طلاق ثلاثہ بل مسلمانانِ ہند کو منظور نہیں جمہوری قدروں کی پاسداری مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے : مولانامحمدعمرین محفوظ رحمانی

02:52PM Wed 28 Feb, 2018

مسلم وومن پروٹیکشن بل کے نام سے مسلمان عورتوں کی ہمدردی کے عنوان پر جوبل لوک سبھا سے منظور کروالیا گیا ہے اور اب راجیہ سبھا میں معلق ہے اس کے بارے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا واضح موقف یہ ہے کہ یہ بل شریعت اور آئینِ ہند سے ٹکرارہا ہے، اور مسلمان عورتوں کو سخت تکلیف اور دشواری سے دوچار کردینے والا ہے، اس لئے یہ بل مسلمانان ہند کے لئے قابل قبول نہیں ہے، ان جملوں کا اظہار آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈکے سکریٹری حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب نے جے پور میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے منعقد کی گئی پریس کانفرنس میں کیا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ طلاق ثلاثہ بل میں ایک طرف یہ بات کہی گئی ہے کہ بیک وقت تین طلاق دینے سے طلاق ہوگی ہی نہیں، اور پھر اس کے آگے یہ بات بھی لکھی گئی ہے کہ تین طلاق دینے والے کو تین سال کی سزاہوگی اور اسے جرمانہ دینا ہوگا، سوال یہ ہے کہ جب طلاق ہوئی ہی نہیں تو اس پر سزا کاکیا مطلب ہے؟اس بل کے ذریعہ مسلمان عورتوں کی پریشانی اور دشواری بڑھ جانے کے سلسلے میں تفصیل بتلاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب شوہر کو تین سال کی سزا ہوجائے گی اور وہ جیل چلا جائے گاتو اس کی بیوی بچوں کی کفالت کون کرے گا؟اس کی بیوی رہے گی کہاں ؟اس لئے کہ جس شوہر کو بیوی کی شکایت پرجیل بھیج دیا گیاہے اس کے گھر والے اس عور ت کو اپنے گھر میں برداشت نہیں کریں گے اور پھر شوہر تین سال کی جیل کاٹ کر واپس آئے گا تو وہ بھی ایسی عورت کو قبول نہیں کرے گا ،جس نے اسے تین سال کیلئے جیل بھجوادیا تھا، اس طلاق ثلاثہ بل کے ذریعہ خاندانی نظام تباہ ہوگا، بلاوجہ مسلمان شوہروں کو ہراساں کیا جائے گااور کسی بھی غیر متعلق فرد کی شکایت پر کسی شادی شدہ مسلمان شخص کو جیل بھیج دیاجائے گا،اس لئے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا یہ مطالبہ ہے کہ اس بل کو راجیہ سبھا میں پیش نہ کیا جائے، اس بل کی نہ کل کوئی ضرورت تھی نہ آج کوئی ضرورت ہے، یہ بل مسئلہ کو حل کرنے والا نہیں ہے بلکہ مزیدمسائل پیدا کرنے والا ہے،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی آواز پر پورے ملک میں مسلم خواتین کے خاموش احتجاجی جلوس نکالے جارہے ہیں، مالیگاؤں ،مونگیر،بھوپال،ممبئی،جالنہ،پٹنہ،لاتوراوراجین وغیرہ میں لاکھوں کی تعداد میں مسلم خواتین نے خاموش ریلی نکال کر یہ بات واضح کردی ہے کہ مسلم خواتین مسلم پرسنل لا کا تحفظ چاہتی ہیں، اور وہ شرعی احکامات اورقوانین سے پوری طرح مطمئن ہیں، اور اب آنے والے کل (۲۸؍فروری)کو جے پور میں بھی ایک بڑی ریلی نکالی جارہی ہے، جو چار دروازہ سے روانہ ہوکر مسلم مسافر خانہ تک جائے گی، اور وہاں بورڈ کے ذمہ داران اور ارکان ریلی سے خطاب کریں گے،خواتین کی اس ریلی کی قیاد ت حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی صاحب (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ)فرمائیں گے۔ اس پریس کانفرنس میں حیدرآباد سے آئی ہوئی بورڈ کی ورکنگ کمیٹی کی ممبر ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ،چنئی سے آئی ہوئی بورڈ کی ممبر فاطمہ مظفر صاحبہ،اور جے پورسے بورڈ کی ممبریاسمین فاروقی صاحبہ نے بھی اظہار خیال کیا،ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ نے کہا کہ طلاق مسلمان عورتوں کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلاوجہ اس کو ایشو بنایا جارہا ہے، اور مسلمان عورتوں کو پریشان کیا جارہاہے، انہوں نے حوالہ دیا کہ چند عورتوں کے نام پر قانون سازی کی کوشش کرنے والوں کو سمجھنا چاہئے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تقریبا پونے تین کروڑ مسلمان عورتوں نے اپنے دستخط کے ساتھ اس بات کا اعلان کیا ہے کہ ہم شریعت سے مطمئن ہیں ، اس لئے ہمیں شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کا موقع دیاجائے، فاطمہ مظفر صاحبہ نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل لاگو کرکے ہم سے ہمارا وہ حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے جو آئین ہند میں ہمیں دیاگیا ہے، جب آئین ہند میں ہمیں اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ ہم اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزاریں تو اس حق کو چھیننا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔ محترمہ یاسمین فاروقی صاحبہ نے جے پور کی خواتین ریلی سے متعلق تفصیل بتائی اور صحافی حضرات کا شکریہ ادا کیا۔