہے کہ عوام تو ایک طرف رہے، اکثر پڑھے لکھے لوگ بھی سیکولرزم کے حقیقی مفہوم میں الجھن کا شکار ہیں۔ کمیونزم اور سوشلزم عالمی سطح پر زوال پذیر ہوئے اور کئی افراد نے ان کی حقیقت کھول کھول کر بیان کی، پھر بھی سیکولرزم ترقی کررہا ہے۔ اور یہ ترقی کہیں تو اس کے صریح نام کے ساتھ ہورہی ہے یا مختلف نعروں کے ذریعے جیسے جمہوریت، دین اللہ تعالیٰ کے لیے اور وطن سب کے لیے، سیاست میں کوئی دین نہیں اور دین میں کوئی سیاست نہیں۔ وغیرہ (2) سیکولرزم ایک مکمل مغربی فکر ہے جو دین کو زندگی سے الگ قرار دیتی ہے۔ آج کی اسلامی دنیا اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں سیکولرزم کو برداشت کررہی ہے، اگرچہ اسلامی دنیا میں سیکولرزم اس مکمل اور ننگی شکل میں موجود نہیں جیسا کہ یورپ میں ہے۔ مشرق و مغرب، عالمِاسلام اور عالمِ مغرب میں سیکولرزم کے زندہ وجود نے میرے لیے راستہ ہموار کیا کہ میں اس موضوع کو اختیار کرو۔ میرا خیال ہے کہ ماہرین اس مضمون کی تدریس کو لازم کریں۔ وہ سیکولرزم کے کھوٹے پن کو واضح کریں اور سیکولرزم کو اسلام کے صحیح مفہوم کے مطابق روشن کریں جو لاالٰہ الا اللہ کے تقاضوں کے برعکس ہے۔‘‘ ڈاکٹر سفرالحوالی نے مقالے کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ ٭ پہلا حصہ: یورپ کے سابقہ دین کا تعارف، جس سے منحرف ہوکر اس نے لادینیت اختیار کی۔ ٭ دوسرا حصہ: سیکولرزم کے اسباب ٭ تیسرا حصہ: یورپی زندگی میں سیکولرزم یہ اس مقالے کے موضوع کا بنیادی حصہ ہے، اس کو چھے ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ٭ چوتھا حصہ: اسلامی زندگی میں سیکولرزم کی ابتدا ٭ پانچواں حصہ: اسلام میں سیکولرزم کا حکم یہ کتاب سیکولرزم کے موضوع پر عمدہ تحقیق ہے۔ بالخصوص اسلام کے حوالے سے اس خیال کی درجہ بندی اور مقام کا تعین عمدگی سے بیان کیا گیا ہے۔ اس موضوع کی اہمیت اور مسلم امت کے لیے ان فلسفوں کی خطرناکی کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ اردو زبان میں ایک قیمتی کتاب کا اضافہ ہوا ہے۔ کتاب مجلّد ہے۔

بہ شکریہ : فرائیڈے اسپیشل www.akhbaroafkar.com