چین کے شئیر بازار میں دوسرے روز بھی شدید مندی
10:22AM Tue 25 Aug, 2015
بھٹکلیس نیوز / 25 اگست، 15
چینی بازار حصص میں مندی کا رجحان دوسرے روز بھی بدستور قائم ہے جبکہ ایشیا کے دوسرے بازاروں میں گذشتہ روز عالمی بازار حصص میں آنے والی گراوٹ کے بعد اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔چین کے بازارِ حصص شنگھائی کمپوزٹ میں منگل کو مزید 3.2 فی صد کی کمی واقع ہوئی جبکہ پیر کو یہ بازار ڈرامائی طور پر ساڑھے آٹھ فی صد گر گیا تھا۔گزشتہ روز یورپ اور امریکہ کے سٹاکس میں بھی شدید مندی دیکھی گئی۔عالمی طور پر اس مندی کی وجہ چینی معیشت کی ترقی کی رفتار میں سست روی کا خوف تھا کہ اس کی وجہ سے عالمی معیشت میں گراوٹ آ جائے گی۔
صارفین اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ جو کمپنیاں چین پر زیادہ انحصار کرتی ہیں وہ اس رجحان سے متاثر ہوں گی کیونکہ چین دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے اور سامان تجارت اور تجارتی خدمات برآمد کرنے میں بھی دوسرے نمبر پر ہے۔
چین کے مرکزی بینک نے ملک کی کرنسی ’یوان‘ کی قدر میں دو ہفتے قبل کمی کی تھی جس سے ان خدشات کو تقویت ملی کہ ملکی معیشت میں آنے والی سست روی اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔ایشیا کے دوسرے بازاروں میں ماہرین کی امید کے برخلاف مندی کے بعد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق گزشتہ روز کی شدید مندی کے بعد منگل کو کراچی سٹاک ایکسچینج میں دن کا آغاز مثبت انداز میں ہوا اور انڈیکس تین سو پوائنٹس کے اضافے پر شروع ہوا، تاہم بعد میں عالمی منڈیوں میں جاری مندی کا اثر ہوا جس سے انڈیکس ایک بار پر گرنا شروع ہوگیا ۔ اس وقت 33 ہزار دو کی سطح پر کاروبار ہو رہا ہے۔
پاکستان میں روپے کی قدر بھی ڈالر کے مقابلے میں مستقل گر رہی ہے اور منگل کو انٹر بینک میں ڈالر 104 روپے 30 پیسے میں فروخت کیا جارہا ہے۔ادھر ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈکس میں 2.6 فی صد کا اضافہ درج کیا گیا جبکہ آسٹریلیا کے ایس اینڈ پی اے ایس ایکس/200 میں 2.2 فی صد کا اور جاپان کے نیکيئی 255 انڈکس میں 0.7 فی صد کا اضافہ دیکھا گیا۔خیال رہے کہ یہ اضافہ رات یورپ اور امریکہ میں مندی کے باوجود ہوا ہے۔
غیر مستحکم ٹریڈنگ میں وال سٹریٹ کےڈاؤ جونز میں چھ فی صد کی کمی آئی تھی لیکن بعد میں یہ 3.6 فی صد پر بند ہوا۔
اس سے قبل لندن کا فٹسی 100 انڈکس 4.6 فی صد کی مندی پر بند ہوا جبکہ فرانس اور جرمنی کے بازار حصص میں بالترتیب 5.5 اور 4.96 فی صد کی مندی دیکھی گئی۔
بھارت کا بازار حصص بھی اس سے متاثر نظر آیا اور اس میں تقریباً چھ فی صد کی کمی دیکھی گئی جو کہ گذشتہ سات سال میں سب بڑی کمی ہے۔