کورونا کے بڑھتے معاملوں کے لیے تبلیغی جماعت کو ذمہ دار ٹھہرانا بے بنیاد: سائنسداں

11:49AM Sat 11 Apr, 2020

ہندوستان میں کورونا وائرس کے بڑھتے اثرات کے درمیان تبلیغی جماعت کے اس جلسہ کو کچھ لوگ لگاتار مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں جو ملک میں لاک ڈاؤن کے اعلان سے ٹھیک پہلے نظام الدین میں منعقد ہوا تھا۔ کئی ریاستوں میں تو لگاتار ایسی خبریں شائع ہو رہی ہیں جس میں کورونا پازیٹو مریضوں کی تعداد بتانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ان میں کتنے مریضوں کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے۔ لیکن سائنسدانوں کے ایک گروپ نے اپنی تحقیق میں تبلیغی جماعت پر حملہ کو بے بنیاد ٹھہرایا ہے۔
 سائنسدانوں کے گروپ 'انڈین سائنٹسٹس رسپانس ٹو کووڈ-19' (آئی ایس آر سی) کا کہنا ہے کہ دستیاب اعداد و شمار ان دعووں کی حمایت کرتے ہوئے نظر نہیں آ رہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس (کووڈ-19) پھیلاؤ کے لیے بنیادی طور پر تبلیغی جماعت کے لوگ ذمہ دار ہیں۔ مہلک وبا کورونا کے بارے میں مصدقہ جانکاری فراہم کرنے اور افواہوں سے پردہ ہٹانے والے گروپ آئی ایس آر سی نے اس بات کو لے کر فکر بھی ظاہر کی ہے کہ کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس اور سیاسی لیڈروں نے تبلیغ جماعت کے معاملے میں شروعاتی طور پر جھوٹ بولا۔
 قابل ذکر ہے کہ وزارت صحت نے اس مہینے کے شروع میں اشارہ دیا تھا کہ ہندوستان کے ایک تہائی کورونا معاملوں کو تبلیغ جماعت کے جلسہ سے جوڑا جا سکتا ہے۔ لیکن آئی ایس آر سی نے نسلی، مذہبی یا ذات کی سطح پر کورونا وائرس کے معاملوں کی پروفائلنگ نہ کرنے کو لے کر عالمی صحت ادارہ (ڈبلیو ایچ او) کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "ہم وبا کو مذہبی فرقہ پرستی سے جوڑنے والی کسی بھی کوشش کی سخت مذمت کرتے ہیں۔" سائنسدانوں کے اس گروپ نے وزارت صحت کے دستاویز کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "کووڈ-19 کے پھیلنے کے لیے کسی طبقہ یا علاقہ کو ذمہ دار نہ ٹھہرائیں۔"
 تبلیغی جماعت کے جلسہ میں شامل لوگوں اور ان کے رابطے میں آئے اشخاص کے کورونا ٹیسٹ کی کوئی مصدقہ جانکاری نہ ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے آئی ایس آر سی نے کہا کہ حکومت نے اس پروگرام میں موجود لوگوں اور ان کے رابطہ میں آنے والوں کے درمیان کتنے ٹیسٹ کیے، اس بارے میں کوئی ڈاٹا جاری نہیں کیا۔ ایسے میں ہم یہ نہیں جانتے کہ اس معاملے میں پازیٹو پائے جانے والے ٹیسٹ کا اثر عام آبادی پر ٹیسٹ کے مقابلے میں کیسے ہوتا ہے۔ آئی ایس آر سی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس سلسلے میں تفصیلی ڈاٹا جاری کرے۔